Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اسد اللہ کو اہم عہدہ کی راہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود رکاوٹ

اسد اللہ کو اہم عہدہ کی راہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود رکاوٹ

نائب صدر نشین و ایم ڈی اقلیتی کارپوریشن عہدہ کے لیے غیر مسلم عہدیدار کے نام کی تجویز
حیدرآباد۔17 اپریل (سیاست نیوز) اقلیتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے حکومت کلین امیج رکھنے والے عہدیداروں کو ان اداروں پر فائز کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے لیکن محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلی عہدیدار حکومت کی اس کوشش میں اہم رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائرکٹر کے عہدے کے لیے سابق چیف ایگزیکٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ کے نام کی مخالفت کی ہے اور ان کی جگہ ایک اور سرکاری محکمہ کے غیر مسلم عہدیدار کا نام چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کیا ہے۔ واضح رہے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے سید عمر جلیل نے اپنی دلچسپی سے متعلق کئی اداروں کے حق میں وقف بورڈ سے احکامات جاری کرائے تھے۔ اس سلسلہ میں چیف ایگزیکٹیو آفیسر محمد اسد اللہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ کئی ایسے فیصلے کرنے پر انہیں مجبور کیا گیا جو وقف قواعد کے برخلاف ہوں اور جن کے سبب بورڈ نے فیصلہ سے دستبرداری کی قرارداد منظور کی۔ جب تک سکریٹری اقلیتی بہبود کو اپنی پسند اور دلچسپی کے اداروں اور افراد کے حق میں فیصلے کرنا تھا تو انہوں نے اسد اللہ کو اپنے اعتماد میں رکھا اور وقف بورڈ سے احکامات کی اجرائی عمل میں لائی۔ اب جبکہ حکومت محمد اسد اللہ کو کسی اہم اقلیتی ادارے پر فائز کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے تو مبینہ طور پر عمر جلیل اس راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ افسوس اس بات پر ہے کہ جب اپنا مطلب مکمل ہوگیا تو آج وہ اسد اللہ کو اہم عہدہ دلانے کے لیے بھی تیار نہیں ہیں حالانکہ عہدہ دینا چیف منسٹر کا کام ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ سے خدمات واپس لینے سے متعلق اسد اللہ کی درخواست پر عمل آوری کے بعد انہیں کمشنر وقف سروے مقرر کیا گیا اور آج بھی وہ اس عہدے پر فائز ہیں۔ وقف بورڈ میں ان کی نمایاں خدمات کو دیکھتے ہوئے حکومت چاہتی ہے کہ انہیں کسی ایک اہم اقلیتی ادارے کی ذمہ داری دی جائے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے موجودہ منیجنگ ڈائرکٹر شفیع اللہ جو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری بھی ہیں، وہ اپنی سرگرمیوں کے باعث کارپوریشن کو زیادہ وقت دینے سے قاصر ہیں۔ لہٰذا حکومت انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ذمہ داری سے سبکدوش کرنا چاہتی ہے۔ حکومت نے اسد اللہ کی نمایاں خدمات کو دیکھتے ہوئے انہیں منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن مقرر کرنے کا من بنالیا ہے۔ تاہم اس معاملہ میں سکریٹری اقلیتی بہبود کی رکاوٹ ناقابل فہم اور افسوسناک ہے۔ صرف رکاوٹ ہی نہیں عمر جلیل نے اسٹاٹسٹکل ڈپارٹنمنٹ کے جوائنٹ ڈائرکٹر کے نام کی تجویز چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کردی ہے تاکہ اس غیر مسلم عہدیدار کا اقلیتی فینانس کارپوریشن پر تقرر کیا جائے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری نے انتہائی رازداری میں یہ تجویز چیف منسٹر کے دفتر کو روانہ کی۔ اسی دوران ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے عہدیداروں کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اسد اللہ کو اقلیتی فینانس کارپوریشن پر فائز کرنے کی تجویز پیش کی۔ تاہم بتایا جاتا ہے کہ اجلاس میں سکریٹری اقلیتی بہبود نے مختلف بہانے بازی کے ذریعہ ان کے نام کی مخالفت کی۔ اقلیتی اداروں پر اگر ایماندار اور دیانتدار عہدیداروں کا تقرر کیا جائے تو ان کی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ فینانس کارپوریشن کی اسکیمات پر موثر عمل آوری کے لیے حکومت محمد اسد اللہ کو کارپوریشن کی ذمہ داری دینا چاہتی ہے۔ جہاں تک سکریٹری اقلیتی بہبود کا سوال ہے وہ خود ایک سے زائد عہدوں کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ وہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود اور ویجلنس آفیسر اقلیتی فینانس کارپوریشن کے عہدوں پر بیک وقت فائز ہیں۔ سکریٹری اور عہدیدار مجاز وقف بورڈ کی حیثیت سے سید عمر جلیل نے جو متنازعہ فیصلے کیئے تھے ان کا وقف بورڈ جائزہ لے رہا ہے۔ لیکن ان کی جانب سے اسد اللہ کی مخالفت خود محکمہ کے عہدیداروںمیں تشویش کا باعث بن چکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹری اقلیتی بہبود حکومت سے خواہش کررہے ہیں کہ انہیں اقلیتی بہبود سے بلدی نظم و نسق میں تبادلہ کیا جائے جہاں وہ پہلے بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT