Wednesday , September 27 2017
Home / مذہبی صفحہ / اسوۂ حسینی تاقیامت مشعل راہ

اسوۂ حسینی تاقیامت مشعل راہ

مولانا عبداﷲ بن احمد القرموشی    نوراللہ مرقدہٗ

ماہ محرم الحرام سیدنا آدم علیہ السلام کے زمانہ سے مقدس و محترم ہے ۔ اس کے دس دن مقدس شمار کئے گئے بالخصوص عاشوراء کا دن انبیاء کرام کے حوالہ سے اہم و مقدس مانا گیا ۔ اسی دن حضرت نوحؑ کی کشتی جودی پہاڑ سے لگی، سیدنا ابراہیمؑ آگ سے سلامت نکل آئے، حضرت موسیؑ کو فرعون سے نجات ملی اور اسی دن جگر گوشۂ رسول صبر و رضا کے ساتھ یزیدی طاقتوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ اﷲ فرماتا ہے ’’ بے شک اﷲ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ‘‘۔
سورہ فاتحہ قرآن کریم کا لب لباب و خلاصہ ہے ۔ دین کے اہم مضامین کمال اعجاز سے یکجا کئے گئے ، صراط مستقیم کی د عا سکھلائی گئی اور اسی صراط مستقیم کی نشاندہی بھی کردی گئی کہ صراط مستقیم وہی راستہ ہے جس پر اللہ کے انعام یافتہ بندوں نے چلکر حق کو پالیا ۔ دوسری جگہ اس کی مزید وضاحت کردی گئی کہ یہ انعام یافتہ بندے انبیاء کرام صدیقین شھداء اور صالحین ہیں ، اس سے معلوم ہوا کہ شھداء کی سیرت کو معلوم کرنا اس پر چلنے کی کوشش کرنا ہی صراط مستقیم ہے ۔ اس اعتبار سے آج فضائل شھداء سنائے جائیں ان کی سیرت امت کو بتلائی جائے تاکہ امت اس پر عمل کرکے دینی و دنیوی مسائل کا حل پاسکے ۔ساری تاریخ انسانیت کا جائزہ لیا جائے تو آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت امام حسین تک اﷲ کے نام پر امام حسین کی طرح کسی نے ایک وقت میں اتنی مصیبت نہیں اٹھائی۔ ظلم و بدی کی طاقت کے آگے آپ چٹان کی طرح ڈٹ گئے ۔ آپ کے نورنظر کے حلق میں تیرپیوست کیا گیا اور آپ کے جاں نثار ایک کے بعد ایک جام شہادت نوش کرلئے ۔ ایسے عالم میں بھی آپ کی زبان پر یہی کلمات تھے ’’ ہم راضی ہیں اللہ کی رضا پر‘‘ ۔ حالت جنگ میں بھی آپ نماز ادا کرتے رہے ۔ آپ نے نماز ظہر ادا فرمائی اور نماز عصر کے دوران حالت نماز میں آپ کا سر تن سے جدا کردیا گیا۔ آپ نے اپنی زندگی حق کی راہ میں قربان کرکے بتادیا کہ اے لوگو ! باطل طاقتوں سے مت ڈرو ، ہتھیاروں سے مت ڈرو قیامت تک یزیدی طاقتیں اپنا روپ بدل بدل کر آتی رہیں گی اور باطل کی ہر طاقت کو مٹانے کیلئے اسوہ حسینی قیامت تک مشعل راہ رہے گا ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’حسین مجھ سے اور میں حسین سے ہوں ‘‘ اور ایک جگہ ارشاد فرمایا ’’ جس نے حسین سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی جس نے مجھ سے محبت کی اس نے اﷲ سے محبت کی ‘‘ ۔ حسنین علیھما السلام کے بارے میںآپ نے ارشاد فرمایا کہ ’’ یا اﷲ ! ان دونوں سے میں محبت کرتا ہوں تو بھی ان دونوں سے محبت فرما ۔ اور جو ان سے محبت کرتے ہیں اے اﷲ ان سے بھی محبت فرما ‘‘۔ الغرض اہلبیت کی عظمت اور ان کی تعظیم و محبت قرآن وحدیث سے ثابت ہے اور ایمان کا جز ہے اور دنیا و آخرت میں ان کی محبت نجات و برکت کا باعث ہے ۔امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ پر اہل بیت سے محبت کی وجہ سے جب یہ الزام عائد کیا گیا کہ آپ اہل تشیع ہیں تو آپ نے فرمایا ’’ میں اہل بیت سے محبت کرتا ہوں ، اہل بیت کی محبت حضرت نوح کی کشتی کی مانند ہے جو اہل بیت سے محبت کریگا وہ بچیگا‘‘ ۔ حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم میں برسہا برس تبلیغ کی لیکن جب قوم راہ راست پر نہیں آئی تو حضرت نوحؑ نے اﷲ سے دعا کی کہ ’’ مولا ان نافرمانوں کو روئے زمین پر باقی مت رکھ ‘‘ طوفان نوح میں ساری دنیا ڈوب گئی۔ وہی لوگ بچ گئے جو نوح علیہ السلام کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ جو شخص اہل بیت سے محبت کریگا وہ بچ جائیگا۔ اہل بیت کی محبت ہمیشہ ڈر اور خوف سے نجات دیگی اور اہل بیت سے محبت ایمان کی علامت ہے ۔
سیدنا امام حسینؓ کے ساتھ کتنی بڑی آزمائش پیش آئی ۔ تاریخ انسانیت میں شاید ہی کوئی اور ایسی مثال پیش کرسکے۔ امام حسینؓ کو تاقیامت مشعل راہ بنانے کیلئے آزمایا گیا۔ آپ اہل خانہ کے ہمراہ اہل کوفہ کی دعوت پر روانہ ہوئے ۔ راستے میں آپ کو دشمنوں نے گھیرلیا۔ چار ہزار کے لشکر نے حکومت اور دولت کی خواہش میں یہ تک نہیں سوچا کہ وہ جسے گھیر رہے ہیں وہ کتنی برگزیدہ ہستی ہے ۔ نبی کریمؐ کے نواسے کو دولت کی لالچ میں یزیدی لشکر نے گھیرلیا۔ دولت کی جب خواہش ہوجاتی ہے تو انسان بہرا اور اندھا بن جاتا ہے ۔ امام حسین اور ان کے ساتھیوں پر پانی بند کردیا گیا ۔ ساقی کوثر کے نواسے کو پانی پینے سے ندی کے کنارے روک دیا گیا ۔ پیاس کی شدت سے جب حضرت علی اصغر کی زبان خشک ہوئی تو امام حسینؓ نے یزیدی لشکر سے کہا تمھارا جھگڑا میرے ساتھ ہے ایک چلو پانی اس معصوم کو دیدو ۔ جواب میں ایک تیر آیا اور اس معصوم کے گلے کو چھید ڈالااور وہ معصوم شہید ہوگیا۔ حق تعالیٰ آزماتا رہا اور آپ ہر امتحان سے کامیاب گذرتے گئے۔ آپ ہرحال میں اﷲ کا شکر ادا کرتے رہے ۔ آپ کی زبان پر یہی تھا ’’ خداوندا حسینؓ آپ کے ہر فیصلے پر راضی ہے‘‘۔ صبر ، رضا ، توکل اور شہادت امام حسینؓ کی سیرت ہے ۔ جسم پر ۷۲ زخم تھے پھر بھی خدائے واحد کی اطاعت میں کوئی کمی نہیں آئی ۔ آپ کے 72 جاں نثاروں کو ہزاروں آدمیوں نے گھیر رکھا تھا۔ آپ نے دین کی حفاظت کیلئے خود مٹ جانا گوارا کیا لیکن باطل کے آگے سرجھکانا گوارا نہیں کیا۔ آج ہمارا یہ عالم ہیکہ ہم اپنے مفاد کیلئے خدا کے دشمنوں سے ہاتھ ملانے تیار ہیں ۔ جبکہ امام حسین نے اپنے عمل کے ذریعہ بتادیا کہ لاالہ کا ماننے والا ہرچیز کا سودا کرسکتا ہے لیکن ایمان کا سودا نہیں کرسکتا ۔ خدا کے سوا کوئی اطاعت کے لائق نہیں آپ یہ جانتے تھے کہ موت کا دینے والا خدا کے علاوہ کوئی اور نہیں صرف وہی اطاعت کے لائق ہے ۔ اﷲ تبارک و تعالی ارشاد فرمارہا ہے ’’ صرف مجھ سے ڈرو کسی سے مت ڈرو ‘‘ ۔ آج ہم ہر ایک کے نقصان پہنچانے سے ڈر رہے ہیں لیکن خدا کا ڈر ہمارے دلوں میں نہیں ۔ حضرت امام حسینؓ ہر حال میں خدا سے ڈرتے رہے ۔ میدان کربلا میں آپ زخمی ہونے کے باوجود جدھر جاتے دشمنوں کی صفیں پلٹ دیتے۔  آپ جب نماز عصر ادا فرمارہے تھے حالت سجدہ میں آپ کا سر تن سے جدا کیا گیا ۔ شہادت کا مرتبہ آپ کو عین حالت نماز میں ملا جو خود آپ کی عظمت پر  دلالت کرتا ہے۔ اسی صبر و رضا کی بدولت آج حق تعالی نے امام حسینؓ کے نام کو بلند و بالا کردیا آج دنیا بھر میں آپ کی ذات بابرکت پر صلاۃ و سلام کا نذرانہ بھیجا جاتا ہے اور تاقیامت آپ کی حیات بابرکت ہر مصیبت میں صبر کی تلقین کا درس دیتی رہیگی ۔
اب تک لاکھوں بادشاہ آئے اور قیامت تک آتے رہیں گے لیکن جیسی دلوں پر بادشاہت امام حسینؓ نے کی ہے ایسی بادشاہت نہ کوئی کیا اور کرسکے گا ۔ سلطان ہند حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتیؒ نے امام حسینؓ کی تعریف و توصیف میں اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا کہ حضرت امام حسینؓ بادشاہ ہیں ، بادشاہ ہی نہیں حقیقت میں وہ شہنشاہ ہیں ، کیونکہ آپ کی سیرت و کردار کو دیکھکر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ دین کی تفسیر ہیں۔ آپ نے جدوجہد اور قربانی کے ذریعہ دین کو پناہ دی اور دین متین کی حفاظت فرمائی۔آپ نے دین متین کی سربلندی کیلئے اپنا سر دیدیا لیکن اپنا ہاتھ بیعت کیلئے یزید کو نہیں دیا ۔  حق اور باطل کی کشمکش آج پھر ایک بار عروج پر ہے اگر امت مسلمہ کامیابی کی متمنی ہے تو اس کو امام عالی مقام کی سیرت سے روشنی ملے گی پھر ایک بار امت کو حوصلہ ملے گا کہ وہ باطل سے ٹکرائے اور کامیاب ہو کیونکہ شہیدوں کی زندگی ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔ شہداء کی زندگی کی اتباع کرکے ہم کامیاب و کامران ہوسکتے ہیں ۔
اللہ تبارک  و تعالیٰ فرمارہا ہے  ’’ جو لوگ اﷲ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو ‘‘ عقل انسانی یہ ہیکہ اگر کسی شخص کی سانس چلتے چلتے رک جائے یا اس کی دھڑکنیں بند ہوجائیں تو اسے مردہ جان لیا جاتا ہے ۔ شہیدوں کا معاملہ تو اس سے اور بھی آگے ہے ۔ موت کے سب سے زیادہ آثار شہیدوں میں پائے جاتے ہیں ان کے سر تن سے جدا ہوتے ہیں باوجود اس کے اﷲ تبارک و تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ’’ وہ زندہ ہیں انہیں ایسی زندگی دی گئی ہیکہ تمہارا شعور وہاں تک نہیں پہنچ سکتا ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT