Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / اسلحہ ڈپو میں آگ

اسلحہ ڈپو میں آگ

ملک کی طاقتور دفاعی طاقت کے اسلحہ ڈپو میں مہیب آتشزدگی اور 20 فوجی جوانوں کی ہلاکت صدمہ خیز واقعہ ہے ۔ مہاراشٹرا کے ضلع دردھا میں پل گاؤں میں واقع سنٹر ایمیونیشن ڈپو میں یہ آگ کسی لاپرواہی یا شارٹ سرکٹ کا نتیجہ کہی جارہی ہے ۔ اسلحہ ڈپو میں آگ لگنے کے واقعات نئے نہیں ہیں، لاپراوہی کی وجہ سے پہلے بھی کئی اسلحہ ڈپو میں آگ لگی تھی ۔ حفاظتی انتظامات اور چوکسی میں کہیں نہ کہیں کوتاہی کی وجہ سے ملک کی دفاعی طاقت کے حامل سب سے بڑے اسلحہ ذخائر کو نقصان ہورہاہے ۔ پیر اور منگل کی درمیانی شب تقریباً رات دو بجے اس ڈپو سے دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں تھیں۔ دھماکوں کے بعد وہاں شعلے بلند ہوئے اور اطراف و اکناف میں واقع مواضعات میں لوگ خوف و ہراس کے حالت میں دوڑ پڑے ۔ چار دیہاتوں کو خالی کروادیا گیا ۔ اسلحہ ڈپو کے ذخائر میں آگ لگنے کے ماضی کے واقعات کا تجربہ رکھنے کے باوجود حکومت اور فوجی شعبہ اس طرح کی آتشزدگی کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے میں مجرمانہ غفلت سے کام لیتی ہے تو پھر ملک کے دفاعی ذخائر کی تباہی کیلئے خود حکومت اور متعلقہ فوجی ڈپارٹمنٹ ذمہ دار ہوگا ۔ سال 2000ء میں بھرت پور کے اسلحہ ڈپو میں آگ سے دو افراد ہلاک اور تقریباً 9 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا تھا ۔

2007 ء میں کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں اسلحہ ڈپو میں آتشزدگی سے کئی افراد زخمی ہوئے تھے ۔ 2010 ء میں مشرقی شہر پنا گڑھ میں ایک اسلحہ ڈپو میں مہیب آتشزدگی کی وجہ سے نقصانات ہوئے تھے ۔ فوج کو اسلحہ کے ذخائر کی حفاظت کی ذمہ داری پوری چوکسی سے انجام دینی پڑتی ہے ۔ سرحدوں کی نگہبانی کرنے میں مہارت رکھنے والی فوج اسلحہ ذخیرہ کو لاپرواہی سے دوچار نہیں کرسکتی ۔ اس واقعہ میں کہیں نہ کہیں کسی کوتاہی پر شبہ جاتا ہے ۔ شارٹ سرکٹ کا نتیجہ بھی مان لیا جائے تو اسلحہ کے بڑے ذخیرہ والے گودام میں الکٹرک اشیاء کی دیکھ بھال میں لاپرواہی کو ہرگز معاف نہیں کیا جانا چاہئے چونکہ کسی حساس مقام پر برقی سربراہی کے عمل کا حل محفوظ طریقہ سے کیا جاتا ہے ۔ پل گاؤں مہاراشٹرا کے اس ڈپو میں آگ کس طرح لگی اور اس کی وجوہات کیا ہیں اس کا پتہ چلانے کے لئے تحقیقاتی پیانل کا اعلان کیا گیا ۔ ہر مرتبہ کہیں نہ کہیں کچھ سانحہ ہوجاتا ہے تو تحقیقات کا اعلان کیا جاتا ہے تاکہ حکومت اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہوجائے ۔

اسلحہ کے ذخائر میں آگ لگنے یا لگانے کے درمیان کئی شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ بعض ذہنوں میں یہ شبہ بھی پایا جاتا ہوگا کہ یہ آگ اسلحہ کو تلف کرنے کی نیت سے لگائی جاتی ہے تاکہ نئے اسلحہ کی خریداری کے ذریعہ کرپشن کو ہوا دی جاسکے اور فوج یا دفاعی شعبہ کے ذریعہ اب تک جتنی بدعنوانیوں کے انکشافات ہوئے ہیں یہ کئی بلین ڈالرس سے متعلق اسکامس کے بارے میں ہے ۔ اسلحہ ذخیرہ کو آگ لگانے کے پیچھے کون ذمہ دار ہے اس کا پتہ چلاکر فوری سزا دی جانے کا مطالبہ کرنا آسان ہے مگر ایسے واقعات کا تدارک کرنے اور اسلحہ کو محفوظ رکھنے کو یقینی بنانے کے اقدامات ناگزیر ہیں۔ جن اسلحہ ڈپو میں بھاری اسلحہ ذخائر ہوں تو ان کی نگہداشت کا طریقہ نہایت ہی اعلیٰ پیمانہ کا ہونا چاہئے ۔ جس ڈپو میں آگ لگی تھی اس ڈپو میں بھاری اسلحہ کا ذخیرہ تھا۔ اے کے 47 اور برہموس میزائیلس جیسے اسلحہ کو محفوظ رکھنے کا کوئی مؤثر دفاعی نظام نہیں رہا تو پھر آئندہ بھی ایسے واقعات کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جاسکتا ۔ اسلحہ ڈپو میں جب طاقتور اسلحہ رکھے ہوں تو دھماکوں کی صورت میں اس کی تباہی بھی زیادہ ہوگی ۔ اطراف و اکناف مواضعات میں کئی مکانات کو نقصان پہونچا ۔ آگ کی تپش اتنی شدید تھی کہ دور درازکے مکانات کی دیواریں اور دروازے گرگئے ۔ مہاراشٹرا کے ضلع وردھا کے پل گاؤں کا اسلحہ ڈپو ملک کی دفاعی افواج کاسب سے بڑا ڈپو ہے جس کو حال ہی میں سولار توانائی کے استعمال پر ایوارڈ بھی مل چکا ہے ۔ یہ سولار توانائی ناکارہ ہونے والے گولہ بارود کو تلف کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ ایشیاء کا دوسرا بڑا اسلحہ ڈپو ہونے کی وجہ سے یہاں بھاری مقدار میں فوجی ہتھیاروں کا ذخیرہ کیا جاتا ہے ۔ نریندر مودی حکومت کی دو سالہ تکمیل کا جشن اسلحہ ڈپو دھماکوں کی نذر ہوگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT