Saturday , October 21 2017
Home / Top Stories / اسلام کے نظام طلاق میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں

اسلام کے نظام طلاق میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں

قرآن و سنت ہمارا شیوہ، آل انڈیا سنی علماء کونسل کی تجویز مسترد، مسلم پرسنل لاء بورڈ

لکھنؤ۔ 3 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج واضح طور پر کہا ہیکہ طلاق ثلاثہ کے نظام کو تبدیل نہیںکیا جاسکتا۔ بورڈ نے اس تجویز کو یکسر مسترد کردیا کہ تین مرتبہ طلاق دینے سے قبل لازمی طور پر تین ماہ کی مہلت دی جانی چاہئے تاکہ ازدواجی جوڑے میں باہمی مصالحت کی راہ ہموار ہوسکے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ترجمان مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہاکہ قرآن و حدیث کی روشنی میں تین مرتبہ طلاق دینا ایک بڑا جرم ہے لیکن یہ ایک ایسا عمل ہے جسے تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ طلاق ثلاثہ کے عمل کو مکمل تصور کیا جائے گا اور اس میں کسی طرح کی تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مختلف ذرائع ابلاغ کے ذریعہ یہ اطلاعات مل رہی ہیں کہ آل انڈیا سنی علماء کونسل نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے علاوہ دیوبند اور بریلوی مسلک کے حامل اداروں کو مکتوب روانہ کیا ہے جس میں یہ کہا گیا ہیکہ کیا اسلامی قانون میں یہ گنجائش فراہم ہوسکتی ہے کہ کوئی شخص ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق دے دے تو بھی اسے ایک ہی طلاق تصور کی جائے۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے کہا کہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کو تاحال ایسا کوئی مکتوب نہیں ملا ہے لیکن یہ واضح ہے کہ ہم اس تجویز سے اتفاق نہیں کرتے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ دیگر اسلامی ممالک میں کیا ہورہا ہے۔

ہم یہ جاننا نہیں چاہتے کہ پاکستان، بنگلہ دیش، ایران، سوڈان اور دیگر ممالک کیا طرزعمل اختیار کررہے ہیں۔ ہم صرف اور صرف قرآن مجید، حدیث شریف اور سنت رسول ؐ کو ہی اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق کو ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے لیکن ہمارے پاس مکمل نظام حیات ہے اور اس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ مولانا عبدالرحیم قریشی نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے ملک بھر میں علماء کو ایک سوالنامہ روانہ کیا ہے جس میں یہ پوچھا گیا تھا کہ کیا کسی شخص کو تین طلاق دینے پر سزاء دی جاسکتی ہے یا نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قدیم فتویٰ موجود ہے جس کے مطابق ایک ہی نشست میں تین مرتبہ طلاق ایک جرم ہے لیکن طلاق پوری طرح واقع ہوجائے گی۔ پہلے اس طرح کے شوہروں کو کوڑے لگائے جاتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے علماء سے یہ جاننا چاہا کہ موجودہ حالات میں کیا طریقہ کار اختیار کیا جائے۔ ہم ان تمام علماء کو مدعو کریں گے اور اس موضوع پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ جماعت رضائے مصطفی کے جنرل سکریٹری مولانا شہاب الدین نے کہا کہ ایک ہی نشست میں تین طلاق کو ایک طلاق تصور کرنے کا مطالبہ ماضی میں بھی کیا گیا تھا لیکن حنفی، شافعی، مالکی اور حنبلی مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء کا یہ متفقہ فیصلہ ہیکہ اگر ایک نشست میں 3 مرتبہ طلاق دی جائے تو ازدواجی رشتہ منقطع ہوجائے گا۔

TOPPOPULARRECENT