Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / اسمارٹ سٹیز کے فنڈس کو دیگر مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا

اسمارٹ سٹیز کے فنڈس کو دیگر مقاصد کیلئے استعمال نہیں کیا جاسکتا

تعمیری اور ترقیاتی کاموں پر مرکز کی سخت نگرانی، مرکزی وزیر شہری ترقیات کا خطاب
نئی دہلی ۔ 22 ۔ فروری (سیاست ڈاٹ کام) یہ واضح پیام دیتے ہوئے کہ اسمارٹ سٹی پراجکٹ کیلئے منظورہ فنڈس دیگر مقاصد کیلئے استعمال نہیں کئے جاسکتے۔ مرکزی وزیر شہری ترقیات ا یم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ پراجکٹ کی سرگرمیوں پر سخت نگرانی اور مشاہدہ کیا جائے گا ۔ انہوں نے بتایا کہ اسمارٹ شہروں کے انتخاب میں کوئی سیاست نہیں ہے کیونکہ اس کی فہرست میں بی جے پی کی زیر اقتدار کئی ریاستیں شامل نہیں ہیں جبکہ شہروں کی اشد ضروریات کی بنیاد پر یہ انتخاب کیا گیا ہے ۔ الہ آباد اسمارٹ سٹیز مشن پر ایک سمینار جس میں ملک گیر سطح پر 23 میونسپل کارپوریشن کے سینئر عہدیدار شریک ہیں جنہیں منتخبہ 20 شہروں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے اس پراجکٹ کی کامیابی کیلئے عوام سے تعاون کی گزارش کی۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ نریندر مودی کے پاس کوئی الہ الدین کا چراغ نہیں ہے جس کے ذریعہ ہر ایک شہر کو اسمارٹ بنایا جا سکے جس کے لئے عوامی شراکت داری کے ساتھ اسمارٹ لیڈروں کے ایکشن ، ویژن اور امپلی منشین (اقدام، منصوبہ اور عمل آوری ) کی ضرورت  ہوتی ہے ۔ انہوں نے استفسار کیا کہ اسمارٹ سٹی کی تعمیر کیونکر ممکن ہوسکتی ہے ، جب عوام سرکاری انتظامییہ سے تعاون نہیں کریں گے۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اسمارٹ سٹی کے فنڈس کے ذریعہ تعمیری کاموں پر نگرانی اور مشاہدہ کیا جائے گا تاکہ یہ رقومات دیگر مق اصد کیلئے استعمال نہ ہوسکے۔ انہوں نے اس خصوص میں عوام اور مقامی مجالس کے عظیم رول کی ضرورت کو اجاگر کیا ۔ مسٹر وینکیا نائیڈو نے یہ عذر پیش کیا کہ ان کے آبائی شہر کو منتخبہ شہروں کی پہلی فہرست میں اسمارٹ سٹیز کیلئے شامل نہیں کیا گیا جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ترقی و تعمیر کے معاملہ میں کوئی سیاست اور امتیاز سے کام نہیں لیا گیا اور یہ حکومت کا بنیادی فلسفہ سے میں نے ہمیشہ یہ کہا کہ میرا تعاون آپ کے تعاون پر منحصر ہوگا۔ بصورت دیگر تعلقات میں ہم آہنگی برقرار نہیں رہے گی ۔ وزیر شہری ترقیات نے کہا کہ ہم نے کوئی سیاسی کھیل نہیں کھیلا ہے ۔بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں چھتیس گڑھ ، گوا اور جھارکھنڈ بھی اس فہرست میں شامل نہیں ہے حتیٰ کہ جن حلقوں سے اہم شخصیتیں منتخب ہوئیں، وہ بھی شامل نہیں کئے گئے ہیں کیونکہ میرا یہ ایقان ہے کہ ایک رکن پارلیمنٹ اسمارٹ سٹی کا کام انجام نہیں دے سکتا اور یہ فریضہ صرف میئر اور میونسپل کمشنر ہی ادا کرسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT