Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / اسمبلی میں مجلس کے بدلتے رنگ

اسمبلی میں مجلس کے بدلتے رنگ

 

کہیں کانگریس کی طرف جھکاؤ کی تیاری تو نہیں؟

کانگریس کی تائید اور حکومت پر تنقید، چیف منسٹر کی ناراضگی کے بعد حکومت کی تائید
حیدرآباد۔/26مارچ، ( سیاست نیوز) جس طرح کہاوت ہے کہ’’ سیاست میں کوئی مستقل دوست یا دشمن نہیں ہوتا ‘‘ کچھ اسی طرح کا مظاہرہ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں برسراقتدار ٹی آر ایس اور اس کی حلیف جماعت مجلس کے درمیان دیکھنے کو ملا۔ ٹی آر ایس اور مجلس نے اسمبلی اور اس کے باہر بارہا ایک دوسرے کو دوست جماعت قرار دیا لیکن اسمبلی میں ٹی آر ایس خود اپنی حلیف جماعت کے رویہ سے اُلجھن کا شکار ہے کیونکہ دوست جماعت کا جھکاؤ کب کس کے ساتھ ہوجائے کہا نہیں جاسکتا۔ حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی اور عثمانیہ یونیورسٹی میں طلباء پر پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے خلاف اسمبلی میں احتجاج کے دوران ٹی آر ایس کی معلنہ حلیف مجلس نے ابتداء میں کھل کر اپوزیشن کانگریس کا ساتھ دیا لیکن کچھ وقت گذرنے کے بعد اچانک چیف منسٹر اور حکومت کی تعریف کرتے ہوئے اپنے حلیف ہونے کا دوبارہ عہد کیا۔ ٹی آر ایس خود اس صورتحال سے اُلجھن کا شکار ہے کہ حلیف جماعت پتہ نہیں کب کس رنگ میں نظر آئے۔ دوسری طرف کانگریس پارٹی کو اس بات کی خوشی ہے کہ اسے حکومت کی حلیف کی تائید حاصل ہورہی ہے اور حکومت پر دباؤ بڑھانے میں مدد مل رہی ہے۔ اسمبلی میں ایک مرحلہ پر مجلس کے فلور لیڈر اکبر اویسی اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے درمیان لفظی تکرار بھی ہوئی اور مجلس کے رویہ سے ناراض چیف منسٹر نے سخت لہجہ میں مجلسی فلور لیڈر کو اپنا انداز گفتگو تبدیل کرنے کا مشورہ دیا۔ مجلسی فلور لیڈر کے اس مخالف حکومت رویہ سے خود چیف منسٹر بھی حیرت میں تھے جبکہ کانگریس ارکان دو حلیف جماعتوں میں ٹکراؤ کا بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کررہے تھے۔ ارکان میں یہ چہ میگوئیاں جاری تھیں کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ شاید مجلس کی تائید ٹی آر ایس سے کانگریس کی طرف منتقل ہوسکتی ہے کیونکہ اکثر یہ دیکھا گیا کہ الیکشن کے وقت جس پارٹی کی تائید کی گئی دوبارہ الیکشن میں اپوزیشن کی تائید کی گئی۔ مجلس نے حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی کے مسئلہ پر کانگریس کے ساتھ مل کر تحریک التواء پیش کی تھی اور ابتداء ہی سے کانگریس کے ساتھ مجلسی ارکان ایوان کی کارروائی میں رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے احتجاج کررہے تھے۔ اس صورتحال نے کانگریس کو فائدہ پہنچایا اور برسراقتدار پارٹی کو دفاعی موقف میں ڈال دیا تھا۔ ایک مرحلہ پر جب چیف منسٹر ایوان میں پہنچے اسوقت اپوزیشن ارکان کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ حکومت کی حلیف جماعت کے فلور لیڈر نے طلباء پر پولیس لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کا حوالہ دیتے ہوئے مخالف دلت حکومت ہونے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ ٹی آر ایس حکومت مرکز کی بی جے پی کی کٹھ پتلی کی طرح کام کررہی ہے۔ ان ریمارکس پر چیف منسٹر نے فوری مداخلت کی اور ڈپٹی اسپیکر پدما دیویندر ریڈی نے مجلسی فلور لیڈر کا مائیک بند کردیا جس پر وہ سخت ناراض ہوگئے اور حکومت کے خلاف الزامات عائد کرنے لگے اور مجلسی ارکان کو احتجاج کیلئے اسپیکر کے پوڈیم تک جانے کی ہدایت دی۔ چیف منسٹر نے بھی سخت لہجہ میں ان کا جواب دیا اور کہا کہ آپ جو چاہے نہیں کہہ سکتے اور ایسا نہیں کہنا چاہیئے۔ چیف منسٹر نے سوال کیا کہ دلتوں سے کس نے ناانصافی کی۔ انہوں نے پوچھا کہ آخر آپ چاہتے کیا ہیں، حکومت کو اس طرح بدنام کرنا ٹھیک نہیں ہے کیونکہ حکومت نے دلتوں کی توہین اور ان سے ناانصافی نہیں کی۔ اکبر اویسی کی تائید میں کانگریسی ارکان نے ایوان کے وسط میں پہنچ کر نعرہ بازی شروع کردی جس پر ایوان کی کارروائی کچھ دیر کیلئے ملتوی کردی گئی۔ دیڑھ گھنٹہ بعد جب دوبارہ کارروائی کا آغاز ہوا تو چیف منسٹر نے مجلسی فلور لیڈر کو اظہار خیال کا موقع دینے کی سفارش کی اسوقت مجلس نے کانگریس کا دامن چھوڑ کر دوبارہ برسراقتدار پارٹی کا ہاتھ پکڑ لیا اور فلور لیڈر نے دوست پارٹی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی حکومت اور اپنے چیف منسٹر کی نیک نامی کو متاثر ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے۔ ان کی اس وفاداری کے اظہار پر برسراقتدار ارکان نے میزیں تھپتھپا کر خیرمقدم کیا جبکہ کانگریسی ارکان حیرت سے مجلس کے اس نئے رنگ کو دیکھ رہے تھے۔ ایک گھنٹہ کے وقفہ میں آخر کیا سرگرمیاں رونما ہوئیں کہ حلیف جماعت دوبارہ حکومت کی تائید میں کھڑی ہوگئی۔

TOPPOPULARRECENT