Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ’اسد اویسی نے کانگریسی قائدین پر حملہ یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی‘

’اسد اویسی نے کانگریسی قائدین پر حملہ یا قانون کی خلاف ورزی نہیں کی‘

حیدرآباد ایم پی نے ٹولی کے ساتھ گشت نہیں کی
اکبر اویسی کے خلاف مقدمہ بند
ستیہ نارائنا کے بیان سے پولیس کے رول پر شبہات

حیدرآباد۔ 8 فروری (سیاست نیوز) ’’جی ایچ ایم سی انتخابات کے دوران پیش آئے مختلف تشدد کے واقعات میں ساؤتھ زون پولیس نے جملہ 15 مقدمات درج کئے ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ رکن پارلیمان حیدرآباد نے ٹولی کی شکل میں پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں کوئی گشت نہیں کی۔ محض مخالف مجلس نعرے بازی سے میر چوک علاقہ میں حالات کشیدہ ہوئے تھے‘‘۔یہ بیان مقامی جماعت کے کسی ترجمان کا نہیں بلکہ ایک دمہ دار پولیس افسر کا ہے ۔ اس بیان سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے پولیس عہدیدار کی حیثیت سے نہیں بلکہ مجلس کے ترجمان کی حیثیت سے بیان دیا ہے کیونکہ میرچوک پولیس کی ریمانڈ رپورٹ ڈی سی پی ساؤتھ وی ستیہ نارائنا کے موقف سے یکسر متضاد ہے ۔  ڈپٹی کمشنر پولیس ساوتھ زون وی ستیہ نارائنا نے بتایا کہ 2 فروری کو منعقدہ بلدی انتخابات کے دوران پیش آئے واقعات کے ضمن میں ساؤتھ زون پولیس نے مجلسی قائدین اور کارکنوں کے خلاف 9 مقدمات درج کئے ہیں جبکہ کانگریس اور بی جے پی کارکنوں کے خلاف 3، 3 مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پرتشدد واقعات میں ملوث 18 افراد کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جس میں رکن پارلیمان حیدرآباد اسدالدین اویسی بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رکن پارلیمان کے خلاف جملہ 2 مقدمات درج کئے گئے ہیں جس میں کانگریس قائدین پر حملہ کا واقعہ اور روزنامہ سیاست کے اسٹاف رپورٹر محمد مبشرالدین خرم کا کیس بھی شامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں اکبرالدین اویسی پر ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کے تحت درج کئے گئے مقدمہ کو شواہد کے نہ ہونے پر کیس بند کردیا گیا ہے۔ ڈی سی پی نے اپنے بیان میں بتایا کہ رکن پارلیمان اسدالدین اویسی نے بلدی انتخابات کے دوران کوئی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی ہے حتی کہ اپنے ہمراہ سینکڑوں حامیوں کو امتناعی احکامات کے باوجود پرانے شہر میں ٹولی کی شکل میں گشت کرنے کی اطلاع بے بنیاد ہے۔ ڈی سی پی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ کانگریسی قائدین پر اسدالدین اویسی نے حملہ نہیں کیا بلکہ حملہ آور نوجوانوں کو حملے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ اس کیس کے اہم ملزمین سید عبدہ قادری عرف کشف اور دیگر کی ریمانڈ رپورٹ میں پولیس نے یہ ادعا کیا ہے کہ اس کیس کے ملزم نمبر 1 رکن پارلیمان اسد اویسی نے امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹولی کی شکل میں حملے کئے۔

TOPPOPULARRECENT