Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / اسرائیل کے شہر میں مہیب آگ لاکھوں افراد کا تخلیہ

اسرائیل کے شہر میں مہیب آگ لاکھوں افراد کا تخلیہ

فوج طلب ، 5 ممالک کی مدد کے باوجود صورتحال بے قابو
حیفہ ۔ /24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اسرائیل کے تیسرے بڑے شہر حیفہ کے بعض علاقوں میں ہولناک آتشزدگی کے واقعات سے ہزاروں افراد اپنے گھروں کا تخلیہ کرنے پر مجبور ہوگئے ۔ سینکڑوں فوجیوں کو پولیس اور آتش فرو عملہ کی مدد کیلئے طلب کرلیا گیا ۔ عہدیداروں کا خیال ہے کہ یہ آگ سیاسی مقاصد پر مبنی ہے اور بعض افراد نے دانستہ طور پر لگائی ہے ۔ خشک آگ تیز رفتار ہواؤں کی وجہ سے آگ حیفہ کے شمالی پڑوسی علاقوں تک پھیل گئی ۔ تاہم کوئی شدید زخمی نہیں ہوا ۔ کئی افراد تنفس کے ذریعہ دھواں پھیپھڑوں میں پہونچ جانے کی وجہ سے دواخانے میں زیرعلاج ہے ۔ پولیس اور آتش فرو عملہ پورے شہر میں تعینات کردیا گیا ہے ۔ پولیس سربراہ رونی اعیش ہیچ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ آگ لگانے والے مبینہ طور پر پوشیدہ مقاصد رکھتے تھے حالیہ دنوں میں اسرائیل میں بھڑک اٹھنے والی آگ کے واقعات میں آج کا واقعہ 2010 ء کے بعد کا ہولناک ترین واقعہ تھا ۔ کئی ممالک بشمول روس ، قبرص ، ترکی ، کروشیا اور یونان نے آگ بجھانے کیلئے امداد روانہ کی ہے ۔ حیفہ کے 8 پڑوسی علاقوں سے عوام کا تخلیہ کروادیا گیا ہے ۔ فوج نے کہا کہ دو تلاش اور بچاؤ کارروائی کی بٹالینس سیویلین عملہ کی مدد کیلئے تعینات کردی گئی ہیں ۔ 500  محفوظ فوجیوں کو پولیس اور آتش فرو محکمہ کی مدد کیلئے تعینات کیا گیا ہے ۔ سربراہ پولیس حیفہ کے بموجب ایسے اشارے ملے ہیں کہ کسی نے اس علاقہ میں جہاں تیل اور احتراق پذیر سیال مادوں کی افراط ہے جلتا ہوا سگریٹ پھینکا تھا جس سے آگ لگ گئی

 

آتشزدگی حادثہ دہشت گردی :وزیراعظم
حیفہ ۔ /24 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو نے پورے اسرائیل میں آتشزدگی کے حادثوں کو دانستہ دہشت گردی کی کارروائیاں قرار دیا اور کہا کہ یہ آگ لگائی گئی ہے ۔حادثہ نہیں ہے ۔ حکومت نے آگ لگانے کیلئے اکسانے والوں کو دیکھا ہے۔

 

اسرائیل کے شہر حیفہ میں بھیانک آگ ۔ عوام فرار
ترکی نے آگ پر قابو پانے مدد کیلئے طیارہ روانہ کردیا ۔ اسرائیل نے ترک امداد قبول کرلی
حیفہ ( اسرائیل ) 24 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کے تیسرے بڑے شہر حیفہ کے مضافات میں اچانک جھاڑیوں میں آگ لگ جانے کے نتیجہ میں سینکڑوں اسرائیلی باشندے اپنے گھروں سے فرار ہوگئے جبکہ آگ پر قابو پانے والا عملہ بڑھتی ہوئی اس آگ پر کنٹرول کرنے جدوجہد کر رہا ہے ۔ فوج کی جانب سے محفوظ عملہ کو بھی اس عمل میں حصہ لینے طلب کرلیا گیا ہے اور اس شہر میں دواخانوں ایمرجنسی کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ یہاں اندیشہ ہے کہ 2010 میں لگی آگ کا اعادہ ہو رہا ہے جس میں 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ آگ پر قابو پانے والے محکمہ کے ایک ترجمان کائد داہر نے کہا کہ ہم نے اطراف کی تین آبادیوں کو خالی کروالیا ہے اور یہاں ایسے لوگ بھی ہیں جو ہنوز آگ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگ ہنوز جل رہی ہے اور شعلے قریب میں واقع ایک گیس اسٹیشن تک پہونچ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگ کے شعلے دس میٹر تک بلند ہو رہے ہیں اور اس کے نتیجہ میں قریب میں واقع کئی ہمہ منزلہ عمارتوں کو بھی اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ احتیاطی اقدام کے طور پر حیفہ یونیورسٹی کا بھی تخلیہ کروادیا گیا ہے ۔ قریبی علاقوں میں عوام نے بتایا کہ معمر افراد کو یہاں سے تخلیہ کروانے کیلئے جدوجہد کی جا رہی ہے ۔ مقامی شہریوں کے بموجب آگ پر ہنوز کوئی قابو نہیں پایا گیا ہے اور یہ ایک سے دوسرے گھر تک پہونچتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چند منٹوں میں یہ آگ 20 تا 30 میٹر تک آگے بڑھتی جا رہی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کچھ افراد کو ان کے گھروں سے زبردستی بھی نکالا جا رہا ہے ۔ اس دوران ترکی نے آگ پر قابو پانے والا ایک طیارہ اسرائیل کو آج روانہ کردیا ہے تاکہ حیفہ میں لگی آگ پر قابو پانے میں مدد کی جاسکے ۔ وزارت خارجہ کے ترجمان نے روزنامہ حریت کو بتایا کہ اسرائیل نے ترکی کی اس مدد کو قبول کرلیا ہے ۔ ترکی نے کروشیا ‘ یونان ‘ قبرص ‘ اٹلی اور روس سے بھی آگ پر قابو پانے میں مدد طلب کی ہے ۔ اسرائیل کے پولیس ترجمان مکی روسن فیلڈ نے کہا کہ وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو نے کل ہی اس سلسلہ میں کروشیا اور یونان کے وزرائے اعظم سے بات کرتے ہوئے مدد طلب کی تھی ۔ اسرائیل کی پولیس آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات کر رہی ہے ۔

 

 

TOPPOPULARRECENT