Wednesday , June 28 2017
Home / مضامین / اسرو ہندوستان کا وقار

اسرو ہندوستان کا وقار

محمد ریاض احمد
انڈین اسپیس آرگنائزیشن کے سائنسدانوں نے ہندوستان کو خلائی سائنس کے شعبہ میں دنیا کے سرفہرست ملکوں میں شامل کردیا ہے۔ اسرو کی کامیابی میں ہندوستان کے مرد میزائل انڈیا ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کا اہم کردار رہا ہے۔ انڈین اسپیس ریسرچ سنٹر کے بانیوں کے خوابوں کو پورا کرنے میں اس کے سائنسدانوں نے جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ دنیا کی دیگر خلائی ایجنسیوں سے وابستہ سائنسدانوں کے لئے بہترین مثال ہے۔ جہاں تک خوابوں کا سوال ہے سابق صدر جمہوریہ اور ہندوستان کے مرد میزائل ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام نے بطور خاص طلباء کو کارہائے نمایاں انجام دینے ترقی کامیابی و کامرانی کے خواب دیکھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کچھ یوں کہا تھا ’’خواب وہ نہیں جو آپ نیند میں دیکھتے ہیں بلکہ خواب وہ چیز ہے جو آپ کو سونے نہیں دیتے‘‘۔ انہوں نے کچھ کردکھانے سے متعلق خوابوں کے بارے میں ایک مرتبہ اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا ’’خواب خیالات میں اور خیالات عمل میں ڈھلتے ہیں‘‘ اسرو کا سب سے بڑا خواب 22 جون 2016ء کو اس وقت شرمندہ تعمیر ہوا جب اس نے صرف ایک مشن میں 20 سٹیلائٹس خلاء میں بڑی کامیابی کے ساتھ داغے جس میں 17 سٹیلائٹس بیرونی ملکوں کے تھے مملکتی وزیر برائے دفتر وزیر اعظم و خلائی سائنسی امور کے نگران ڈاکٹر جتندرا سنگھ کے مطابق ان 17 بیرونی سٹلائٹس کو خلاء میں داغنے سے انتٹرکس کارپوریشن لمیٹیڈ کو 4.54 ملین ڈالرس کی آمدنی حاصل ہوئی۔ 15 اگست 2016ء تک اسرو نے جملہ 113 سٹیلائٹس خلاء میں داغے جن میں 20 مختلف ملکوں کے 79 سٹیلائٹس شامل ہیں۔ جس سے اسرو کو 120 ملین ڈالرس کی آمدنی حاصل ہوئی اسرو کی کامیابیوں کا جائزہ لیں تو پتہ چلتا ہے کہ
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (ISRO) کے لئے سال 2016ء بہت کامیاب رہا اس سال اسرو کو یاد گار کامیابیاں حاصل ہوئی اس نے لانچ وہیکل، سٹیلائٹ، ایپلکیشنس اور خلائی کھوج کے شعبوں میں کئی سنگ میل طئے کئے ہیں۔ آپ کو بتادیں کہ سال 2016ء میں سات وہیکل مشن لانچ کئے اور تمام کے تمام کامیاب رہے۔ ان مشنس کے ذریعہ 8 اسرو سٹیلائٹس، 4 اسٹوڈنٹس سٹیلائٹس اور 22 بیرونی سٹیلائٹس داغے گئے۔ 2016ء میں اسرو نے دوکامیاب اڈوانسڈ لانچ وہیکل ۔ ٹکنالوجی پہل کا مشاہدہ بھی کیا۔ ان میں Reusable launch (RLV-TD) vehicle- Technology Demonstrater شامل ہیں۔ اس کامیابی کے ساتھ خلائی سائنس میں اسرو نے اپنی دھاک جمادی۔ اس کے علاوہ سال 2016ء مریخ میں ہندوستان کی چھوڑی ہوئی خلائی گاڑی منگلیان نے اس کے مدار میں دو سال مکمل کرلئے جبکہ ASTROSAT آبزرویٹری نے بھی مدار میں ایک سال کی تکمیل کرلی۔ سال 2016ء کا آغاز PSLV-C31 کے داغے جانے کے ساتھ ہوا جو IRNSS-IE جیسے انڈین ریجنل نیوی گیشنل سٹیلائٹ سسٹم (IRSNSS) کو خلاء میں 20 جنوری 2016ء کو چھوڑا گیا تھا۔ 22 جون 2016ء کو ISRO  نے صرف ایک مشن میں 20 سٹیلائٹس خلاء میں چھوڑے ان سٹیلائٹس میں CARTOSAT-2 سیریز کا سٹیلائٹ (وزن 727 کیلو گرام) اور دو تعلیمی سٹیلائٹ SWAYAM SATHYABAMASAT اور 17 سٹیلائٹس شامل تھے۔ اسرو کی ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ایک دن میں اس نے جو 20 سٹیلائٹ خلاء میں  داخل کئے ان میں کناڈا، جرمن، انڈونیشیا اور امریکہ کے سٹیلائٹس بھی شامل تھے۔

سال2015 بھی انڈین اسپیس اینڈ ریسرچ آرگنائزیشن کیلئے ایک اہم ترین سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اس برس اس نے اپنے دو اہم ترین پراجکٹس کی 40ویں سالگرہ منائی، یہ ایسے پراجکٹس ہیں جو خلائی سائنس میں ہندوستان کی ناقابل یقین کامیابی کا باعث بنے۔1975 میں’ اِسرو‘ نے جن دو مشنس کو کامیابی کے ساتھ پایۂ تکمیل کو پہنچائے ان میں ہندوستان کے پہلے سٹیلائیٹ آریہ بھٹ اور SITE ( سٹیلائیٹ انسٹرکشنل ٹیلی ویژن اکسپریمنٹ ) شامل ہیں جنہیں بالترتیب سوویٹ یونین کے لانچر اور امریکی سٹیلائیٹ کے ذریعہ خلاء میں داغا گیا تھا۔ ان دونوں پراجکٹس پر کامیابی کے ساتھ ایک ایسے وقت عمل آوری کی گئی جب ہندوستان لانچنگ کی صلاحیتوں سے بہت دور تھا۔ اس نے خلاء میں سٹیلائیٹ داغنے میں استعمال ہونے والے لانچر بھی تیار نہیں کئے تھے جہاں تک SITE کا تعلق ہے ہندوستانی سائنسدانوں نے خلائی ٹکنالوجی کے بڑے پیمانے پر ترقیاتی و بہبودی پراجکٹس کیلئے اطلاق کو یقینی بنانے کے مقصد سے اس کا ڈیزائن تیار کیا  تھا۔ SITE دراصل ٹیلی ۔ ایجوکیشن کیلئے خلائی ٹکنالوجی کی تعیناتی میں ایک تجربہ یا  آزمائش کی حیثیت رکھتا تھا جبکہ آریہ بھٹ کے ذریعہ ٹیلی میڈیسن کے امکانات یا عمل پذیری کا اندازہ لگایا گیا۔ اس کی آزمائش کی گئی حالانکہ اس کا سب سے اہم مقصد سائنٹفک ڈاٹا جمع کرنا تھا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ SITE کی تخم ریزی 1960 میں ہندوستانی خلائی پروگرام کے بابا وکرم سارا بھائی نے کی تھی، یعنی ملک کے اُس عظیم سائنسداں نے SITE  کو خلاء میں داغنے کی کوششوں کی 1960 میں بنیاد ڈال دی تھی۔ ہندوستانی خلائی پروگرام کے بابا وکرم سارا بھائی کا یقین تھا کہ خلائی ٹکنالوجی کے اطلاق سے ترقی اور معاشی نمو کے شعبوں میں ایک مثبت تبدیلی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ ان کا ایسا سوچنا بالکل درست تھا۔ چنانچہ چار دہوں بعد سارا بھائی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور انہوں نے جس وسیع النظری کا مظاہرہ کیا تھا اور تصور کیا تھا اسے حقیقت کی شکل دی گئی۔ آج ’ اِسرو‘ ( انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن ) کی کامیابی کا یہ حال ہے کہ اس ایجنسی نے سٹیلائیٹس کی ڈیزائننگ، ساخت کی تعمیر اور لانچنگ ( خلاء میں چھوڑنے یا داغنے ) کے شعبوں میں زبردست کامیابی حاصل کی ہے۔حد تو یہ ہے کہ ’ اِسرو ‘ دیگر ممالک کے سٹیلائیٹس کو خلاء میں داغنے کیلئے اپنی خدمات کا پیشکش کررہی ہے۔ گزشتہ دو دہوں کے دوران ’ اِسرو ‘ نے کئی مقاصد اور کاموں کی تکمیل میں مددگار ثابت ہونے والے بے شمار سٹیلائیٹس خلاء میں چھوڑے ہیں جن میں مواصلات، نشریات، موسم کی پیش قیاسی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، ریموٹ سینسنگ، نقشہ نگاری، تلاش و بچاؤ، فاصلاتی تعلیم اور دفاعی شعبوں میں استعمال ہونے والے سٹیلائٹس شامل ہیں۔ ملک کے خلائی سائنس کے ماہرین کا کہنا ہے کہ بہت جلد جہاز رانی کے شعبہ میں انقلاب برپا کرنے والے سٹیلائٹس بھی خلاء میں پہنچائے جائیں گے۔اس کے علاوہ چاند اور مشتری پر سائنسی مشن روانہ کئے جائیں گے۔ ان تمام کارناموں سے پتہ چلتا ہے کہ ’ اِسرو‘ نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کی سرفہرست خلائی ایجنسیوں میں سے ایک ہے اور اس نے ہندوستان کو خلائی سائنس میں ترقی کرنے والی دنیا کی چنندہ طاقتوں میں شامل کردیا ہے۔ ’ اِسرو‘ کے باعث ہی ہندوستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ ’اِسرو‘ کی خلائی گاڑیوں کے ذریعہ دوسرے ممالک کے بے شمار سٹیلائٹس کو خلاء میں چھوڑ رہا ہے۔ ’اِسرو‘ کے باعث ہی ہندوستان کے شعبہ نشریات، موسم کی پیش قیاسی اور مواصلات میں ایک انقلاب برپا ہوا ہے۔ لیکن ٹیلی میڈیسن، فاصلاتی تعلیم اور ریموٹ سینسنگ جیسے شعبوں میں ملی جلی کامیابی حاصل ہوئی۔ ریموٹ سینسنگ سٹیلائیٹس کے شعبہ میں اِسرو کو بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ حالیہ برسوں کے دوران کئے گئے جائزوں سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ بعض ریموٹ سینسنگ سٹیلائٹس کا ڈاٹا ضروریات کا مناسب جائزہ لئے بناء بنایا گیا تھا۔ ڈاٹا کے تبادلہ کی پالیسی بھی مبہم رہی۔ آڈٹ سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ فاصلاتی تعلیم کیلئے شروع کردہ سیٹلائیٹس میں بھی اسی طرح کی خامیاں پائی گئیں۔ کئی ریاستوں میں Edusat سٹیلائیٹ کے اشارے حاصل کرنے کیلئے اہم بنیادی سہولتیں تعمیر نہیں کی گئیں۔ وزیر اعظم چاہتے ہیں کہ ملک کے مختلف شعبوں میں ترقی کیلئے فلاحی ٹکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال کیا جائے۔ چنانچہ وزیر اعظم کے مشورہ پر 60وزارتوں اور سرکاری ایجنسیوں نے خلائی سائیٹس کے استعمال کیلئے 170 پراجکٹس پیش کئے۔یہ پراجکٹس زرعی ، توانائی، آبی انتظامیہ جیسے شعبوں پر مشتمل ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ کئی پراجکٹس پر توجہ دینے کی بجائے تعلیم اور ٹیلی میڈیسن کے شعبوں پر توجہ دیتے ہوئے ماضی میں جو خامیاں رہ گئی ہیں اسے دور کیا جائے۔ جہاں تک ہندوستان کے خلائی سفر کا آغاز ہے ہندوستان نے اسی وقت خلاء میں جانے کا فیصلہ کرلیا تھا جب حکومت ہند نے 1962ء میں انڈین نیشنل کمیٹی فار اسپیس ریسرچ (INCOSPAR) قائم کی تھی اور اسے وکرم سارا بھائی جیسے سائنسداں کی سرپرستی حاصل تھی۔ INCOSPAR نے بالائی فضائی کی تحقیق کیلئے تھرواننتا پورم میں تھمبااپکو اٹورسل 1962 میں راکٹ لانچنگ اسٹیشن (TERLS) قائم کیا اور INCOSPAR کی جگہ انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن قائم کی گئی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT