Thursday , June 29 2017
Home / اضلاع کی خبریں / اسلام کی تعلیمات برادران وطن تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت

اسلام کی تعلیمات برادران وطن تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت

بھاوا، مہاراشٹرا میں جلسہ عام سے حافظ شاہ محمد عبدالمقتدر قریشی چشتی صابری کا خطاب
لاتور۔/18اپریل،( ذریعہ ای میل) اسلام روز ِاول ہی سے انسانوں کے درمیان عدل و انصاف،برابری ومساوات ،اتحاد واتفاق اور انسانی بنیادوں پر آپس میں محبت وبھائی چارگی کی تعلیم وتلقین کرتا ہے ، اسلام کی نظر میں وہ شخص قابل تعریف ہے جو اسانیت کا درد محسوس کرتے ہوئے ان کی خد مت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے ، پیغمبر اسلام نبی ٔ رحمت ؐ نے اپنی مبارک ومسعود اور انسانیت نواز تعلیمات سے پوری دنیا میں پیار ومحبت کا دیا جلایا ،آپ ؐ نیارشاد فرمایا ’’ تم میں بہترین شخص وہ ہے جو لوگوں کی بھلائی کے کام کرتا ہے‘‘، اسلام نے بتایا کہ سارے انسان ایک ہی ماں باپ کی اولاد ہیں ،ان کے درمیان پہلا رشتہ انسانیت ہی کا ہے ، آپسی پیار ومحبت ہی انسانیت کی سب سے بڑی پہچان ہے ،نفرتیں اور عداوتیں انسانیت کے لئے زہر قاتل اور دنیا کے لئے بربادی کا سامان ہیں ، آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ بلاوجہ کسی کو ستانے ،تکلیف پہنچانے اور ظلم وزیادتی کرنے والے ہر گز مسلمان کہلانے کے لائق نہیں،اسلام کی اس قدر زبردست ،انسانیت نواز ،ترحم سے پُر تعلیمات اور مسلانوں کے دل محبتوں سے لبریز ہونے کے باوجود آج دنیا جھوٹے الزامات لگاکر انہیں ہی بدنام کر رہی ہے اور اس کے ذریعہ اسلام کے حسین چہرہ کو مسخ کرنے اور مسلمانوں کی شبیہ کو بگاڑ نے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہے، ہندوستان میں بھی بعض فرقہ پرست طاقتیں اپنے مفاد کی خاطر مذہب کی آڑ میں ہندو مسلم میں نفرتوں کی دیوار کھڑی کرنے میں لگے ہوئے ہیں ، حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ ہندوستان رواداری ویکجہتی اور آپسی میل جول میں اپنی الگ پہنچان رکھتا ہے ،یہاں کی گنگا جمنی تہذیب پوری دنیا میں مشہور ہے ، اس میں مختلف رنگ ونسل کے لوگ آباد ہیں،اس میں مختلف مذاہب کے ماننے والے رہتے ہیں ،اس ملک کی اصل طاقت اس قوم کا اتحاد ہے، ان حالات میں مسلمانوں کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے کہ وہ اسلام کے پیغام امن ،اس کی انسانیت نواز تعلیمات ، اسلام کی ہمدردی و روادی اوراس کے امن وآشتی کے پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچائیں ،خاص کر برادران وطن کوان سے روشناس کرانے کی کوشش کریں ، جب تک مسلمان برادران وطن سے قریب ہوکر اپنے قول وفعل سے اسلام کی حیات بخش اور انسانیت نواز تعلیمات سے انہیں واقف نہیں کرتے تب تک بدگمانیاں دور نہ ہوگی ، بھولے بھالے لوگ بدستور پروپگنڈہ کا شکار ہوتے رہیں گے اور نفرتوں کی آگ بڑھکتے ہی رہے گی، یاد رکھیں باطل جس قوت کے ساتھ اسلام کو بدنام کرنے میں لگا ہے اسی قوت کے ساتھ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات پھیلانے کی ضرورت ہے ، مسلمان اپنے ملک سے پیار کرتا تھا ،کرتا ہے اور کرتا رہے گا،اتحاد ملت کے علمبردار ،خادم قوم وملت مولانا حافظ شاہ محمد عبدالمقتدر قریشی چشتی صابری نبیرہ حضرت قطب دکنؒ بانی وسکریٹری مرکز خد مت خلق حیدرآباد خانقاہ چشتیہ صابریہ حسینیہ کے زیر اہتمام اور اتحاد ملت کمیٹی بھادا کے زیر انتظام سرزمین بھادا ،تعلقہ اوسہ ضلع لاتور مہاراشٹرا میں ’’ اسلام کا پیغام امن وملی اتحاد ومجلس ذکر وسلوک‘‘ کے عظیم الشان تاریخ ساز جلسہ ٔ عام سے خطاب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار فرمارہے تھے، خادم قوم وملت نے کہا کہ اہلیان بھادا واوسہ قابل مبارک باد ،قابل تعریف بلکہ قابل تقلید ہیں کہ انہوں نے ان حالات میںبلالحاظ مذہب وملت ،مسلک ومشرب ایسے عظیم الشان جلسہ کا انعقاد کرکے زبان حال سے دشمنوں کو پیغام دیا کہ نفرتوں کا جواب متحد ہوکر اور محبت وپیار کی شمع جلا کر دیا جاتا ہے ، مجھے امید ہے کہ امن ومحبت کی جو مَشا ل یہاں جلائی گئی ہے اس کی روشنی ان شاء اللہ صرف اس ملک میں ہی میں نہیں بلکہ دیگر ممالک تک بھی پہنچے گی اور اس کے اچھے نتائج برآمد ہوں گے، حافظ قاری محمد عبدالواسع کی تلاوت قرآن سے جلسہ کا آغاز ہوا، محمد بصیرت خان اور مولانا عبدالواسع قریشی حسامی نے نعت شریف پیش کی،جبکہ محمد الطاف نواز،عتیق الرحمن اور غلام مبشر متعلم مدرسہ صفہ حیدرآباد نے ترانۂ حب الوطنی پیش کرکے ایک سما باندھ دیا ، اس موقع پر مولانا مفتی تنظیم عالم قاسمی استاذ فقہ وحدیث دار العلوم سبیل السلام حیدرآباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی تعلیمات برادران وطن تک پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے ،نیز آپ نے ذکر ودرود کی فضیلت اور اہل دل کی صحبت کی برکت پر بھی روشنی ڈالی ،مفتی عبدالمنعم فاروقی ناظم تعلیمات مدرسہ صفہ حیدرآباد وخطیب جامع مسجد اشرفی قلعہ گولکنڈہ نے نظامت کے فرائض انجام دئے ،اس موقع پر خادم قوم وملت کی مشہور کتاب ’’جنات،جادو اور نظر لگنا حقیقت یا افسانہ؟‘‘ کے ہندی ایڈیشن کا رسم اجراء عمل میں آیا، کثیر تعداد میں مردو وخواتین نے خادم قوم وملت کے ہاتھوں پر سلاسل اربعہ میں بیعت بھی کیا،جلسۂ عام میں اطراف وکناف سے ہزروں کی تعداد میں مرد وخواتین نے شرکت کی ،جن میں کافی تعداد ہندو مرد وخواتین کی بھی تھی،رات دیر گئے خادم قوموملت کی دعا پر جلسہ ٔ عام کا اختتام عمل میں آیا،شیخ شکیل اوسہ صدر استقبالیہ کمیٹی اور دیگر اراکین نے مہمانوں کا استقبال کیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT