Tuesday , September 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / اسلامی تعلیمات اور اولیاء و صالحین سے حصولِ برکات

اسلامی تعلیمات اور اولیاء و صالحین سے حصولِ برکات

حبیب سہیل بن سعید العیدروس
اہل اسلام کی اکثریت اولیاء و صالحین کے تبرکات کی حفاظت کرتی ہے اور وقتاً فوقتاً ان سے حصول فیض کرتی ہے ۔ احادیث مبارکہ اور اسلاف کے عمل سے بھی ہمیں صالحین کے تبرکات کی اہمیت اور فضیلت کا پتہ چلتا ہے ۔ ہر ولی اور صالح شخص سے ان کے متعلقین نے ان کی حیات میں اور اُن کے وصال کے بعد اُن کی قبور سے برکت حاصل کی ہے ۔ چنانچہ حضرت علی ؓ عراق میں مقیم تھے اتنے میں آپؓ کے پاس اہلِ شام کا ذکر کیا گیا ۔ لوگوں نے آپؓ سے کہا کہ : ’’امیرالمؤمنین ! آپؓ اہل شام پر لعنت بھیجیں ‘‘۔ آپؓ نے فرمایا : ’’نہیں ! میں لعنت نہیں بھیجتا کیونکہ میں نے حضور اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے ،شام میں (ہمیشہ ) چالیس ابدال موجود رہیں گے ، ان میں سے جب کوئی وفات پاتا ہے تو اﷲ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے کو ابدال بنادیتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اہل شام بارش سے سیراب کئے جاتے ہیں ۔ دشمنوں پر ان کو ابدال کے وسیلے سے فتح عطا کی جاتی ہے اور ان کی برکت سے اہل شام سے عذاب ٹال دیا جاتا ہے ‘‘۔ ( امام احمد ، المسند )
اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے ملا علی قاری ؒ فرماتے ہیں : ’’ابدالوں کی برکت اور ان میں ان کے وجودِ بابرکت کے سبب بارشیں ہوتی ہیں ، دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور ان کی برکت سے اُمت محمدیہ ﷺ سے بلائیں دور ہوتی ہیں ‘‘ ۔ (مرقاۃ المفاتیح)
حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ’’زمین کبھی بھی ( ایسے ) چالیس آدمیوں سے خالی نہیں ہوگی جو   خلیل اﷲحضرت ابراہیم علیہ السلام کی مانند ہوں گے ۔ انہی کے ذریعہ و سبب سے لوگوں کو سیراب کیا جائے گا اور انہی کے صدقے لوگوں کی مدد کی جائیگی ۔ ان میں سے کوئی آدمی اس دنیا سے پردہ نہیں کرتا مگر یہ کہ اﷲ تعالیٰ اس کی جگہ دوسرے کو ( چالیس افراد میں ) لے آتا ہے ‘‘ ۔ (طبرانی ، المعجم الاوسط)
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’بیشک اﷲ تعالیٰ کے کچھ خاص بندے ایسے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ نے انھیں مخلوق کی حاجت روائی کیلئے خاص فرمایا ہے ۔ لوگ گھبرائے ہوئے اپنی حاجتیں ان کے پاس لے آتے ہیں ۔ یہی وہ بندے ہیں جو عذاب الٰہی سے مامون ہیں‘‘۔ ( مجمع الزوائد)
ان تمام مذکورہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ہر زمانہ میں اﷲ تعالیٰ کے کچھ اولیاء و صالحین موجود ہوتے ہیں اور اگر ان میں سے کسی کی وفات ہوجاتی ہے تو اﷲ تعالیٰ اُن کی جگہ دوسرے ولی کو عطا کردیتا ہے ، اور اﷲ تعالیٰ ان ہی صالح بندوں کی برکات کے طفیل اُمت مسلمہ کو فتح و نصرت ، بارش اور رزق سے نوازتا ہے اور مصیبتوں ، پریشانیوں اور عذاب کو ٹالتا ہے ۔

ایک مرتبہ حضرت ثابتؒ جوکہ تابعین میں سے ہیں ، حضرت انس ؓ صحابی رسول سے پوچھتے ہیں کہ : ’’کیا آپؓ نے حضور اکرم ﷺ کو اپنے ہاتھ سے چھوا ، مَس کیا ہے ؟ ‘‘۔ حضرت انسؓ نے فرمایا : ہاں ! ، پھر ثابتؓ نے حضرت انس ؓ کے ہاتھ کو چوما ‘‘ ۔ (بخاری ، الأدب المفرد )
حضرت صہیبؓ کہتے ہیں کہ : ’’میں نے حضرت علیؓ کو دیکھا کہ انھوں نے حضرت عباسؓ کے ہاتھ اور پاؤں کو بوسہ دیا‘‘۔ ( بخاری ، الأداب المفرد)
حضرت عباسؓ کو حضرت علی ؓ نے چچا اور مرد صالح ہونے کی وجہ سے ، ان کے ہاتھ اور پاؤں کا بوسہ لیا۔ نیز حضرت ابوہریرہؓ نے امام حسن بن علی رضی اﷲ عنہا سے ملاقات کی اور عرض گذار ہوئے : آپؓ مجھے وہ جگہ بتائیں جہاں حضور اکرم ﷺ نے آپ کو بوسہ دیا ہے ، امام حسنؓ نے اپنے جسم سے کپڑا ہٹایا تو انھوں نے آپؓ کی ناف کا بوسہ لیا ۔ ( تاریخ بغداد )

تمام صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین میں حضرت ابوہریرہؓ سب سے زیادہ احادیث کے راوی ہیں ، اور اس مرتبہ کے باوجود انھوں نے حضور اکرم ﷺ کی آل مطہر سے فیض اور برکت حاصل کرنا ضروری سمجھا ۔
یہ تو صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم اجمعین کی بات ہوئی لیکن امام مسلمؒ جوکہ محدثِ عظیم ہیں انھوں نے حصول برکت کیلئے امام بخاریؒ کی پیشانی کا بوسہ دیا اور پھر عرض کیا : ’’اے استاذوں کے استاذ ، سید المحدثین آپ مجھے اجازت دیں تو میں آپ کے پاوں کا بوسہ لے لوں ‘‘۔
مذکورہ آثار و واقعات اس بات پر دلیل ہیں کہ اگر آج بھی کوئی مرید ، شاگرد یا سالک اپنے شیخ ، مربی و مرشد کے ہاتھ ، پاؤں اور سر کا بوسہ لے تو وہ شرک نہیں ہوگا بلکہ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کی سنت فعلی اور اسلاف کی اتباع ہوگی ۔ اگر ان افعال میں کوئی ممانعت ہوتی تو اصحاب رسول اور بعد میں آنے والے آئمہ حدیث کبھی اس عمل کو بجالانے کی جرأت نہ کرتے بلکہ امام نووی شافعیؒ نے صالح ، زاہد ، عالم اور ان جیسے دیگر آخرت کی فکر رکھنے والے اشخاص کا ہاتھ چومنا مستحب قرار دیا ہے اور امام شروانی شافعی ؒ نے فرمایا : یہ بات مقرر اور متحقق ہے کہ صالح شخص کے ہاتھ اور پاؤں کو چومنا مسنون عمل ہے‘‘۔ ( حواشی الشروانی )

یہ تو اولیاء و صالحین سے بلاواسطہ حصول برکت کی بات ہوئی لیکن اٰئمہ سلف جن کی محنتوں سے دین ہم تک آسانی سے پہونچا ہے وہ کہ جن کا عمل اہل اسلام کے درمیان بڑی اہمیت رکھتا ہے انھوں نے اولیاء و صالحین سے منسوب اشیاء سے بھی حصولِ برکات فرمایا ہے ۔ چنانچہ امام شافعیؒ کے ایک شاگرد ربیع بن سلیمانؒ کہتے ہیں کہ امام شافعیؒ مصر تشریف لائے ہوئے تھے ، اسی دوران انھوں نے مجھ سے کہا : میرا یہ خط سلامتی کے ساتھ امام احمد بن حنبلؒ تک پہونچادو اور جواب لاکر دو ۔ حضرت ربیعؒ کہتے ہیں کہ میں وہ خط لے کر بغداد پہنچا تو نماز فجر کے وقت امام احمدؒ سے میری ملاقات ہوئی ۔ جب وہ حجرے سے باہر تشریف لائے تو میں نے خط اُن کے سپرد کردیا ۔ امام احمدؒ نے مہر توڑکر اسے پڑھا تو ان کی آنکھیں بھر آئیں ، میں نے عرض کیا کہ امام احمدؒ کیا ہوا ، ایسا کیا لکھا ہے جس کے سبب آپ اشکبار ہوگئے ۔ انھوں نے فرمایا :’’ امام شافعیؒ نے مجھے لکھا ہے کہ انھوں نے خواب میں حضور اکرم ﷺ کی زیارت کی ہے۔ آپ ﷺ نے انھیں فرمایا ہے کہ احمد بن حنبل کو خط لکھو ، اسے سلام لکھ کر کہو کہ تمہیں عنقریب آزمایا جائے گا اور تمہیں خلق قرآن ( کے باطل عقیدہ) کی دعوت دیجائیگی سو تم اسے قبول نہ کرنا ، اﷲ تعالیٰ تمہیں روز ِ قیامت باعزت عالمِ دین کے طورپر اُٹھائیگا‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے اپنے جسم سے مس کردہ قمیص اُتارکر مجھے عنایت فرمایا ۔ میں ان سے جواب لے کر مصر میں امام شافعیؒ کے پاس حاضر ہوا تو آپؒ نے فرمایا : احمد احمدؒ نے تمہیں کوئی چیز عطا کی ہے ؟ ۔ میں نے کہا : ہاں ! اپنی قیمص دی ہے ۔ امام شافعیؒ نے فرمایا اگر تم اس بارے میں تکلیف محسوس نہ کرو تو تم مجھے وہ قمیص گیلا کرکے ہمارے حوالے کردو تاکہ ہم اس سے برکت حاصل کریں۔
انبیاء کرام علیھم السلام سے لیکر اہلبیت نبویﷺ و صحابہ کرام اور تمام صالحین کی قبور سے بھی برکات کا حاصل کرنا اُمتِ مسلمہ کی تاریخ کا حصہ رہا ۔ قبورِ اولیاء و صالحین سے حصول برکات کے بارے میں امام غزالیؒ لکھتے ہیں : ’’ہر وہ شخص کہ جس کی زندگی میں زیارت سے برکت حاصل کی جاسکتی ہے ، وفات کے بعد بھی اس کی قبر کی زیارت سے برکت حاصل کی جاسکتی ہے‘‘۔ علامہ ابن عابدین شامیؒ لکھتے ہیں : ’’اولیاء کو اﷲ رب العزت کے پاس قربت کے لحاظ سے مختلف مقام حاصل ہوتے ہیں ( اس وجہ سے ) زائرین کو ( اُن کی قبور کی زیارت کے وقت ) اُن کے معارف اور اسرار کے حسبِ حال نفع حاصل ہوتا ہے ‘‘۔ علامہ شروانی شافعیؒ نے تحریر فرمایا ہے کہ : ’’اولیاء کی قبور کو حصولِ برکت کے لئے چومنا مکروہ نہیں ‘‘۔

ان تمام قرآنی آیات و احادیث اور ائمہ حدیث و فقہ کے اقوال و معمولات کی روشنی میں اولیاء و صالحین اور ان سے منسوب اشیاء سے حتیٰ کہ ان کی قبور سے حصول برکات کرنا ثابت ہوتا ہے اور یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اﷲ رب العزت کے فضل و عطا سے بعض نفوسِ طاہرہ ، ان کے آثار اور مقامات فیض رساں اور بابرکت ہوتے ہیں ، یہی وجہ ہے کہ دورِ صحابہؓ سے لے کر آج تک اہلِ ایمان ان تبرکات سے حصولِ فیض کو سعادت سمجھتے ہیں اور اس سعادت کے لئے دوردراز علاقوں کا سفر بھی اختیار کرتے رہے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے اولیاء و صالحین سے برکات و فیوضات عطا فرمائے اور ان تبرکات سے ہماری دنیا و آخرت کو کامیاب بنائے ۔ آمین

TOPPOPULARRECENT