Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی حلقہ واری سطح پر نیا شہر ترقی میں آگے

اسمبلی حلقہ واری سطح پر نیا شہر ترقی میں آگے

پرانے شہر میں ترقیاتی کام کوتاہی کا شکار، لاپرواہ نمائندوں میں مقامی جماعت کی اکثریت
حیدرآباد 28 اگسٹ (سیاست نیوز) کیا پرانے شہر کو دانستہ طور پر نظرانداز کیا جارہا ہے؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو شہریوں میں نہ صرف اُلجھن بلکہ تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔ چونکہ ترقی اور ترقیاتی کاموں کے تناسب میں پرانا شہر، شہر کے دوسرے علاقوں کی بہ نسبت پیچھے ہے۔ اور حالیہ دنوں پرانے شہر میں ترقیاتی کام دوسرے علاقوں کی بہ نسبت کم ریکارڈ کئے گئے ہیں۔ جہاں تک حلقہ جاتی ڈیولپمنٹ فنڈز کا سوال ہے جو حلقہ کی ترقی کا ضامن ہوتا ہے۔ پرانے شہر کے اراکین اسمبلی اپنے فنڈس کے استعمال میں پیچھے ریکارڈ کئے گئے۔ شہر حیدرآباد بالخصوص گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے حدود میں ارکان اسمبلی کے ترقیاتی کاموں کے متعلق لوک ستہ نے ایک رپورٹ جاری کی۔ لوک ستہ پارٹی کے قائد مسٹر سامھی ریڈی نے قانون حق اطلاعات کے تحت اراکین اسمبلی کے ترقیاتی فنڈس کی رپورٹ حاصل کی۔ یہ رپورٹ سامبھی ریڈی کے مطابق اراکین اسمبلی کے اپنے حلقہ سے متعلق نہ صرف دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ عوامی مسائل اور ان عوام سے ان کی دلچسپی کو بھی ظاہر کرتی ہے جنھوں نے انھیں اسمبلی تک پہنچایا۔ کانسٹینسی ڈیولپمنٹ فنڈس ہر رکن اسمبلی کو دیا جاتا ہے۔ نئے شہر کے اراکین اسمبلی اس فنڈس کے استعمال میں پرانے شہر کے اراکین اسمبلی سے آگے ریکارڈ کئے گئے۔ حالانکہ نئے شہر کے جن ارکان نے اپنے حلقوں میں ترقیاتی کاموں کے متعلق دلچسپی دکھائی ان کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے جو پرانے شہر سے نمائندگی کرتے ہیں۔ باوجود اس کے اقدامات اور ترقیاتی کاموں میں فرق کو علاقوں میں فرق سے تعبیر کیا جارہا ہے۔ یہ فرق اس بات کی تصدیق کے مترادف ہے کہ آیا پرانے شہر کو دانستہ طور پر نظرانداز نہیں کیا جارہا ہے یا پھر پرانے شہر میں مسائل ہی موجود نہیں ہیں؟ لوک ستہ پارٹی قائد کے مطابق ریاستی حکومت نے پہلے سال کے لئے ہر رکن اسمبلی کو ایک کروڑ 50 لاکھ روپئے حلقہ کی ترقی کے لئے ترقیاتی فنڈس مختص کیا اور اس میں 75 لاکھ روپئے راست مختص کرنے کی اجازت دی۔ تاہم اس فنڈس کی اجرائی میں بھی اراکین نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ پرانے اور نئے شہر میں ترقیاتی کاموں کے تناسب میں فرق جاری ہے اور ایک ہی جماعت سے تعلق رکھنے والے اراکین میں عوامی مسائل سے دلچسپی صاف طور پر دکھائی دے رہی ہے۔ اور اس لاپرواہی کو علاقہ سے فرق بھی غور کیا جارہا ہے۔ مسٹر سامبھی ریڈی کے مطابق ایک نامزد رکن نے صرف 6 لاکھ روپئے خرچ کئے۔ قائد لوک ستہ کے مطابق بی جے پی کے اراکین ترقی کا نعرہ لگارہے ہیں۔ عنبرپیٹ علاقہ میں تقریباً 15 لاکھ، مشیرآباد حلقہ میں 37.94 لاکھ، خیریت آباد حلقہ میں کسی بھی قسم کے ترقیاتی کاموں کے لئے ایم ایل اے فنڈس رقم جاری نہیں کی تھی۔ قائد لوک ستہ مسٹر سامبھی ریڈی نے بتایا کہ چندرائن گٹہ میں 75 لاکھ ، چارمینار میں 25 لاکھ، یاقوت پورہ میں 70 لاکھ اور بہادر پورہ میں 74.63 لاکھ روپئے خرچ کئے۔ ان حلقوں کی بہ نسبت ملک پیٹ، کاروان، نامپلی، سکندرآباد کنٹونمنٹ، قطب اللہ پور اور راجندر نگر میں اراکین نے سب سے زیادہ فنڈس استعمال کئے۔ قائد لوک ستہ نے کہاکہ یہ اراکین اسمبلی اپنے ایم ایل اے فنڈ کو استعمال کرنے میں ناکام رہے اور اب ان سے زائد فنڈس کی حصولیابی کی امید کیسے کی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کہاکہ ان اراکین میں اکثر ایسے اراکین موجود ہیں جنھوں نے اسمبلی میں اپنے حلقہ کے متعلق کوئی سوال نہیں کیا اور نہ ہی زائد فنڈس کے لئے کوئی سفارش کی۔ یہ اراکین عوام کے بھروسہ کو قائم رکھنے میں اکثر ناکام رہے۔ انھوں نے ایم ایل اے فنڈس کے استعمال میں سابق رکن اسمبلی جئے پرکاش نارائن کو مثالی قرار دیا۔

TOPPOPULARRECENT