Tuesday , August 22 2017
Home / مضامین / اسلام میں انسانیت کیلئے پیام حقانیت

اسلام میں انسانیت کیلئے پیام حقانیت

غضنفر علی خان
صوفیائے کرام ، سنتوں اور علمائے کرام سے ملاقاتوں کے بعد وزیراعظم مودی نے یہ تاثر دیا کہ ’’دنیا کو آج اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کی زیادہ ضرورت ہے‘‘ ۔ چلئے خیر سے ہمارے وزیراعظم کو یہ سوچنے اور اسکا اظہار کرنے کی توفیق تو ہوئی کہ اسلام ایک سچا مذہب ہے ۔ ہمارے صوفیائے کرام نے اس ہندوستان کو متمدن بنانے کے لئے انسانیت کو صحیح درس ہدایت دینے کی خاطر اپنی تعلیمات سے ملک کو سرفراز کیا ۔ ان ہی کے طفیل آج ہمارا ملک یکجہتی ، بھائی چارہ اور اخوت کے جذبات سے معمور ہے ، لیکن کچھ لوگ ایسے آج بھی ہندوستان میں پائے جاتے ہیں جو اس اخوت اور میل ملاپ کی فضا کو مکدر کرنا چاہتے ہیں ۔ وزیراعظم مودی نے اپنے ریڈیو پروگرام ’’من کی بات‘‘ میں ان تاثرات کا اظہار کیا ۔ آج انھیں احساس ہوا کہ یہ ملک جس کے وہ وزیراعظم ہیں ، صوفیوں ، سنتوں اور دین دھرم کے ماننے والوں کا ملک ہے جہاں نفرتیں پنپ نہیں سکتیں ۔ جہاں کسی عقیدے کے ماننے والے کو کوئی اور عقیدہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ اسلام کو سمجھنے کے لئے صرف ’’صوفی ازم‘‘ ہی کا سہارا اگر مودی لے لیں تو ان کی سمجھ میں یہ بات آجائے گی کہ ’’بنی نوع انسان‘‘ ایسی اکائی ہے جس کو برادریوں ، ذاتوں اور علاقوں میں تقسیم کردیا گیا لیکن ہر کسی کی مذہبی فکر اپنی جگہ ایک سچائی ہے ۔ مذاہب کے افتراق کے باوجود انسانیت ایک اٹل حقیقت ایک اکائی کی طرح آج بھی قائم ہے ۔ اسلام کا پیام حقانیت بھی یہی درس دیتا ہے ، مذہب اسلام کے بانی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اوصاف حمیدہ ہر دور اور ہر خطہ ارض میں بنی نوع انسانی کی رہبری اور راہنمائی کرتے ہیں ۔

لیکن چند شرپسندوں اور تشدد میں جھوٹا ایقان رکھنے والوں نے مذاہب کو رسوا کیا ۔ ایسے عناصر اپنی اس شدت پسندی کی وجہ سے خود اپنے عقیدہ کو بھی بدنام کرتے ہیں ۔ اس قسم کے چند لوگ اسلام میں بھی ہیں جو نہ صرف اپنی دین دنیا کو برباد کررہے ہیں بلکہ عالم انسانیت کو بھی رسوا کررہے ہیں ۔ تاہم یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے اختیار کردہ رویہ اور غلط روش کے آئینہ میں مذہب اسلام کا عکس نہیں دیکھا جاسکتا ۔ دین کو بدنام کرنے والے یہ عناصر دراصل اسلام کے دامن پر ایک بدنما داغ ہیں ۔ اسی لئے اسلام کی فکر صحیح رکھنے والوں کی  غالب اکثریت ان کو دھتکارتی ہے اور علمائے کرام نے بھی انھیں ’’باعث رسوائی اسلام‘‘ قرار دیا ہے  ۔ دنیا میں جہاں جہاں ان کی انسانیت سوز حرکات سے خون خرابہ ہوا وہاں مفکرین اسلام نے ان کی مذمت کی ۔ بات دراصل یہ ہے کہ اسلام اور تشدد ایک دوسرے کے متضاد ہیں ۔ عقیدۂ اسلام کو ماننے والا کوئی فرد تشدد کی راہ اختیار نہیں کرسکتا اور جو گمراہ ہو کر ایسی روش اختیار کرتا ہے وہ مسلمان ہی نہیں رہتا ۔
یہی بات دیگر مذاہب کے تعلق سے بھی کہی جاسکتی ہے ۔ خود ہمارے ملک میں ان کی کمی نہیں ۔ آئے دن ملک میں فرقہ وارانہ تشدد کے ہولناک واقعات رونما ہوتے ہیں ۔ کبھی کبھی تو واقعات کسی ریاستی حکومت کی نگرانی اور سرپرستی میں ہوتے ہیں ۔ چنانچہ گجرات کے مسلم کش فسادات اس کی جیتی جاگتی تصویر ہیں اور یہ کشت و خون اور غارتگری ریاست گجرات میں اس وقت ہوئی جب کہ آج اسلام کی حقانیت کی ضرورت کا اعتراف کرنے والے نریندر مودی وہاں کے چیف منسٹر تھے ۔ ان مظلوم شہید مسلمانوں کو خود وزیراعظم نے ’’کتے کے بچہ‘‘ سے تعبیر کیا تھا ۔

دین مبین گجرات فسادات کے وقت بھی ’’مبنی برحق‘‘ مذہب تھا ۔ آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا ۔ حقانیت کا پیام تو اسلام نے اس روز دے دیا تھا جبکہ اسکا آفتاب طلوع ہوا تھا ۔ جب ایام جاہلیت کے خلاف نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے صدائے حق بلند کی تھی اور یہ صدا یہ آواز آج بھی اقطائے عالم میں گونج رہی ہے ۔ آج بھی اسلام اپنی حق پسندی اور حق گوئی کے لئے دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے ۔ کیونکہ اس مذہب نے اپنی تعلیمات میں کہا تھا کہ ’’کسی ایک فرد کا قتل ساری انسانیت کا قتل ہے اور کسی ایک شخص کی جان بچانا ساری انسانیت کی جان بچانے کے مماثل ہے‘‘۔ حق کبھی نہیں بدلتا ، حق دائمی ہوتا ہے ۔ امتداد زمانہ اس کی چمک دمک کو ماند نہیں کرسکتا ، یہی وجہ ہے کہ تقریباً اپنے ظہور کے ساڑھے چودہ سو سال بعد بھی عالم انسانیت کی بڑی تعداد اس کی پیروی کرتی ہے۔ صوفیائے کرام اور اللہ کے مقرب بندوں نے بے شک اسلام کی تعلیمات کو ہمہ وقتی طور پر برقرار رکھنے کے لئے اپنا سب کچھ قربان کرڈالا ۔ حق کی راہ میں جان عزیز قربان کردی ، حق کی خاطر اسلام زندہ ہے اور رہے گا ۔ اسلام کی حقانیت کیلئے کسی کی تصدیق کی ضرورت نہیں ہے ۔ کسی کے کہنے سے یہ حقیقت ابدی جسے اسلام کہتے ہیں نہ تو متاثر ہوگا اور نہ اور کسی کی ستائش یا اقرار سے آبروئے دین بڑھے گی ۔ کاروان بنی نوع انسان یونہی چلتا رہے گا ۔ ہر دور کے فارعین اپنی کوشش کرتے رہیں گے ۔ لیکن اسلام اٹل حقیقت بن کر آیا تھا اور ہمیشہ رہے گا ۔ کیونکہ اس آواز حق کی حفاظت کی ذمہ داری خود اللہ نے لے رکھی ہے ۔ یہ دین انسانی کوششوں سے کبھی ختم نہیں ہوگا ۔ اب یہ اللہ کی دی ہوئی توفیق ہے کہ بعض لوگ اس پیام حق کو فوراً قبول کرلیتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں گمراہی کی راہ سے ’’راہ راست‘‘ آنے کی کبھی توفیق نہیں ہوتی۔
اللہ اگر توفیق نہ دے انسان کے بس کی بات نہیں
اگر آج وزیراعظم کو اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کا خیال آیا تو انھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ یہ توفیق انھیں اس اللہ عزو جل نے دی ہے جو ساری کائنات کا تمام مخلوقات کا خالق ہے۔ انھیں تو خود کو خوش نصیب سمجھنا چاہئے ۔

حق شناسی کا انھیں خیال آیا تب ہی تو انھوں نے من کی بات پروگرام میں کہا کہ ’’جتنی باتیں انھیں دین کے بارے میں معلوم ہوسکیں اس سے انھیں یہ احساس ہوا کہ ’’اسلام کی حقانیت کو سمجھنے کی آج ساری دنیا کو ضرورت ہے‘‘ ۔ بے شک ہے کیونکہ مذہب اسلام کی تعلیمات میں دور حاضر کے تمام انسانی مسائل کا حل موجود ہے ۔ اگر وہ اسی طرح اسلام دشمنی کی اپنی عینک اتاردیں اور سچ بولنے کی اپنے اندر ہمت پیدا کریں تو یہ توفیق رنگ لائے گی۔ دنیا نے تو درس حقانیت بڑی حد تک سمجھ لیا ہے جو نہ سمجھ سکے وہ خسارہ میں ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے ہی ملک اور اپنی ہی پارٹی میں موجود افراد کو جو اسلام کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ، گمراہیوں کا شکار ہیں ، انھیں وزیراعظم مودی یہ سمجھائیں کہ اسلام بیزاری اور اسلام دشمنی ان لوگوں کو کچھ نہیں دے سکتی ۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو مذہبی منافرت کے ذریعہ ختم نہیں کیا جاسکتا ۔ ہندوستان کا مسلمان اس ملک کا اتنا ہی وفادار ہے جتنا کہ کسی اور مذہبی عقیدہ کا ماننے والا انسان ۔ ان کی وفاداری ، فرض شناسی اور وطن پرستی پر شک کرنا یکسر غلط ہے اور یہ غلطی ہندوتوا کے فروغ کے حامی بار بار کرتے ہیں ۔ افسوس تو  اس بات کا ہے کہ اسلام کے پیام حقانیت کی ستائش کرنے والے مسٹر مودی ان کی سرکوبی نہیں کرتے ، ان کی یہ غلطی کو اپنی خاموشی کی چادر میں چھپا لیتے ہیں ۔ یہ صورتحال ملک کے اتحاد کے لئے خطرناک ہے ۔ کبھی مسلمانوں کی آبادی کے تناسب کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں تو کبھی ان کی آبادی میں ہونے والے اضافہ پر تلملا جاتے ہیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں تھیں بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس پر یہ اسلام دشمن طاقتیں عمل کررہی ہیں۔ اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرنے والے ہمارے وزیراعظم کو سب سے پہلے ان عناصر کو ختم کرنا چاہئے ۔ ایک طرف پیام حق کی خوبیوں کو تسلیم کرنا اور دوسری طرف ملک کے مسلمانوں سے یہ سلوک فکر کے تضاد کی غمازی کرتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT