Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / اسلام اور مسلم خواتین کی فتح، شائستہ عنبر کا ردعمل

اسلام اور مسلم خواتین کی فتح، شائستہ عنبر کا ردعمل

طلاق ثلاثہ کے نام پر مسلم خواتین کی ہراسانی کا سلسلہ ختم ہوگا : ویمنس پرسنل لا بورڈ
لکھنؤ 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم ویمنس پرسنل لا بورڈ اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ نے طلاق ثلاثہ پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا آج خیرمقدم کیا اور اس کو اسلام اور اس ملک کی مسلم خواتین کی فتح قرار دیا۔ اُنھوں نے کہاکہ اس فیصلے سے مسلم خواتین کو ایک نئی اُمید ملی ہے۔ آل انڈیا مسلم ویمنس پرسنل لا بورڈ کی صدر شائستہ عنبر نے جو مسلم خواتین کے حقوق کی جدوجہد بھی کررہی ہیں، کہاکہ ’’سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے۔ یہ اس ملک کی خواتین کی فتح ہے اور سب سے بڑھ کر یہ اسلام کی فتح بھی ہے‘‘۔ شائستہ نے کہاکہ ’’ہم اُمید کرتے ہیں کہ طلاق ثلاثہ پر آنے والے وقتوں میں ہمیشہ کیلئے مکمل پابندی عائد کردی جائے گی۔ اسلام میں اگرچہ طلاق ثلاثہ کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے جس کے باوجود مسلم خواتین کو سخت مشکلات اور مصائب کا سامنا ہے‘‘۔ شائستہ نے مزید کہاکہ ’’یہ طریقہ کار نام نہاد مذہبی پیشواؤں کا بنایا ہوا ہے۔ اور اس سے لاکھوں خواتین کی زندگیوں کو نقصان پہونچا ہے ۔ اس فیصلے نے مسلم خواتین کو ایک نئی اُمید دی ہے‘‘۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے آج اپنے ایک اکثریتی فیصلہ کے ذریعہ مسلمانوں میں طلاق ثلاثہ کے طریقہ کار کو کالعدم قرار دیا ہے۔ آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے ترجمان یعصوب عباس نے بھی اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ اب مسلم خواتین کو طلاق ثلاثہ کے نام پر ہراسانی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔ مولانا عباس نے کہاکہ ’’پیغمبر اسلام کے زمانہ میں طلاق ثلاثہ کا کوئی رواج نہیں تھا۔ طلاق ثلاثہ کے خلاف ہم ایک سخت قانون سازی چاہتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی (سخت) قانون جس طرح ہندو رسم ’ستی‘ کے خلاف ہے۔ تاہم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے سپریم کورٹ کے فیصلہ پر کسی تبصرہ سے انکار کردیا۔ انھوں نے کہاکہ بورڈ کے ارکان مل بیٹھیں گے اور اس ضمن میں مستقبل کے اقدامات پر فیصلہ کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT