Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز سے روک دیا

اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں نماز سے روک دیا

83 ہزار اجازت نامے منسوخ ، فلسطینیوں کے ذریعہ چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کا شاخسانہ
یروشلم۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل نے اپنی حدود میں داخلے کے لئے فلسطینیوں کو جاری کردہ 83 ہزار اجازت نامے منسوخ کر دیئے ہیں۔ یہ اقدام چہارشنبہ اور جمعرات کی شب تل ابیب میں قریب وزارت دفاع کے قریب واقع تجارتی مرکز میں دو فلسطینیوں کی جانب سے مسلح کارروائی میں چار اسرائیلیوں کی ہلاکت کے بعد اٹھایا گیا ہے۔ فائرنگ سے چار اسرائیلی زخمی ہوئے۔ اسرائیلی وزارت دفاع کے سویلین مینجمنٹ ڈیسک، جو غرب اردن میں اسرائیلی فوج کی سرگرمیوں میں کوارڈی نیشن کا کام کرتا ہے، نے ایک بیان میں کہا ہے کہ “رمضان المبارک کے دوران غرب اردن سے فلسطینیوں کو مقبوضہ القدس میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقاتوں کے لئے جاری کردہ خصوصی اجازت نامہ منسوخ کر دیئے گئے ہیں۔ نیز 83 ہزار دوسرے اجازت نامے بھی فوری اثر کے ساتھ منسوخ کردیئے گئے ہیں۔ جن میں غزہ کے شہریوں کیلئے یروشلم کے ٹمپل ماؤنٹ پر حاضری دینے کے عمل کو بھی روک دیا گیا ہے جسے مسلمان الحرم الشریف کہتے ہیں جہاں مسجد اقصیٰ واقع ہے۔ گذشتہ شب وزیراعظم نتن یاہو نے حملہ کے مقام کا دورہ کیا تھا اور اپنے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اسے انتہائی ظالمانہ حرکت سے تعبیر کیا۔ انہوں نے فوری طور پر دفاعی ہیڈکوارٹرس پر سیکوریٹی عہدیداروں کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا جہاں فلسطینیوں کے حملوں سے نمٹنے کیلئے آئندہ حکمت عملی وضع کرنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات رمضان المبارک میں بھی رونما ہورہے ہیں اور اگر ہم ردعمل کے طور پر تشدد برپا کرتے ہیں تو اسرائیلیوں کو بھلا برا کہا جاتا ہے۔

فلسطینی شہریوں کو بھی چاہئے کہ وہ ماہ رمضان کا احترام کریں۔ ہمارے لئے اب یہ ایک چیلنج بن چکا ہے جس کا ہم منہ توڑ جواب دیں گے تاہم ہم انتہائی چابکدستی کے ساتھ اپنی حکمت عملی وضع کریں گے۔ دوسری طرف فلسطینی رپورٹس کے مطابق جنوبی ہبرون ہلز کا محاصرہ آئی ڈی ایف نے کرلیا ہے جہاں خبروں کے مطابق مستقر حطا میں حملہ آور چھپے ہوئے ہیں اور فی الحال اس علاقہ کو ’’غیرکارکرد ملٹری زون‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ فوج اب حملہ آوروں کے رشتہ داروں کو گرفتار کرکے ان سے پوچھ تاچھ کرے گی۔ یاد رہیکہ آج فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہیکہ گذشتہ شب تل ابیب کے قریب سرونا مستقر میں کئے گئے حملے انفرادی نوعیت کے ہیں جبکہ ان کا تعلق اسٹوڈنٹ گروپ سے تھا۔ اس کے باوجود بھی فلسطینی طلباء نے جو حملہ کیا وہ دراصل اسرائیلیوں کی نئی آبادی اور مکانات تعمیر کرتے ہوئے معاہدہ کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ اسرائیل نے فلسطین کی سرزمین پر جو ناپاک قبضہ 1967ء میں کیا تھا، وہ اب ایک ناسور میں تبدیل ہوچکا ہے اور دونوں طرف سے تقریباً ہر روز جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں اور کبھی کوئی اسرائیلی فوجی یا شہری مارا جاتا ہے اور کبھی کوئی فلسطینی شہری۔ فلسطینی ماؤں کو تو اب اپنی اولادوں کے جنازے دیکھنے کی عادت پڑ چکی ہے۔ حالانکہ تل ابیب میں ہوئے حملوں کی حریف اسلامی گروپ حماس نے (جو غزہ پٹی پر اپنا کنٹرول رکھتا ہے) ستائش ضرور کی تھی تاہم حملہ کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی۔ گذشتہ ایک سال سے فلسطینی شہریوں کے ذریعہ اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں پر حملے دشدت اختیار کرچکے ہیں جہاں کسی پر فائرنگ، کسی پر چاقو سے حملہ یا کار کے ذریعہ حملہ کردینا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ تل ابیب کے پولیس سربراہ موشے عیدری نے کلب شب ہوئے حملہ کو دہشت گردانہ حملہ قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT