Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / اسلامی قوانین انسانی فطرت کے عین مطابق تبدیلی یا ترمیم ناممکن

اسلامی قوانین انسانی فطرت کے عین مطابق تبدیلی یا ترمیم ناممکن

مسجد عالیہ میں ’ اسلامی قوانین کو سمجھنے ‘ کے عنوان پر 3 روزہ ورکشاپ ، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی و دیگر کا خطاب
حیدرآباد ۔10مئی(سیاست نیوز) اسلامی قوانین خالق کائنات کی کے مدون کردہ ہیں جو انسان کی فطرت کے عین مطابق ہے اور جس طرح فطرت انسانی میں تبدیلی یا ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے اسی طرح ٹیکنا لوجی کتنی ہی ترقی کیوں نہ کر جائے فطرت انسان نہیں بدل سکتی ویسے ہی قوانین شریعت میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔فقیہ العصر مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سیکریٹری کل ہند مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج ’’قوانین اسلام کو سمجھنے‘‘ عنوان سے منعقدہ سہ روزہ ورکشاپ کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ انہوں نے اسلامی قوانین میں ترمیم کی آواز اٹھانے والوں کو مو ثر جواب دیتے ہوئے کہا کہ انسان کسی بھی حد تک ٹیکنالوجی میں ترقی کر لے لیکن قوانین شریعت میں ترمیم کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ اس اجلاس میں مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم ‘ مولانا محمد حسام الدین جعفر پاشاہ ‘ جسٹس شاہ محمد قادری ‘ مولانا محمد رحیم الدین انصاری کے علاوہ دیگر موجود تھے۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران مطلقہ کو مستقل نان نفقہ کو غیر منطقی قرار دیا اور کہا کہ اگر مرد کو ایسا کرنے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہونے کا خدشہ ہے۔ایسی صورت میں مرد نہ ہی خواتین کو طلاق دیں گے اور نہ ہی ان کی پرورش پر توجہ مرکوز کریں گے جس کے سبب دیگر کئی مسائل پیدا ہوں گے۔ تفہیم شریعہ کمیٹی کے زیر اہتمام منعقدہ اس مذاکرے کے دوران مولانا نے نبی اکرم ﷺ کی احادیث مبارکہ روایت کرنے والی 7اہم شخصیات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جن 7اصحاب رسولؐ نے سب سے زیادہ احادیث روایت کی ہیں ان میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ  تیسرے مقام پر ہیں جو کہ اس بات کی دلیل ہے کہ اشاعت دین میں خواتین کا بھی کلیدی کردار رہا ہے۔ جسٹس شاہ محمد قادری نے اسلامی قوانین و شرعی قوانین سے امت کو دور کرنے کی سازشوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرنے کی کوششیں نہ صرف سماج کے لئے خطرات کا سبب بنیں گی بلکہ ان کوششوں کے معاشرے پر منفی اثرات مرتب ہوں گے جو کہ غیر اخلاقی سرگرمیوں میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ اس موقع پر جسٹس شاہ محمد قادری نے کل ہند مسلم پرنل لاء بورڈ کی جانب سے تیارکردہ کتاب”An Overview of Family Laws in Islam”کی رسم رونمائی انجام دی۔ مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم نے اس مذاکرے سے خطاب کے دوران کہا کہ اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے مرد و خواتین کو برابری کے حقوق عطا کئے ہیں ۔ انہوں نے خلع کے اختیار اور طلاق کے مسئلہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان قوانین کو دیگر مذاہب کے ماننے والے بھی اختیار کر رہے ہیں لیکن ان کا اسلام کے متعلق تنقیدی نظریہ بھی برقرار ہے۔ اس اجلاس کے آغاز کے موقع پر محترمہ ثمینہ سبحانی نے خیرمقدمی خطاب کیا۔مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے اس موقعہ پر اپنے خطاب کے دوران عائلی تنازعات کے حل کے لئے دارالقضاء کے نظریہ کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ اپنے عائلی تنازعات کی یکسوئی کیلئے عدالتوں سے رجوع ہونے کے بجائے شریعت کے مطابق ان کے حل کو یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ مذاکرے کے پہلے دن مولانا عمر عابدین قاسمی مدنی‘ محترمہ ثمینہ سبحانی ‘ ڈاکٹر قدوسہ سلطانہ ‘  مولانا شاہد‘ محترمہ جلیسہ ایڈوکیٹ نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا۔ آخر میں ڈاکٹر لطیف النساء نے شکریہ ادا کیا۔

TOPPOPULARRECENT