Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری

اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنا مسلمانوں کی ذمہ داری

ڈونالڈ ٹرمپ کے ریمارک پر نکتہ چینی، باکسر محمد علی کا ردعمل
واشنگٹن 10 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) باکسنگ کی عظیم شخصیت محمد علی نے امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع عائد کرنے ریپبلکن صدارتی دوڑ میں شامل ڈونالڈ ٹرمپ کی تجویز پر شدید نکتہ چینی کی۔ انھوں نے مسلمانوں پر زور دیا کہ ان تمام کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھائیں جو اپنے شخصی ایجنڈہ کے لئے اسلام کو بدنام کررہے ہیں۔ محمد علی دنیا بھر میں مقبول ترین مسلم شخصیت ہیں۔ انھوں نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ حقیقی مسلمان یہ بخوبی جانتے ہیں کہ نام نہاد اسلام پسند جہادیوں کا بے مقصد تشدد ہماری مذہبی تعلیمات کے منافی ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ مسلم سیاسی قائدین کو مذہب اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہوئے غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا چاہئے۔

انھیں یہ واضح کرنا چاہئے کہ گمراہ قاتلوں نے اسلام کی حقیقی تصویر کو مسخ کرکے پیش کیا ہے۔ باکسر محمد علی کا یہ بیان پہلے این بی سی نیوز پر پیش کیا گیا اور اس میں ٹرمپ کا ذکر نہیں تھا۔ لیکن یہ صدارتی امیدواروں کے نام تھا جو امریکہ میں مسلمانوں کے داخلہ پر امتناع کی تجویز دے رہے ہیں۔ محمد علی نے لکھا کہ انھوں نے اس طرح کے تبصرہ کے ذریعہ بے شمار افراد کو اسلام کے بارے میں معلومات کے حصول سے دور کردیا ہے۔ صدر بارک اوباما نے اتوار کی شب قوم سے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے امریکی عوام پر زور دیا تھا کہ وہ امتیازی رویہ کو مسترد کردیں۔ انھوں نے کہاکہ امریکی مسلمان ہمارے دوست، ہمارے پڑوسی، ہمارے معاون ساتھی اور ہمارے اسپورٹسہیرو ہیں‘‘۔ ٹرمپ نے دوسرے دن ٹوئٹر پر لکھا کہ آخر کس اسپورٹس کی وہ بات کررہے ہیں، اور وہ کون ہیں؟ جبکہ حقیقت میں ٹرمپ نے محمد علی سے کئی مرتبہ ملاقاتیں کی اور یہاں تک کہ 2007 ء میں سابق ہیوی ویٹ چمپئن سے موسوم ایوارڈ بھی حاصل کیا۔ 73 سالہ محمد علی کیسیٹس کلے میں پیدا ہوئے اور 1964 ء میں اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام تبدیل کرلیا۔

TOPPOPULARRECENT