Friday , September 22 2017
Home / مضامین / اسلام مخالف ڈونالڈ ٹرمپ پر امریکی مہربان کیوں؟

اسلام مخالف ڈونالڈ ٹرمپ پر امریکی مہربان کیوں؟

ظفر آغا
ٹرمپ یا ہلاری ؟ امریکہ ہی نہیں بلکہ ساری دنیا یہی سوال کررہی ہے کہ اگلا صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ ہوں گے یا ہلاری کلنٹن ۔ جی ہاں ساری دنیا محو حیرت ہے کہ خود کو دنیا کا سب سے مہذب کہنے والا بلکہ تہدیب کا ٹھیکیدار سمجھنے والا ملک امریکہ سب سے بدتہذیب شخص یعنی ڈونالڈ ٹرمپ کو اپنا اگلا صدر چننے کی کگار پر ہے ۔ اگر کوئی معجزہ نہیں ہوتا تو یہ بات اب تقریباً طے ہے کہ امریکہ کے ہونے والے صدارتی چناؤ میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار ٹرمپ ہوں گے اور انکا مقابلہ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہلاری سے ہوگا ۔ یہ وہی ٹرمپ ہیں جن سے بظاہر سارا امریکی میڈیا ، خود ان کی پارٹی کی اعلی کمان اور امریکہ کا ہر بھلا شخص حیران و پریشان ہے ۔ اس کا سبب یہ ہے کہ واقعی ٹرمپ ایک بے ہودہ شخص ہے ۔ اس کے منہ میں جو آتا ہے وہ بک دیتا ہے ۔ ابھی چند روز قبل اس نے اپنی ہی پارٹی کے دوسرے نمائندوں کے ساتھ اس قدر بے ہودہ بات کہی کہ جس کو رقم بھی نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ ٹرمپ کے حامیوں کو ٹرمپ کی بیہودگی ہی پسند آرہی ہے ۔ اور اپنی بے جا اور بیہودہ حرکتوں کی بنا پر یہی بیہودہ شخصیت جس کا نام ڈونالڈ ٹرمپ ہے، اب دنیا کے سب سے اہم اور طاقتور ملک امریکہ کا اگلا صدر بننے کی منزل تک پہنچ چکا ہے ۔
آخر یہ ڈونالڈ ٹرمپ ہے کون اور امریکہ کو یہ ہوا کیا ہے کہ وہ ٹرمپ جیسے شخص پر عاشق ہے ۔ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کی ایک بڑی کامیاب کمپنی کا مالک اور انتہائی دولتمند شخض ہے جو ایک ریالٹی ٹی وی کمپنی بھی چلاتا ہے ۔ وہ اپنی کمپنی انتہائی منفی انداز میں چلا رہا ہے ۔ مثلاً وہ کہتا ہے اگر وہ اگلا صدر امریکہ منتخب ہوگیا تو وہ امریکہ میں مسلمانوں  کا داخلہ پر امتناع لگادے گا ۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ کے پڑوسی ملک میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پر ایک دیوار کھڑی کردے گا تاکہ پڑوس سے آنے والے پٹنوز امریکہ ہجرت نہ کرسکیں ۔ اس کا کہنا ہے کہ کیونکہ وہ ایک انتہائی دولتمند شخص ہے اس لئے وہ امریکہ میں وال اسٹریٹ یعنی وہاں کے انتہائی دولتمند سرمایہ داروں سے چناؤ کے لئے کوئی چندہ نہیں لے گا اور اس کی ان باتوں پر امریکی فریفتہ ہیں ۔ آخر کیوں امریکیوں کو ٹرمپ کی یہ بیہودگیاں اس قدر پسند آرہی ہیں ؟
ٹرمپ کی بڑھتی کامیابی کے دو بنیادی اسباب ہیں ۔ اولاً یہ کہ امریکی معاشرہ اس وقت انتہائی Frustration کا شکار ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں سے امریکی معیشت کا بُرا حال ہے ۔ وہاں نوکریوں کا فقدان ہے اور نوجوان پریشان ہیں ۔ اس کے باوجود امریکہ میں دنیا بھر سے نوکری کرنے کے لئے لوگ باہر سے آتے ہیں ۔ ہجرت کرکے امریکہ میں بسنے والوں میں سب سے بڑی تعداد پٹنوز کی ہے جو میکسیکو جیسے ملک سے امریکہ آتے ہیں۔ عام امریکن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ پٹنوز ان کی نوکریوں پر قبضہ کررہے ہیں ۔ ان میں پٹنوز کے خلاف غصہ ہے ۔ اسی لئے ٹرمپ پٹنوز کوگالیاں دیتا ہے جس سے پٹنوز سے Frustrated امریکی بہت خوش ہوتے ہیں اور ٹرمپ کی حمایت کرتے ہیں ۔ اسی طرح امریکی نظام نے مسلم دہشت گردی کا جو ہوّا کھڑا کیا ہے اس نے عام امریکیوں کو مسلمانوں سے خائف کردیاہے ۔ اب ایک عام امریکی کو ہر مسلمان دہشت گرد نظر آتا ہے ۔ اس لئے جب ٹرمپ مسلمانوں کے مطابق یہ اعلان کرتا ہے کہ وہ بطور امریکی صدر امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع لگادے گا تو امریکیوں کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کو مسلم دہشت گردوں سے محفوظ کردے گا ۔ یعنی دہشت گردی سے خائف امریکی ذہنوں میں جو frustration بھرا ہوا ہے ٹرمپ اس کا فائدہ اٹھا کر اپنی مقبولیت میں چار چاند لگارہا ہے ۔ پھر بش کے دور میں جس طرح امریکی بڑے سرمایہ داروں نے بینک لوٹ کر امریکہ کو کنگال بنادیا تھا اس سے ہزارہا امریکی بے روزگار ہوگئے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ عام امریکیوں میں بڑے بڑے سرمایہ داروں میں بھی Frustration پایا جاتا ہے ۔ امریکی سرمایہ کی علامت Wall Street کو گالیاں دے کر ٹرمپ امریکیوں کے اس frustrationکو بھنارہا ہے ۔
الغرض ٹرمپ امریکیوں کے frustration کا فائدہ اٹھا کر ایک انتہائی منفی الیکشن کیمپئن چلا رہا ہے اور اس کی کیمپئن کامیاب ہے اور اب وہ ریپبلکن پارٹی کا اگلا صدارتی نمائندہ ہونے کی منزل تک پہنچ چکا ہے ۔ اسکی کیمپئن نہ صرف منفی ہے بلکہ نفرت پر مبنی ہے ۔ بہت حد تک وہ بڑی خوبصورتی سے گورے امریکیوں کی نسل پرستی کا بھی فائدہ اٹھارہا ہے ۔ گو امریکہ اور یوروپ نے دنیا میں سب سے زیادہ ترقی کی ہے اور دنیا بھر میں انسانیت نواز نظریات عطا کئے ہیں لیکن آج بھی گورا انگریز خواہ وہ امریکہ کا باشندہ ہو یا برطانیہ کا ، اسی بھرم اور نسل پرستی کا شکار ہے ۔ گورے چونکہ سب سے زیادہ ترقی یافتہ ہیں اس لئے وہ سب سے زیادہ تہذیب یافتہ بھی ہیں ۔ اس لئے دنیا پر حکومت کرنا یا پھر دنیا پر اپنا تسلط قائم رکھنا انکا پیدائشی اختیار ہے ، یعنی ایک عام گورا امریکی آج بھی بدترین نسل پرستی کا شکار ہے ، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے ۔ آج امریکہ مہاجروں کے خلاف جو بھی سوچے لیکن حقیقت یہی ہے کہ افریقہ اور دوسرے ممالک سے امریکہ آئے ہوئے لوگوں کے بغیر امریکہ جیسے مغربی ممالک چل نہیں سکتے۔ اسی طرح مسلمانوں کو لاکھ مسلم میڈیا دہشت گرد قرار دے لیکن اس دہشت گردی کے پس پشت امریکہ کی مسلم ممالک کے تئیں پالیسی بھی شامل ہے ۔ اب عام امریکی لاکھ سرمایہ داروں سے پریشان ہوں لیکن حقیقت یہی ہے کہ امریکہ اور سارے مغربی ممالک نے ایک ایسا معاشی نظام بنایا ہے ، جس میں سرمایہ کو انسان پر فوقیت حاصل ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امریکہ جیسے ملک کی تمام دولت محض ایک فیصد افراد کے پاس ہے ۔
یعنی امریکہ لاکھ ترقی یافتہ ہو یا لاکھ دولت سے سرشار ہو ، اسکا معاشرہ انسانی قدروں پر مبنی نہیں ہے ۔ وہاں انسان چھوٹا اور سرمایہ بڑا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے معاشرہ میں  frustration پیدا ہو ہی جائے گا اور وہ frustration آہستہ آہستہ نفرت کو جنم دے گا ۔ اس وقت امریکہ اسی نفرت کے لاوے میں بُھن رہا ہے اور ڈونالڈ ٹرمپ اسی نفرت کا سوداگر بن کر عام گورے امریکیوں کی نفرت کا خریدار بن گیا ہے ۔ امریکیوں کا یہ frustration اور اس سے جنمی نفرت کیا رنگ لاتی ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ، لیکن یہ طے ہے کہ نفرت کی بنیاد پر کھڑی دیوار سے خود امریکہ اور دنیا کو آگ لگ سکتی ہے ۔ اس لئے ڈونالڈ ٹرمپ نہ صرف امریکہ کے لئے بلکہ پوری دنیا کے لئے خطرہ بن گیا ہے ۔ اس لئے ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکہ کا اگلا صدر بننے سے روکنا امریکہ کا اولین فرض بن چکا ہے ۔ صرف اتنا ہی نہیں آج کی دنیا میں نفرت کی سیاست کا چلن عام ہوتا جارہا ہے ۔ اس لئے نفرت کی سیاست ہر جگہ ایک خطرہ بنتی جارہی ہے جس کو روکنا اور ختم کرنا ساری انسانیت کا فرض ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوا تو دنیا بھر میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے نفرت کے سوداگر نے جانے کیا غضب ڈھائیں گے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT