Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکالر شپس اور ریاست کی آمدنی پر حکومت کا غیر اطمینان بخش جواب

اسکالر شپس اور ریاست کی آمدنی پر حکومت کا غیر اطمینان بخش جواب

تلنگانہ اسمبلی میں وقفہ سوالات ، کانگریس اور مجلس کا واک آؤٹ
حیدرآباد۔19ڈسمبر(سیاست نیوز) طلبہ کی اسکالر شپس کی عدم اجرائی ‘ حکومت کی جانب سے ریاست کی آمدنی پر کئے گئے سوال پر غیر اطمینان بخش جواب اور وظیفہ پیرانہ سالی کی اجرائی میں ناکامی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کانگریس اور مجلس نے آج اسمبلی میں جاری وقفہ سوالات کے دوران واک آؤٹ کردیا۔ مجلسی ارکان اسمبلی کی جانب سے ریاست کی آمدنی کے متعلق کئے گئے سوال کے جوابات دیتے ہوئے وزیر فینانس مسٹر ای راجندر نے کہا کہ ریاست کی آمدنی فاضل ہے یا نہیں اس کی نشاندہی آڈیٹر جنرل کی رپورٹ پر ہی ممکن ہے جو مارچ میں آئے گی۔انہوں نے حکومت کی جانب سے فلاح و بہبود کے اقدامات پر خرچ کیلئے رقمی تخصیص کی تفصیلات پیش کی۔ قائد مقننہ مجلس پارٹی اکبر الدین اویسی نے محکمہ اقلیتی بہبود ‘ قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے علاوہ ایس سی‘ ایس ٹی‘ بی سی‘ معذور اور اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپس اور فیس بازادائیگی کی اسکیم میں 2سال سے رقومات کی عدم اجرائی کے علاوہ آسرا وظائف کے متعلق جواب دینے کیلئے اصرار کیا لیکن ان سوالات کو نظر انداز کئے جانے اور عدم اطمینان بخش جواب دیئے جانے پر انہوںنے واک آؤٹ کردیا ان کے واک آؤٹ کے ساتھ ہی قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے بھی ان موضوعات پر حکومت کے غیر اطمینان بخش جوابات پر واک آؤٹ کا اعلان کیا۔ریاستی وزیر فینانس ای راجندر نے کہا کہ ریاستی حکومت اقلیتوں کی ترقی کے عہد کی پابند ہے اور حکومت نے اقلیتوں کے لئے اقامتی اسکول اور شادی مبارک اسکیم کاآغاز عمل میں لایا جس پر مرکزی حکومت کی وزارت اقلیتی امور نے کہا ہے کہ ریاست تلنگانہ اقلیتوں کی ترقی کی منصوبہ بندی کرنے والی مثالی ریاست ہے۔ انہوںنے مرکزی وزارت کے حوالہ سے کہا کہ تلنگانہ کو مشعل راہ قرار دیا جا رہا ہے۔ مسٹر ای راجندر نے بتایا کہ قومی سطح پر تلنگانہ کو ویلفیر اسٹیٹ کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے ۔ بینک کے توسط سے دیئے جانے والے قرضہ جات میں فراہم کی جانے والی سبیسیڈی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی واحد ریاست ہے جہاں اتنی زیادہ سبسیڈی فراہم کی جاتی ہے۔ قائد مقننہ مجلس پارٹی نے کہا کہ ریاستی حکومت نے اقلیتوں کے لئے بلند بانگ دعوے کئے اور 1000کروڑ سے زائد کے بجٹ کا اعلان کیا لیکن تاحال صرف 300کروڑ تک کی رقومات کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ 600کروڑ کے جی او جاری کئے گئے ہیں۔ انہوںنے حکومت کی جانب سے قرض کے حصول کے ذریعہ اخراجات کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ جب کبھی ریاست قرض حاصل کرتی ہے تو اس کے ذریعہ اثاثہ بنائے جاتے ہیں لیکن ریاستی حکومت نے 14ہزار873ہزار کروڑ کا قرض حاصل کیا جس میں 11ہزار 509کروڑ کا خرچ بتایا جا رہا ہے لیکن اثاثوں کی تفصیل پیش نہیں کی جا رہی ہے۔ قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی نے وقفہ سوالات کے دوران اٹھائے گئے اس سوال پر مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت یہ بتانے سے قاصر ہے کہ ریاست کی معاشی حالت کیا ہے اور اگر آمدنی فاضل نہیں ہے تو اس سے نمٹنے کیلئے کیا اقدامات کئے جا رہے ہیں؟ انہوںنے طلبہ کی اسکالر شپس اور فیس باز ادائیگی کے علاوہ کلیان لکشمی اور شادی مبارک اسکیم میں رقومات کی عدم اجرائی پر حکومت سے استفسار کئے۔ مسٹر ای راجندر نے جی ایس ٹی کے نفاذ کے بعد ریاست کے مفادات کے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا کہ ابھی یہ کہا جانا قبل از وقت ہوگا لیکن سمجھا جا رہا ہے کہ ریاست صنعتی پیداوار والی ریاستوں کو کچھ نقصان ہوگا مگر تلنگانہ کو فائدہ حاصل ہوگا۔انہوں نے ایوان کو دیئے گئے جواب میں یہ ادعا کیا کہ گذشتہ دو برسوں کے دوران ریاست کی آمدنی فاضل ہے اور جاریہ سال 3.5فیصد قرضوں کے حصول کو مرکز نے منظوری دی ہے۔ انہوں نے ستمبر 2016تک کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ مختلف ذریعہ بشمول قرض ‘ مرکزی حکومت کی امدادوغیرہ سے 47ہزار27کروڑ 59لاکھ روپئے وصول ہوئے ہیں جس میں منصوبہ بند اخراجات میں 22ہزار756کروڑ 77لاکھ خرچ غیر منصوبہ بند اخراجات میں 28ہزار858کروڑ 33لاکھ خرچ کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT