Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اسمبلی و کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا 10 نومبر کو دورہ نظام آباد

اسمبلی و کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا 10 نومبر کو دورہ نظام آباد

درگاہ حضرت سعاداللہ حسینی بڑا پہاڑ وقف اراضی کا جائزہ، کلکٹر سے بات چیت

حیدرآباد۔/5 نومبر، ( سیاست نیوز) اسمبلی اور کونسل کی اقلیتی بہبود کمیٹی 10نومبر کو نظام آباد میں درگاہ حضرت سعاد اللہ حسینیؒ بڑا پہاڑ کا دورہ کرے گی اور موقوفہ 711 ایکر اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں ضلع کلکٹر اور محکمہ جنگلات کے عہدیداروں سے بات چیت کرے گی۔ مقننہ کمیٹی درگاہ کے انتظامات کا بھی جائزہ لے گی اور متبادل انتظامات کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے بتایا کہ درگاہ حضرت سعاد اللہ حسینیؒ کے تحت 711 ایکر اوقافی اراضی سے متعلق ریکارڈ وقف بورڈ میں موجود ہے لیکن محکمہ جنگلات صرف 18ایکر اراضی کو درگاہ کے تحت قرار دے رہا ہے جبکہ باقی اراضی محکمہ جنگلات کی بتائی جارہی ہے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ 1958کے کتاب الاوقاف میں 711 ایکر اوقافی اراضی کی تفصیلات درج ہیں اس کے علاوہ 1960 اور 1969 کے 2 وقف گزٹ بھی 711ایکر اوقافی اراضی کی موجودگی کی دلالت کرتے ہیں۔ اس طرح واضح اوقافی ریکارڈ کی موجودگی کے باوجود محکمہ جنگلات کا اس زمین پر دعویٰ حیرت انگیز ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ جنگلات 1964 میں اراضی کے جنگلاتی ہونے سے متعلق اعلامیہ کی موجودگی کا دعویٰ کررہا ہے جبکہ وقف بورڈ کے پاس جو ریکارڈ موجود ہے وہ 1958 سے ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ضلع کلکٹر اور محکمہ جنگلات کے عہدیداروں کو مقننہ کمیٹی کے دورہ کے موقع پر موجود رہنے کی خواہش کی گئی ہے تاکہ اراضی کے تنازعہ کی یکسوئی کی راہ ہموار ہوسکے۔ چیف ایکزیکیٹو آفیسر نے بتایا کہ درگاہ حضرت سعاد اللہ حسینی ؒ سے ہونے والی وقف آمدنی میں دوبارہ اضافہ کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مجاوروں کی کمیٹی کی برخواستگی کے وقت وقف بورڈ کی آمدنی 2.25کروڑ تھی جو اب گھٹ کر صرف 18لاکھ روپئے رہ گئی ہے۔ ایسے میں وقف بورڈ نے  عہدیداروں کی موجودہ کمیٹی کی نگرانی میں مختلف خدمات کیلئے فیس مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ صرف فاتحہ خوانی کیلئے کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی جبکہ دیگر تمام خدمات کیلئے فیس رہے گی۔ فیس کے تعین کے بعد ٹنڈرس طلب کرنے کا منصوبہ ہے۔ اسی دوران 10کروڑ روپئے کی لاگت سے درگاہ کی ترقی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس کے تحت اوپری حصہ میں رہائش کا بھی انتظام رہے گا۔ اس کے علاوہ پہاڑ کے نچلے حصہ میں زائرین کی رہائش کیلئے خصوصی شیڈ ز تعمیر کئے جائیں گے۔ محکمہ سیاحت کی ہوٹل اور امیوزمنٹ پارک کے قیام کی بھی تجویز ہے۔ گاڑیوں کیلئے علحدہ ریمپ کی تعمیر عمل میں آئے گی تاکہ زائرین گاڑی کے ساتھ درگاہ تک پہنچ سکیں۔ زائرین کیلئے کلینک اور دیگر بنیادی سہولتوں کے انتظام کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT