Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی اجلاس میں اہم عہدیداران غیر حاضر

اسمبلی اقلیتی بہبود کمیٹی اجلاس میں اہم عہدیداران غیر حاضر

ارکان برہم، چیف سکریٹری سے کارروائی کی سفارش، مجوزہ ریونیو سروے سے استفادہ کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 29 ۔ اگست (سیاست نیوز) اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت کے مجوزہ ریونیو سروے سے استفادہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کمیٹی نے جس کا اجلاس صدرنشین عامر شکیل رکن اسمبلی کی صدارت میں منعقد ہوا تھا ، اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی عدم موجودگی پر برہمی کا اظہار کیا۔ چیف سکریٹری کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے اجلاس میں شرکت نہ کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ۔ بتایا جاتا ہے کہ اجلاس کے ایجنڈہ میں وقف بورڈ اور اقلیتی فینانس کارپوریشن کے امور شامل تھے لیکن سکریٹری اقلیتی بہبود عمر جلیل کے علاوہ دونوں اداروں کے عہدیدار غیر حاضر رہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود نے کمیٹی کی جانب سے کئے گئے استفسارات اور اوقافی جائیدادوں پر حکومت کے موقف سے واقف کرایا ۔ مینجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے مختلف وجوہات کا بہانہ بناکر اجلاس میں شرکت نہیں کی ۔ عہدیداروں کی عدم شرکت سے کمیٹی کے ارکان برہم تھے اور انہوں نے چیف سکریٹری کو ان کے خلاف کارروائی کی سفارش کردی ۔ بعد میں صدرنشین کمیٹی عامر شکیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے 15 ستمبر سے اراضیات کے جامع سروے کا آغاز ہورہا ہے۔ یہ سروے تین مہینے تک جاری رہے گا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ اس سروے سے استفادہ کرتے ہوئے اوقافی اراضیات کو ریونیو ریکارڈ میں درج کرایا جائے ۔ 80 سال کے طویل وقفہ کے بعد اس طرح کا سروے کیا جارہا ہے اور محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے یہ نادر موقع ہے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کرے ۔ عامر شکیل نے کہا کہ 1984 ء میں محکمہ اقلیتی بہبود کے قیام سے قبل اوقافی جائیدادوں کے تحفظ پر کوئی توجہ نہیں دی گئی اور محکمہ مال نے اوقافی جائیدادوں کو سرکاری اراضی تصور کیا۔ اجلاس میں درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ کی اراضی کا مسئلہ بھی زیر بحث رہا۔ کمیٹی نے حکومت سے مانگ کی کہ درگاہ کے تحت موجود کھلی اراضی فوری طور پر وقف بورڈ کے حوالے کی جائے ۔ اجلاس میں تجویز پیش کی گئی کہ اگر محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے یہ اراضی کسی ادارے کو لیز پر دی جاتی ہے تو اسے پابند کیا جائے کہ اس میں 12 فیصد نمائندگی مسلمانوں کو دی جائے ۔ اس اراضی کے سلسلہ میں مکمل ریکارڈ کے ساتھ حیدرآباد ، رنگا ریڈی اور وقار آباد کے کلکٹرس کو 13 ستمبر کمیٹی کے اجلاس میں طلب کیا گیا ہے ۔ عامر شکیل نے کہا کہ کمیٹی کا آئندہ اجلاس 12 اور 13 ستمبر کو منعقد ہوگا ۔ 12 ستمبر کے اجلاس میں اقلیتی بہبود کے بجٹ کی اجرائی اور اس کے خرچ کے علاوہ اقلیتی طلبہ کے اسکالرشپ کے موقف جیسے امور کا جائزہ لیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ دو روزہ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے تمام اداروں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ شامل رہے گا۔ عامر شکیل نے کہا کہ کمیٹی نے تمام اضلاع کے دورہ کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریونیو سروے کے دوران اوقافی اراضیات کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے ۔ یہ کمیٹی ضلع کلکٹرس اور دیگر عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرے گی ۔ کمیٹی نے سکریٹری ا قلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ موجودہ قاضی ایکٹ کی جگہ نئے ایکٹ کی تیاری کیلئے مسودہ پیش کریں۔ نئے قانون میں قاضیوں کیلئے موروثی نظام کو ختم کرتے ہوئے آبادی کے اعتبار سے قاضیوں کا تقرر کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں مسلم اکابرین سے مشاورت کی جائے گی۔ نظام قضاۃ کو مکمل شفاف بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ کمیٹی کے اجلاس میں فاروق حسین ، سمپت کمار ، اکبر اویسی ، اسٹیفنسن اور ونئے بھاسکر نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT