Sunday , August 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اسلام میں اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کا پیام

اسلام میں اجتماعیت اور اتحاد و اتفاق کا پیام

ریاکاری سے اجتناب کی تلقین ، ناگرکرنول میں مسجد کی افتتاحی تقریب سے مفتی خلیل احمد کا خطاب
ناگرکرنول۔ 17 اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) جس زمین پر مسجد تعمیر ہوتی ہے۔ وہ دیگر زمین سے ممتاز ہوجاتی ہے۔ اس مقام کی نوعیت، کیفیت بدل جاتی ہے۔ وہ زمین جس پر اللہ تعالیٰ کا گھر ہو، وہ ناقابل فروخت ہوجاتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ حیدرآباد نے کیا۔ مدرسہ اسلامیہ فضل العلوم ناگرکرنول کے احاطہ میں نو تعمیر شدہ مسجد سیدہ آمنہ کا انہوں نے نماز مغرب کی امامت فرماتے ہوئے افتتاح کیا۔ انتظامی کمیٹی مدرسہ کے زیراہتمام صدر کمیٹی جناب محمد علی کی صدارت و نائب صدر جناب محمد جعفر کی زیرنگرانی بعد نماز مغرب مسجد سیدہ آمنہ میں منعقدہ افتتاحی جلسہ میں بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے مولانا مفتی خلیل احمد نے کہا کہ دنیا میں کروڑوں عمارتیں بن رہی ہیں۔ بروز حشر ان عمارتوں کو بنانے والے کو کوئی اجر نہیں ملے گا لیکن اگر کوئی روئے زمین پر اللہ کے گھر کی تعمیر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بدلے میں جنت میں گھر عطا فرمائے گا۔ انہوں نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی اپنی استطاعت کے مطابق پرندے کے گھونسلے کے برابر بھی مسجد بنائے گا تو اس کو بھی اللہ تعالیٰ جنت میں مکان عطا فرمائے گا بشرطیکہ اس عمل میں اخلاص ہو ورنہ مساجد کی تعمیر میں ریاکاری شامل ہو تو یہ عمل اس کے لئے رائیگاں ثابت ہوگا۔ انہوں نے قرآن کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انس و جن کی پیدائش کا مقصد عبادت ہے اور بعض عبادتوں کے لئے مکان کی ضرورت ہوتی ہے اور نماز کی ادائیگی کے لئے مسجد اور حج کے لئے بیت اللہ، منٰی، عرفات کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شریعت کا ہر حکم اپنے اندر مصلحت رکھتا ہے اور اسلام اجتماعیت، اتحاد و اتفاق کا پیام دیتا ہے اور اس کا منظر ہمیں مساجد میں نظر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس بستی میں مسجد ہوتی ہے وہاں پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے اور اذان کی آواز سے شیطان دور بھاگ جاتا ہے۔ مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے اپنے سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ مساجد کی تعمیر میں اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس میں صرف مسلمانوں کا سرمایہ لگے۔ انہوں نے افسوس کے ساتھ کہا کہ آج کئی مساجد بن رہی ہیں لیکن مساجد کو آباد کرنے کی فکر نہیں کی جارہی ہے حالانکہ بعض مساجد میں جنازے کے ساتھ آنے والے مسجد کے باہر کھڑے ہوکر جنازے کو حوالے کرنے کے منتظر ہوتے ہیں۔ حتی کہ انہیں مسجد میں نماز پڑھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔ انہوں نے مدرسہ سے متصل مسجد کی تعمیر کی افادیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسجد میں نماز ادا کی جاتی ہے جبکہ مدارس میں نمازی بنائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مساجد میں عبادت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو تعلیم سے آگاہ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قبل ازیں مسجد سیدہ آمنہ کی تعمیر میں اپنا سرمایہ لگانے والے جناب عبداللطیف حفظ اللہ حال مقیم کویت نے عربی زبان میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہم کویت سے آئے ہیں لیکن اسلام کی بدولت اللہ نے ہمیں آج اپنے گھر میں ایک ساتھ جمع کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی ایمان وہی ہے کہ تم جہاں کہیں بھی ہو، اللہ سے ڈرتے رہو اور ہمیشہ زبان اللہ کے ذکر سے تر رکھو۔ مولانا حافظ محمد آصف الدین کامل الفقہ جامعہ نظامیہ نے جناب عبداللطیف کی عربی تقریر کا اردو ترجمہ بیان کیا۔ حافظ محمد فاروق کی قرأت کلام پاک سے جلسے کا آغاز ہوا۔ ناظم مدرسہ حافظ محمد ارشاد عالم کمسن نعت خواں خورشید عالم نے نعت سنائی۔ معتمد کمیٹی جناب سید رفیع الدین نے مہمانوں کا استقبال و شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر میر واجد علی میر خورشید علی، مولانا حافظ محمد رضی الدین، مولانا حافظ سید نورالدین، جناب محمد مختار انجینئر، جناب سلیم انجینئر، مرزا احمد بیگ انجینئر، سید بدرالدین قادری ، مدرسہ کمیٹی کے خازن محمد یوسف، عبدالعلیم، سید شہاب الدین، سید طاہرالدین، صدر مساجد کمیٹی، جناب عبدالحفیظ خان نقشبندی، معتمد کمیٹی شیخ مسعود، ناظم مدرسہ معراج العلوم جناب شیخ یعقوب بن عثمان باوزیر، جناب محمد صادق پاشاہ نقشبندی، صدر وقف کمیٹی جناب ناصر محی الدین اور دیگر نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT