Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / اسرائیلی نوآبادیات سے فلسطینی مملکت کے قیام کا تصور بھی محال

اسرائیلی نوآبادیات سے فلسطینی مملکت کے قیام کا تصور بھی محال

اسرائیل کیخلاف ووٹنگ میں امریکہ کی غیرحاضری حق بجانب
فلسطین سے مسلسل تصادم امریکہ و اسرائیل کے مفاد کیلئے خطرہ ، سی بی ایس کو امریکی صدر براک اوباما کا وداعی انٹرویو
واشنگٹن ۔16جنوری ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے صدر براک اوباما نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف قرارداد پر غیرحاضری کے فیصلہ کی مدافعت کرتے ہوئے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی بستیوں کی تیز رفتار تعمیر کے سبب ’’ایک موثر فلسطینی ریاست ‘‘ کے قیام کا تصور بھی دشوار ہوگیا ہے۔اوباما نے کہاکہ (مقبوضہ فلسطین میں) اسرائیلی بستیوں کی تعمیر میں اضافہ کے اس علاقہ میں امن و سلاتی پر دوررس اثرات مرتب ہوں گے ۔ اوباما نے سی بی ایس نیوز سے گزشتہ روز کہا کہ ’’اسرائیلی آبادیوں کی تعمیرات میں اس حد تک تیز رفتار اضافہ ہوا کہ میری صدارت کے دوران ایک موثر فلسطینی ریاست کا تصور دشوار سے دشوار ترین ہوگیا تھا ‘‘ ۔ انھوں نے کہاکہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس سے امریکہ اور مشرق وسطیٰ کے علاقہ میں امن و سلامتی پر دورردس اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ ہم نے اس علاقہ میں اپنی مساعی کی بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی ہے اور اسرائیل پر غیرمعمولی توجہ دی ہے ۔ میرے خیال میں یہ ایک دوست کو یہ کہنا جائز مفاد میں ہے کہ یہ ایک مسئلہ ہے اور ہم نے یہ کہہ دیا ہے ۔ دیکھئے یہ ایسا نہیں ہے کہ ہم نے روز اول سے ہی ایسا نہیں کیا ہے ‘‘ ۔ اوباما نے مزید کہاکہ ’’(اسرائیل سے ) ہم یہ بات گزشتہ آٹھ سال سے کہتے رہے ہیں۔ لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ اس (بات ) پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی ‘‘ ۔ اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں رائے دہی سے امریکہ کی غیرحاضری کے بارے میں اوباما ایک سوال کاجواب دے رہے تھے ۔ انھوں نے ادعاء کیا کہ گزشتہ ماہ کی رائے دہی سے امریکہ کی غیرحاضری باہمی تعلقات میں کوئی بڑی رکاوٹ کی وجہ نہیں بنی ہے ۔ اوباما نے کہاکہ ’’میں نہیں سمجھتا کہ اس سے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات میں کوئی بڑی رکاوٹ پیدا ہوئی ہے ۔ اگر آپ کہتے ہیں کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے تنقید کی ہے تووہ میری صدارت کے دوران بار بار ایسا کرتے رہے ہیں ۔ ایران کے ساتھ ہمارے سمجھوتے اور (فلسطینی علاقوں میں) اسرائیلی آبادیوں کی تعمیر کی مخالفت پر وہ مسلسل اعتراض کرتے رہے ہیں‘‘۔ انھوں نے کہاکہ چنانچہ یہ کوئی نئی بات نہیں تھی ۔ نیز ان تمام تنقیدوں اور اعتراضات کے باوجود فوجی تعاون اور انٹلیجنس تعاون جاری رہا ۔ اوباما نے کہاکہ ’’ہم نے ہر قابل فہم انداز میں ان ( اسرائیل) کی دفاع کی لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جاری تصادم کا بد سے بدترین ہونا ہمارے قومی مفادات اور اسرائیلوں کے مفادات کے لئے ایک مسئلہ ہے ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT