Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / اسٹیٹ بجٹ، مسلمان مایوس

اسٹیٹ بجٹ، مسلمان مایوس

بینکس میں اہل ثروت مسلمانوں کے کروڑہا روپئے ڈپازٹ
غریب مسلمانوں کو بینکس قرضے نہیں دیتے

محمد نعیم وجاہت
قوموں کے عروج و زوال کا انحصار حکمرانوں کی سیاسی بصیرت، منصوبہ بندی اور چیلنج قبول کرنے کے فیصلوں پر ہوتا ہے۔ اگر فرض کو احسان تصور کرلیا جائے تو اس کے معنی و مفہوم تبدیل ہوجاتے ہیں۔ تلنگانہ کے وزیر فینانس نے 14 مارچ کو اسمبلی میں سال 2016-17 ء کے لئے 1.30 لاکھ کروڑ کا دوسرا مکمل بجٹ پیش کرتے ہوئے فاضل بجٹ پیش کرنے کا دعویٰ کیا۔ لیکن اس بجٹ سے اُمیدیں زیادہ اور توقعات بہت کم ہیں۔ مسلمانوں کیلئے تو یہ بجٹ انتہائی مایوس کن ہے کیوں کہ گزشتہ سال کی بہ نسبت جاریہ سال اقلیتی بجٹ میں صرف 64 کروڑ کا معمولی اضافہ ہوا ہے۔ حکومت کا یہ دعویٰ بھی جھوٹا اور بے بنیاد ہے کہ بجٹ میں سماج کے تمام طبقات کے ساتھ مکمل انصاف کیا گیا ہے۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ تلنگانہ ملک کی واحد ریاست ہے جس نے اعلیٰ متمول طبقہ (برہمن) کیلئے بجٹ میں 100 کروڑ روپئے کی خصوصی گنجائش فراہم کی ہے۔ بجٹ کا جائزہ لینے پر حکومت کے سی آر کے ارکان خاندان کے ارد گرد گھومنے کا الزام کافی حد تک درست نظر آرہا ہے کیوں کہ مجموعی بجٹ کی 60 فیصد رقم چیف منسٹر کے فرزند اور بھانجے کی وزارتوں کے لئے مختص کی گئی ہے۔ ہریش راؤ کی وزارت سے متعلق وزارت آبپاشی کو 26 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں تو کے ٹی آر کی وزارت سے متعلق واٹر گرڈ بھگرتا اسکیم کے لئے 40 ہزار کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں یہی نہیں چیف منسٹر کے سی آر نے بھی اپنے لئے بجٹ میں 5 ہزار کروڑ کی خصوصی گنجائش فراہم کرلی ہے۔

واضح رہے کہ 2 جون2014  ء کو علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے وقت ریاست تلنگانہ کے حصہ میں جہاں 7 ہزار کروڑ کا فاضل بجٹ آیا تھا وہیں 60 ہزار کروڑ روپئے کا قرض بھی اس کے سر چڑھ گیا تھا۔ تلنگانہ حکومت نے 21 ماہ کے دوران مزید 62 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرتے ہوئے تلنگانہ کے ہر شہری کو 25,177 کروڑ روپئے کا مقروض بنادیا ہے۔ حکومت نے جاریہ سال مزید 23,113 کروڑ روپئے کا قرض حاصل کرنے کی بجٹ میں تجویز پیش کی ہے جس کے بعد تلنگانہ کا ہر شہری 30,955 روپئے کا مقروض ہوجائے گا۔ اس کے علاوہ اسٹامپ اینڈ رجسٹریشن فیس میں قریب 53 منقولہ اور غیر منقولہ کے علاوہ زرعی اراضیات کے ٹیکس میں 62.54 فیصد اسٹیٹ اکسائز ٹیکس میں 61.80 فیصد، سیلز ٹریڈ اور دیگر ٹیکسوں میں 52 فیصد وہیکل ٹیکس میں 55 فیصد مال برداری پر 52 فیصد الیکٹرسٹی ڈیوٹی ٹیکس میں 11.3 فیصد دیگر ٹیکسوں کی ڈیوٹیز پر 67 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔ برقی شرحوں میں راست و بالواسطہ اضافہ کے ذریعہ عوام پر مزید 5 ہزار کروڑ روپئے کا بوجھ عائد کرنے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ چیف منسٹر نے جاریہ سال 2 لاکھ ڈبل بیڈ روم فلیٹس تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن بجٹ میں حکومت کی اس باوقار اسکیم کے لئے رقمی گنجائش فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ہر سال بجٹ کے اعداد و شمار میں اضافہ کرتے ہوئے اس پر فخر کا اظہار کیا جارہا ہے۔ مگر سال کے اختتام تک 50 فیصد بجٹ بھی خرچ نہیں کیا جارہا ہے۔ اگر منظورہ بجٹ خرچ نہیں کیا گیا تو وہ یقینا فاضل بجٹ ہی کہلائے گا۔

سال 2016-17 ء کا بجٹ اقلیتوں کے لئے مایوس کن ہے۔ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو اس سال اقلیتی بجٹ میں 64 کروڑ روپئے کا اضافہ کرتے ہوئے 1204 کروڑ روپئے مختص کئے گئے مگر گزشتہ دو سال سے 50 فیصد منظورہ اقلیتی بجٹ خرچ نہیں کیا گیا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ وزارت اقلیتی بہبود کے قلمدان کو چیف منسٹر کے سی آر نے اپنے پاس رکھا ہے جس سے تلنگانہ کے اقلیتوں میں ترقی و بہبود کے لئے امید کی ایک کرن پیدا ہوئی تھی مگر گزرتے وقت کے ساتھ وہ مانند پڑگئی ہے۔ کیوں کہ چیف منسٹر نے 50 فیصد اقلیتی بجٹ خرچ کیوں نہیں ہوا ، اس کا کبھی جائزہ نہیں لیا بلکہ خوشی خوشی اسے سرکاری خزانے میں پہنچادیا۔ 2016-17 کے بجٹ میں اقلیتوں کو جہاں 1204 کروڑ کی گنجائش فراہم کی گئی وہیں بی سی طبقات کے لئے 2,537 کروڑ ایس سی طبقات کے لئے 7122 کروڑ ایس ٹی طبقات کے لئے 3752 کروڑ اور خواتین کے لئے 1552 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے بجٹ میں بتدریج اضافہ کیا گیا ہے۔ ریاستی وزیر فینانس نے سب کے لئے سرکاری خزانے کا منہ کھول دیا ہے۔ بند کرتے وقت جو بھی گر گیا ہے وہ اقلیتوں کے لئے مختص کردیا گیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے جمہوریت میں حقوق اُنھیں کو ملتے ہی جو جدوجہد کرتے ہیں اور اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی خاموشی مردہ ضمیر ہونے کا ثبوت پیش کررہی ہے۔ مسلم قوم جدوجہد پر سودا بازی کو فوقیت دے رہی ہے۔ حقوق کو احسان تصور کررہی ہے۔ ٹیکس وصول کرنے کے معاملہ میں مسلمانوں سے کوئی رعایت نہیں ہے۔ تو بجٹ مختص کرتے وقت ہاتھ روک لینا کہاں کا انصاف ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی طبقات کو تعلیم، ملازمتوں میں تحفظات ہے۔ قرض پر 80 فیصد تک سبسیڈی سے قرضوں کی معافی میں ان کا شمار ہے۔ قرضوں کی اجرائی میں انھیں اہمیت ہے۔ مگر اقلیتوں کو ایسی کوئی سہولتیں میسر کیوں نہیں ہیں۔ قومیائے ہوئے بینک مسلمانوں کی جمع پونجی کو رکھنا پسند کرتے ہیں مگر انھیں قرض دینے کیلئے ہزار بہانے تلاش کرتے ہیں۔ جبکہ بینکوں سے کروڑہا روپئے کا قرض لینے اور اسکامس میں ملوث ہونے والوں میں 99 فیصد افراد کا تعلق اکثریتی طبقہ سے ہے باوجود قرضوں سے محروم اقلیتوں کو ہی کیا جارہا ہے۔ اقلیتوں کو قرض کی اجرائی کے لئے آر بی آئی نے خصوصی احکامات جاری کئے ہیں، اس پر کوئی عمل نہیں ہورہا ہے۔ حکومت کی جانب سے طلب کئے جانے والے بینکرس کے اجلاس میں اس پر کوئی استفسار نہیں ہورہا ہے، جب بھی بجٹ پیش ہوتا ہے، سماج کے تمام طبقات کو حکومت سے اُمیدیں وابستہ ہوتی ہیں اگر اقلیتیں بھی اُمید رکھتی ہیں تو اس میں بُرائی کیا ہے مگر حکومت نے اقلیتوں کو ہمیشہ مایوس کیا ہے۔ حکومت اقلیتوں کے لئے جو بھی بجٹ منظور کرتی ہے اس کا 50 فیصد بھی خرچ نہیں کرتی۔ اُن 50 فیصد بجٹ میں بھی 70 تا 80 فیصد فنڈس فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپس کے ہوتے ہیں جاریہ سال اسکالرشپس کی درخواستوں میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ ڈیمانڈ کے مطابق اسکالرشپس کے فنڈس میں اضافہ کرنے کے بجائے اس کو گھٹاتے ہوئے اقلیتی طلبہ کو بھی مایوس کیا جارہا ہے۔ گزشتہ سال اسکالرشپس کے لئے 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جاریہ سال 20 کروڑ گھٹاکر 80 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ گزشتہ سال فیس ریمبرسمنٹ کے لئے 425 کروڑ روپئے مختص کئے گئے تھے جسے گھٹاکر جاریہ سال 223 کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔ وقف بورڈ کے لئے بجٹ میں 65 کروڑ روپئے کی گنجائش فراہم کی گئی ہے اور اسی بجٹ سے ائمہ اور مؤذنین کو ماہانہ اعزازیہ فراہم کرنے کا مشورہ دے دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ اگر حکومت یہ تصور کررہی ہے کہ برہمن طبقہ کے افراد اعلیٰ طبقہ سے ہونے کی وجہ سے حکومت کی فلاحی و سماجی اسکیمات سے استفادہ سے محروم ہیں برہمن طبقہ میں بھی غربت ہے۔ اس کودور کرنے کی کوشش کے طور پر 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں تو ضرور قابل ستائش ہے۔ مسلمانوں میں بھی سید، پٹھان، شیعہ وغیرہ ایسے طبقات ہیں جو تحفظات کے علاوہ حکومت کی فلاحی اور سماجی اسکیمات سے محروم ہیں۔ پھر ان پر حکومت نے شفقت بھری نظر کیوں نہیں ڈالی۔ کیا یہ لوگ حکومت کی رعایت کے مستحق نہیں ہیں۔ ان میں بھی کئی خاندان غربت کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ان کی فلاح و بہبود اور ترقی کے بارے میں بھی غور کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔

ان سب کے لئے کون ذمہ دار ہے، اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کو بھی اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمارا مقصد کسی کو نشانہ بنانا نہیں ہے جو کڑوا سچ ہے اس کو پیش کیا جارہا ہے۔ ٹی آر ایس بھی دوسری سیاسی جماعتوں میں ایک سیاسی جماعت ہے، حکومت ٹی آر ایس کی ہے، سب سے پہلے ذمہ داری ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نصف بجٹ کی عدم اجرائی پر خاموش کیوں ہیں۔ بجٹ کی تیاری سے قبل اپنا ایک اجلاس طلب کرتے ہوئے حکومت کو تجاویز کیوں پیش نہیں کئے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار بھی غور کریں کہ انھوں نے جاری کردہ بجٹ کیوں خرچ نہیں کیا اور نئی نئی اسکیمات پیش کرنے میں ناکام کیوں رہے۔ اسمبلی کی نمائندگی کرنے والے مسلم ارکان اسمبلی بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اسمبلی میں مجلس کے 7 ارکان اسمبلی ہیں اور مجلس فی الحال ٹی آر ایس کی حلیف جماعت ہے۔ اس نے حکومت کے سامنے اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے لئے کیا تجاویز پیش کیں گزشتہ بجٹ نصف خرچ ہونے پر خاموش کیوں رہے۔ جبکہ مجلس بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے حکومت کو جھنجوڑ سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی تعمیری رول ادا کرنے میں ناکام ہیں۔ اسمبلی بجٹ اجلاس کی طلبی دستوری فرائض کے حصہ میں تبدیل ہوگئی ہے، وہی ہوتا ہے، جو حکومت چاہتی ہے۔ اسمبلی میں اہم مسائل کو موضوع بحث بناتے ہوئے اس کا حل نکالنے کے بجائے جماعتیں سیاسی فائدہ اُٹھانے کے لئے مسائل کو مزید پیچیدہ بنارہی ہیں جس سے اسمبلی کا قیمتی وقت ضائع ہورہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT