Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے ٹرمپ کا نیا شوشہ

اسرائیل میں امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے ٹرمپ کا نیا شوشہ

ایران کے ساتھ دورخی معاہدہ ختم کرنا اولین ترجیح، میری بیٹی یہودی ہے
واشنگٹن ۔ 22 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ری پبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک نیا شوشہ چھوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اگر میں ملک کا صدر بنا تو اسرائیل میں قائم امریکی سفارت خانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل کر دوں گا۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ صدر بننے کے بعد میری اولین ترجیحات میں ایران کے ساتھ امن معاہدے پر نظرثانی کرتے ہوئے دو طرفہ معاہدہ ختم کرنا بھی شامل ہو گا۔ اپنے بیانات کی وجہ سے غیرمعمولی حد تک متنازعہ سمجھے جانے والے امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے ان خیالات کا اظہار ’’ایپک‘‘ کی سالانہ کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔ اپنی تقریر میں انہوں نے یہودی لابی کے دل جیتنے کے لیے اسرائیل کی بھرپور حمایت کے عزم کا اعلان کیا اور کہا کہ صدر بن کر وہ امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم دیں گے۔ اپنی تقریر میں ٹرمپ نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن سمجھوتہ کرانے کی کوئی بات نہیں کی مگر یکطرفہ طور پر اسرائیل کی کھل کرحمایت کی۔

انہوں نے ایران کے متنازعہ نیوکلیئر پروگرام پرطے پائے سمجھوتے کو کالعدم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اس معاہدے پر کڑی نکتہ چینی کی۔ یہودی لابی کی حمایت کے حصول کی خاطر ٹرمپ نے حسب معمول کئی عجیب وغریب باتیں بھی کیں۔ انہوں نے کہا کہ میری بیٹی نے یہودی مذہب قبول کیا ہے۔ جلد ہی میرے ہاں ایک خوبصورت یہودی بیٹا بھی پیدا ہوگا۔ فلسطینیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلسطینی یہ جان لیں کہ امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات قائم ودائم رہیں گے۔ فلسطینیوں کو اسرائیل کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں بند کرنا ہوں گی اور انہیں اسرائیل کو ہمیشہ کے لیے ایک یہودی ریاست تسلیم کرنا پڑے گا۔ اپنی متوقع خارجہ پالیسی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے شمالی اوقیانوس کے عسکری اتحاد’’ناٹو‘‘ کی بھرپور حمایت کے عزم کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکہ نے اتحادیوں کی مدد کے لیے اپنی ضرورت سے زیادہ تعاون کیا ہے۔ ناٹو کی بھی بھرپور امداد کی گئی۔ اب اتحادیوں کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

قبل ازیں اخبار’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ یوکرین ہم (امریکہ) سے زیادہ ہمارے ناٹو اتحاد کے لیے اہمیت کا حامل ہے مگر یوکرین کا بوجھ بھی ہمارے کندھوں پر ڈالا گیا۔ میں استفسار کرتا ہوں کہ جرمنی یا کوئی دوسرا یورپی ملک یوکرین کے بحران کے حل کے لیے پہل کیوں نہیں کرتا۔ ہم ہی کیوں روس کے ساتھ تیسری عالمی جنگ کی قیادت کرنے کے پابند ہیں۔ یہودیوں کی نمائندہ تنظیم ’’ایپک‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے دوسری صدارتی امیدوار ہلاری کلنٹن نے کہا کہ فلسطین۔ اسرائیل تنازعہ کے حل کے لیے سلامتی کونسل یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے حل مسلط نہیں کیا جائے گا۔ یہودی لابی کے نام اپنے پیغام میں مسز کلنٹن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی ریاست کے لیے وہ اوباما سے بڑھ کراقدامات کریں گی۔ تاہم انہوں نے ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے کو صدر اوباما کے دور کا اہم ترین اقدام قرار دیا اور کہا کہ وہ اس معاہدے کی پاسداری کریں گی۔

TOPPOPULARRECENT