Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / اسمارٹ سٹی پراجکٹ کی مخالفت،مرکزی حکومت پر شیوسینا کی تنقید

اسمارٹ سٹی پراجکٹ کی مخالفت،مرکزی حکومت پر شیوسینا کی تنقید

ممبئی ۔ 14 ۔ ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکزی حکومت کے اسمارٹ سٹی پراجکٹ کو غیر دستوری اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے شیوسینا نے آج یہ الزام عائد کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی کی اس فلیگ شپ اسکیم کا اصل مقصد شہرممبئی پر مرکزکا کنٹرول حاصل کرنا ہے ۔ اس پراجکٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکمراں اتحاد کی حلیف جماعت نے کہا کہ ایک نئے انڈر ورلڈ کے قیام اور متوازی انتظامیہ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے ادریہ میں کہا گیا ہے ۔ ہر ایک شہر کے مسائل جداگانہ نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ریاستی حکومت اور میونسپل کارپوریشن کے فنڈس سے شہر کی ترقی و تعمیر کی ذمہ داری ایک خانگی کمپنی کو تفویض کی جاتی ہے جسے مرکزی حکومت کنٹرول کرتی ہے ۔ اگر کوئی مرکز سے شہر ممبئی کا انتظامیہ چلانے کی کوشش کرے تو یہ ایک آمریت کے مترادف ہوگا اور خانگی کمپیوں کے ذریعہ نظم و نسق پر کنٹرول کرنے سے منتخبہ عوامی نمائندوں کے احکامات نظر انداز کردیئے جائیں گے جو کہ غیر دستوری ہوں گے اور یہ ایک نئے انڈر ورلڈ (ممبئی کی زبان میں ماورانہ قانون ٹولہ) قائم کرنے اور متوازی حکومت مسلط کرنے کی کوشش ہوگی ۔ شیوسینا نے مزید الزام عائد کیا کہ اسمارٹ سٹی پراجکٹ دراصل سرمایہ داروں ، تاجروں اور بلڈرس کے مفاد میں ہوگا جس کیلئے 5 سال کے دوران 500 کروڑ فراہم کئے جائیں گے جبکہ شہر کا سالانہ بجٹ 34,000 کروڑ کا ہوتا ہے۔ پارٹی نے کہا کہ رہشریانممبئی ہر سال 1.5 لاکھ کروڑ محصول کی شکل میں مرکز کو ادا کرتے ہیں۔ اگر مرکز 25 فیصد بھی شہر کیلئے استعمال کرتا ہے تو نہ صرف ممبئی بلکہ پورا مہاراشٹرا اسمارٹ سٹی بن جائے گا ۔ شیوسینا نے انتباہ دیا کہ سمارٹ سٹی کے نام پر شہر ممبئی کو کثیر قومی کمپنیوں کا تابعدار بننے نہیں دیں گے ۔ ترقی اور محاصل کے بارے میں انہیں فیصلہ کرنے دیجئے ۔ آج عوام سے اقتدار چھین لیا جارہا ہے اور شہروں کو دولتمندوں کے ہاتھوں یرغمال بنایا جارہا ہے ۔ اگر یہ ممبئی پر ح کمرانی کیلئے عقبی دروازہ کی پالیسی ہے تو عوام بہت جلد شیواجی کے ہاتھ میں تلوار دیکھیں گے۔

TOPPOPULARRECENT