Friday , October 20 2017
Home / دنیا / اسلحہ کے فروخت پر نصف صدی سے جاری امتناع برخاست

اسلحہ کے فروخت پر نصف صدی سے جاری امتناع برخاست

امریکہ اور ویتنام کے مستحکم تعلقات پر اوباما کی ستائش ،چین کی سرگرمیوں کو روکنے کی کوشش

ہنوئی ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدر امریکہ بارک اوباما نے ویتنام کو اسلحہ کی فروخت پر نصف صدی سے زائد امتناع آج برخاست کردیا۔ انہوں نے باہمی تعلقات میں استحکام کی ضرورت ظاہر کی۔ ایسا لگتا ہیکہ امریکہ کی نظر میں ویتنام اب ایک اہم پارٹنر بننے جارہا ہے اور خارجہ پالیسی میں اس کا اہم حصہ ہوگا۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اوباما کا امتناع برخاست کرنے کا فیصلہ ویتنام کے ساتھ باہمی تعلقات کو ایک نئی جہت عطا کرنا ہے۔ اس مرحلہ پر دونوں ممالک نے دوستی کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اوباما نے کہا کہ سردجنگ دو کے بعد ویتنام کو اب خود اپنے دفاع کیلئے اسلحہ کی ضرورت ہے لیکن ان کے اس اقدام کو ایشیاء میں چین کے بڑھتے اثرورسوخ کو روکنے کی کوشش سمجھا جارہا ہے۔ اوباما کی اپنے پڑوسی ملک کے ساتھ دفاعی تعلقات میں بہتری بیجنگ کیلئے بھی شبہ کا سبب ہے۔ اوباما نے دعویٰ کیا کہ ان کے اس اقدام سے چین کا کوئی تعلق نہیں لیکن انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ چھوٹے ممالک جیسے ویتنام کے ساتھ اتحاد برقرار رکھے گا۔ امریکہ اور ویتنام نے بحری مسائل پر باہمی تشویش ظاہر کی ہے۔

چین نے اسلحہ کی فروخت پر امتناع برخاست کرنے امریکہ کے فیصلہ کی فوری طور پر ستائش کی اور توقع ظاہر کی کہ امریکہ اور ویتنام کے مابین باہمی و دوستانہ تعلقات علاقائی استحکام کا سبب ہوں گے۔ امریکی صدر بارک اوباما نے امریکہ اور ویتنام کے تعلقات میں استحکام کو خوش آئند قرار دیا۔ یاد رہیکہ اوباما اس وقت ویتنام کے دورہ پر ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے کٹر دشمن تھے اور ویتنام نے طویل جنگ کے بعد امریکہ سے آزادی حاصل کی تھی۔ بہرحال اب دونوں ممالک تجارت کے شعبہ میں ایک دوسرے کے ساتھ مزید تعاون کے خواہاں ہیں اور متنازعہ آبی حدود میں چین کی سرگرمیوں پر باہم تشویش کا اظہار بھی کیا۔ ہنوئی میں صدر اوباما نے اپنے ہم منصب تران ڈائی قوانگ سے کہا کہ ان کا دورہ دراصل دونوں ممالک کے برسوں پرانے تعلقات کو مزید استحکام بخشنے کیلئے ہے جس سے نہ صرف حکومت سے حکومت بلکہ عوام سے عوام کے تعلقات بھی مستحکم ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT