Sunday , July 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسمارٹ فونس سے خاندانوں میں انتشار

اسمارٹ فونس سے خاندانوں میں انتشار

نوجوان نسل کی بزرگوں سے بے اعتنائی، اخلاقی اقدار روبہ زوال، ذمہ داران توجہ دیں
حیدرآباد۔9جولائی(سیاست نیوز) موبائیل فون نے خاندانوں میں دوریاں پیدا کردی ہیں اور ان دوریوں کو دور کرنے کیلئے موبائیل کو کچھ وقت کیلئے دور کرنا ناگزیر ہوچکا ہے کیونکہ نوجوان نسل موبائیل میں موجود کھیلوں اور سوشل میڈیا کے سبب اپنے بڑوں کووقت نہیں دے پارہی ہیں اور انہیں اپنے بڑوںسے تربیت حاصل کرنے کا موقع میسر نہیں آرہاہے جو ان کی تربیت پر منفی اثرات کا موجب بن سکتا ہے۔موبائیل بالخصوص اسمارٹ فون سے قبل کی دنیا کا اگر جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہوگی کہ خاندانو ںمیں چھوٹے بڑے کے درمیان دوریاں نہیں ہوا کرتی تھیں بلکہ وہ ایک دوسرے سے بات چیت اور ملاقات کیا کرتے تھے لیکن جیسے جیسے موبائیل ٹکنالوجی کے ذریعہ رابطوں میں ترقی ہوتی گئی انسان کے شخصی تعلقات محدود ہوتے چلے گئے ہیں۔چند برس قبل تک لوگ عید پر اپنے اقرباء سے ملاقات کیلئے ان کے گھروں کو جایا کر تے تھے لیکن جب ایس ایم ایس کا دور شروع ہوا تو ایس ایم ایس سے مبارکبادیں دی جانے لگی تھی لیکن واٹس اپ کے دور میں واٹس پر مبارکبادیں دی جانے لگی لیکن فیس بک کے ذریعہ اب تو دنیا کو مبارکباد دیتے ہوئے شخصی ملاقات یا میسیج کا دور بھی ختم ہوگیا ۔اکثر یہ دیکھا جارہا ہے کہ گھر میں افراد خاندان سے ملاقات اور ان سے بات چیت کا سلسلہ بھی اسمارٹ فون کی وجہ سے کم ہوتا جا رہا ہے۔گھر کے بزرگ یہ دیکھ کر پریشان ہیں کہ نوجوان نسل کیلئے فون زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔بزرگوںکو اس بات پر بھی حیرت ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف بزرگوں سے بے اعتنائی برتنے لگی ہے بلکہ ان کی دوستیاں بھی انسانوں کے بجائے اسمارٹ فون سے ہونے لگی ہیں اور وہ بے جان چیزوں میں دلچسپی لینے لگے ہیں۔گھروں میں وائی فائی عام ہونے کے بعد تو صورتحال مزید بگڑ گئی ہے اور جب سے مفت انٹرنیٹ سروس ملنے لگی ہے اس کے بعد سے ہر کوئی فون میں رہنے لگا ہے۔نوجوانوں میں اس سلسلہ میں شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے بگاڑ سے بچنے کیلئے سرپرستوں کے ساتھ وقت گذارنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح ذمہ داروں اور عمائدین ملت کو بھی چاہئے کہ وہ بچوں اور نوجوانوں کو اس بات کا احساس کروائیں کہ وہ بزرگوں سے قطع تعلق کے سبب کن قیمتی چیزوں سے محروم ہونے لگے ہیں جو انہیں انٹرنیٹ پر حاصل نہیں ہوتی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT