Saturday , August 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / اسقاط حمل جائز نہیں

اسقاط حمل جائز نہیں

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ پانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔ انکے شوہر بکر بغیر کسی وجہ کے حمل ساقط کرانا چاہتے ہیں۔
اس کے متعلق شرعًا کیا حکم ہے؟  بینوا تؤجروا
جواب: جنین میں ایکسوبیس (۱۲۰) دن کے اندر جان پڑجاتی ہے۔ ایکسوبیس (۱۲۰) دن کے حمل کو ساقط کرانا شرعًا جائز نہیں۔ نفع المفتی والسائل کے ص ۱۲۰ میں ہے :  الاستفسار ۔ ھل یجوز للمرأۃ أن تعالج لاسقاط الولد ؟  الاستبشار۔ قیل یمنع الاسقاط مطلقا و قیل یمنعہ اذا کان مستبین الخلقۃ …… لا تأثم مالم یتبین من خلقہ وذلک لا یکون اِلا بمائۃ و عشرین یوما۔
مطلقہ بعد طلاق وارث نہیں ہوتی
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا اپنی زوجہ کو طلاق دینے کی صورت میں مطلقہ کا شوہر کی ملکیت میں حصہ رہے گا یا نہیں ؟ شوہر کی ملکیت میں تھوڑی جائیداد بیوی کے نام پر ہے۔
کیا بیوی اس حصہ کا مطالبہ کر سکتی ہے یا نہیں؟  بینوا تؤجروا
جواب: شوہر کی زندگی میں خود شوہر (مالک جائیداد) کی ملکیت میں اولاد یا آئندہ ہونے والے وارث کا کوئی حق و حصہ نہیں۔ مطلقہ بیوی طلاق دینے والے شوہر کی اب یا آئندہ وارث نہیں۔ اسلئے اس کا مطالبہ غیر درست ہے۔ درمختار بر حاشیہ ردالمحتار جلد ۵ کتاب الفرائض میں ہے:  ھل اِرث الحی من الحی أم من المیت ؟ المعتمد الثانی۔
۲۔: مطلقہ بیوی کے نام پر جو جائداد ہے وہ بیوی خریدی تھی تو وہ اسے ملے گی۔ اور اگر شوہر محض نام پر خریدا تھا لیکن جائیداد کا حصہ متعین کرکے بیوی کے قبضہ میں نہیں دیا تھا تو وہ شوہر کی ہی ملک رہے گی۔ اس میں بھی مطلقہ کا حق نہیں۔ درمختار بر حاشیہ ردالمحتار جلد ۴ کتاب الھبۃ میں ہے:  (وتصح بایجاب کوھبت … وجعلتہ لک ) لان اللام للتملیک بخلاف جعلتہ باسمک فانہ لیس بھبۃ۔
شراب بالذات نجس ہے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ شراب خورد و نوش کی اشیاء میں نصف مقدار میں شریک ہو تو یہ اشیاء کھا ئی جاسکتی ہے یا نہیں ؟
جواب : شراب بالذات نجس ہے وہ صرف استحالہ و انقلاب سے پاک ہوسکتی ہے۔ یعنی شراب کی حقیقت تبدیل ہوکر سرکہ ہوجائے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۴۴ میں ہے :  ما یطھر بہ النجس  عشرۃ …… منھا (الاستحالۃ) تخلل الخمر فی خابیۃ جدیدۃ طھرت بالانفاق کذا فی القنیۃ۔
کسی خشک چیز میں شراب پڑجائے تو وہ جس حصہ تک لگے وہ ناپاک ہے اسکو علحدہ کردیں تو باقی پاک رہے گا۔ اور اگر آٹے کو شراب میں گوندھ لیں تو اس آٹے کی روٹیاں سب نجس ہیں اور کھانا جائز نہیں۔ عالمگیری جلد ۵ کتاب الاشربۃ میں ہے:  واذا عجن الدقیق بالخمر لا یؤکل۔
پس صورت مسئول عنہا میں نصف شراب شریک خورد و نوش اشیاء نہیں کھاسکتے۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT