Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اسداویسی کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست

اسداویسی کیخلاف ایف آئی آر درج کرنے کی درخواست

نئی دہلی 5 اگسٹ (پی ٹی آئی) عدالت نے دہلی پولیس سے کہا ہے کہ وہ صدر ایم آئی ایم اسدالدین اویسی کے خلاف کی گئی کارروائی اے ٹی آر ایکشن ٹیکن رپورٹ داخل کریں۔ اسدالدین اویسی کے خلاف دونوں گروپس کے درمیان فساد، دشمنی کا باعث بننے والی تقاریر پر عدالت میں شکایت درج کی گئی تھی۔ درخواست گذار کی جانب سے عدالت کے قبل ازیں احکامات کی تعمیل کے تئیں اطلاع دیئے جانے کے بعد عدالت کے یہ احکامات سامنے آئے۔ درخواست گذار نے صدر ایم آئی ایم اسدالدین اویسی کے قابل اعتراض تقاریر اور دیگر مواد کی ریکارڈنگ کی کاپی کو پولیس کو مہیا کیں۔ چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ منیش مرکن نے پولیس رپورٹ ادخال کی تاریخ 7 اگسٹ مقرر کی ہے۔ عدالت کے احکام کی روشنی میں کاراول نگر دہلی پولیس اسٹیشن کے عہدیداروں نے قبل ازیں اپنے موقف کی وضاحت کرنے کے لئے ایک رپورٹ داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ درخواست گذار کی جانب سے پولیس کو صدر مجلس اویسی کے قابل اعتراض بیانات کی ریکارڈنگ کی کاپی بھی مہیا نہیں کی گئی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درخواست گذار برجیش چند شکلا قومی صدر سوراج جنتا پارٹی نے اسدالدین اویسی کے مبینہ ریمارکس کے ثبوت کے طور پر کسی بھی ایک شخص کو پیش نہیں کیا جس نے ان ریمارکس کو سنا ہو۔ درخواست گذار نے 13 مارچ کو ایک درخواست داخل کرتے ہوئے شکایت کی تھی کہ اسدالدین اویسی نے رضاکارانہ طور پر یہ بات کہی ہے کہ ’’اگر کوئی مجھ پر چھرا تان دے تب بھی میں بھارت ماتا کی جئے نہیں کہوں گا‘‘۔ اس سے اسدالدین اویسی کے ملک کے تئیں عدم فرمانبرداری اور دشمنی کے احساسات اُجاگر ہوتے ہیں۔ قبل ازیں درخواست گذار کے وکیل نے کہا تھا کہ یہ معاملہ تعزیرات ہند کی دفعہ 124A (بغاوت) کے تحت آتا ہے جبکہ اویسی ان کے بیانات کے ذریعہ ملک کے تئیں عدم وفاداری اور عدم دلچسپی کا اظہار کرتے ہیں۔ درخواست میں عدالت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ پولیس کو تعزیرات ہند کی دفعات 124A (بغاوت + فساد) اور 153A (دونوں گروپس کے درمیان مذہب کی بنیاد پر دشمنی کو ہوا دینا) کے تحت او پی کے خلاف ایف آئی آر داخل کرنے کی ہدایت دیں۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حیدرآباد ایم پی ملک (ہندوستان) کے تئیں وفادار نہیں ہیں اور وہ (اسدالدین اویسی) ملک کی نیک نامی کو متاثر کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اسد اویسی بغاوت کے مورد الزام ٹھہرائے جاسکتے ہیں۔ درخواست میںکہا گیا ہے کہ یہ صحیح ہے کہ ہمارا دستور ہم کو بھارت ماتا کی جئے کہنے پر مجبور نہیں کرتا ہے تاہم دستور اس بات کی اجازت بھی نہیں دیتا کہ کوئی یہ کہے کہ ’’کوئی میری گردن پر چھری رکھ دے تب بھی میں بھارت ماتا کی جئے نہیں بولوں گا‘‘۔ درخواست گذار نے کہاکہ اس نے اس سلسلہ میں دہلی پولیس سے شکایت درج کروائی تاہم کوئی کارروائی نہیں کئے جانے پر وہ عدالت سے رجوع ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT