Sunday , June 25 2017
Home / Top Stories / اسلامی عبادت نماز میں رکوع و سجود سے کمر درد میں کمی

اسلامی عبادت نماز میں رکوع و سجود سے کمر درد میں کمی

امریکی یونیورسٹی کا سائنسیسی تحقیقی جائزہ، بپابندی نماز جوڑوں کے درد کا مؤثر علاج

نیویارک 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) مسلم عبادت کے طریقہ و رسوم نماز میں انسانی جسم کی حساس و پیچیدہ نقل و حرکت جیسے رکوع و سجود سے نشیبی کمر کے درد میں کمی ہوسکتی ہے بشرطیکہ باقاعدہ طور پر پابندی کے ساتھ نمازیں ادا کی جائیں۔ ایک امریکی یونیورسٹی مطالعاتی جائزہ میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ تحقیقی مطالعہ میں اسلامی طریقہ عبادت نماز پر واضح اور خصوصی طور پر توجہ مرکوز کی گئی ہے لیکن عیسائی اور یہودی طرز عبادات کے علاوہ یوگا اور جسمانی ورزش کے دیگر رسوم میں بھی جسمانی نقل و حرکت کے ایسے طریقہ شامل ہیں۔ امریکہ میں بنگہیمٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ایک پروفیسر محمد خصوانی نے کہاکہ ’’نماز کے دوران ادا کئے جانے والے یہ رسوم اور انسانی جسم کے حرکات و سکنات بھی اگرچہ بڑی حد تک یوگا اور جسمانی تھراپی سے مماثلت رکھتے ہیں جو بالعموم نشیبی کمر کے درد کو کم کرنے کے علاج کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں‘‘۔ محمد خصوانی نے کہاکہ ’’اسلامی طرز عبادت نماز سے جسمانی تھکن اور ذہنی اختلاج کا خاتمہ ہوتا ہے۔ نیز ایسی بھی تحقیق منظر عام پر آئی ہے جس سے انسان کے ذہن، اعصابی و جسمانی عارضوں کے بھی نماز کے ذریعہ مؤثر علاج کا اشارہ ملا ہے‘‘۔ محققین نے اپنی تحقیق کے دوران کمر کے نچلے حصہ میں درد سے دوچار افراد کے نمونوں کا صحتمند ہندوستانی، ایشیائی، امریکی مردوں اور عورتوں پر مشتمل ایسے انسانی نمونوں کا تقابلی تجزیہ کیا۔ کمپیوٹر پر انسانی جسم کی حرکات و سکنات کا تعین کیا گیا تھا۔ اُنھیں پتہ چلا کہ حالت رکوع میں نشیبی کمر پر بہت زیادہ بار پڑتا ہے لیکن جب وہ حالت سجدہ میں ہوتے ہیں تو اپنے دونوں ہاتھ فرش پر رکھتے ہیں جس سے کمر کے درد میں کمی ہوتی ہے۔ نماز کے دوران ہر نمازی اپنے جسمانی زاویوں کے مطابق سجدہ میں دونوں ہاتھ فرش پر ٹیکتا ہے اور کمر کا نشیبی حصہ اُبھرا رہتا ہے۔ محمد خصوانی نے کہاکہ ’’نماز کے ارکان اور طریقہ عبادت میں جسمانی نقل و حرکت سے ہونے والی تھکن امریکی ادارہ کی طرف سے مقررہ حفاظتی حدود سے بہت کم ہے۔ چنانچہ رکوع، سجود و دیگر حرکات کو نشیبی کمر کے درد میں کمی کے لئے کلینکل طریقہ علاج کے اعتبار سے بھی بہت زیادہ محفوظ و مؤثر تصور کیا جارہا ہے۔ کیوں کہ اس (نماز) میں پابندی کے ساتھ باضابطہ طور پر انسانی جسم کے لئے یہ حرکات و سکنات مقرر ہیں‘‘۔ خصوانی نے کہاکہ ’’سجدوں سے جوڑوں کی لچک میں اضافہ ہوتا ہے۔ چنانچہ نشیبی کمر کے درد میں مبتلا افراد کو حالت سجدہ میں زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ بھی دیا جاتا ہے‘‘۔ یہ مطالعاتی جائزہ انڈسٹریل اینڈ سسٹمس انجینئرنگ کے بین الاقوامی جرنل میں شائع ہوا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT