Monday , September 25 2017
Home / مضامین / اسکولس اور ہاسٹلس یا بچوں کی قتل گاہیں

اسکولس اور ہاسٹلس یا بچوں کی قتل گاہیں

 

غضنفر علی خان

 

 

 

دہلی کے قریب نوائیڈا کے ایک مشہور انٹرنیشنل اسکول میں 7 سالہ معصوم بچے کا گلا کاٹ کر قتل کردیا گیا ۔ 5 سالہ معصوم بچی کی عصمت ریزی کی گئی۔ 11 سالہ لڑکی کو بطور سزا واش روم میں کھڑا کردیا گیا ۔ انٹرمیڈیٹ میں زیر تعلیم ایک 17 سالہ نوجوان نے اپنے ہی کالج کی 5 منزلہ عمارت سے چھلانگ لگاکر خودکشی کی کوشش کی۔ کالج کی ایک لڑکی اپنے گھر سے اچانک لاپتہ ہوگئی اور دو دن کے بعد اس کی تقریباً مسخ شدہ لاش دریافت ہوئی ۔ یہ تو چند واقعات ہیں جو منظر عام پر آگئے۔ ان کے علاوہ ہمارے ذیلی براعظم کے رقبہ والے ملک میں جہاں عددی لحاظ سے سب سے بڑی جمہوریت بھی ہے ۔ خدا جانے کتنے ہی ایسے دلخراش واقعات ہوئے ہوں گے جن سے میڈیا بھی بے خبر ہوتا ہے ۔ یہ سب کچھ ہمارے ملک ہندوستان میں ہورہا ہے، جس کو ڈیجیٹل کرنے میں ہماری موجودہ حکومت کوشش کر رہی ہے ۔ ان چند واقعات کے علاوہ ملک کے بڑے شہروں کے ہاسپٹلس کے احوال بھی سن لیجئے ۔ ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش کے ضلع گورکھپور کے ایک ہاسپٹل میں 70 معصوم بچوں کی ناقص علاج اور سانس لینے کے لئے آکسیجن کی عدم فراہمی کی وجہ سے موت ہوگئی ۔ ذرا اندازہ لگایئے کہ کیسے 70 معصوم بچے اپنی ایک ایک سانس کو ترس ترس کر مرے ہوں گے ۔ ابھی اس دردناک حادثہ پر بہنے والے آنسو تھمے بھی نہ تھے کہ ایک اور ترقی پذ یر ریاست یعنی مہاراشٹرا کے شہر ناسک میں ایک سرکاری دواخانہ میں 55 معصوم بچے ہلاک ہوگئے ۔ اب ہمارے بچوں کیلئے نہ ہاسپٹلس اور نہ ہی اسکولس محفوظ رہے ۔ ا یک مرکزی وزیر نے صحیح کہا کہ کل تک ہم اسکول میں اپنے بچوں کو محفوظ سمجھتے تھے لیکن نوائیڈا کے گرگاؤں میں معصوم بچے کے بہیمانہ قتل کے بعد ہم ملک کے اسکول کو اپنے بچوں کیلئے محفوظ نہیں سمجھ سکتے ۔ یہ کسی عام آدمی کا تاثر نہیں ہے تو اندازہ کیجئے کہ عام آدمی یا اس ملک کی بے بس مائیں اور ہمارے باپ اور دیگر خاندان والے کیا سوچتے ہوں گے ۔ یہ کیسی قتل گاہیں ہیں، ہمارے بچوں کو عیاں کبھی کوئی قاتل پکڑا نہیں جاتا ۔ کونسے نئے بھارت ، نوجوان بھارت کی بات ہورہی ہے ۔ کیسے بنے گا نیا بھارت ، کیا اس کی بنیاد بھی معصوم بچوں کی نعشوں پر ہوگی ۔ کیا اس نئے بھارت میں مرنے والے بچوں کے والدین کی صرف آہ و بکا ہوگی ۔ کیسے اسکول میں صبح کے وقت 7 سالہ بچے کو گلا کاٹ کر ہلاک کرنے کا واقعہ ہوا ؟ اس بچے کا قصور کیا تھا ، وہ قاتل کس قدر بے رحم ہوگا جس نے بچے کو ہلاک کیا ہوگا ۔ اسی طرح سے ان 70 ماں باپ پر کیا بیتی ہوگی جنہوں نے گورکھپور اور ناسک میں صحت یابی کیلئے اپنے بچوں کو ہاسپٹلس میں شریک کیا ہوگا ۔ ان بچوں کو زندہ واپس کرنے کی اگر دواخانوں میں صلاحیت نہیں تھی تو انہیں داخل دواخانہ کیوں کیا گیا تھا ۔ انہیں آکسیجن جیسی اہم چیز کیوں نہیں فراہم کی گئی۔ کیوں گورکھپور کے اسپتال میں سلینڈرس کی کمی ہوگئی۔ کیسے آکسیجن سپلائی کرنے والی کمپنی کو بقایا جات ادا نہیں کئے گئے ۔ کہاں تک روئیں ان واقعات کے لئے ہماری ریاست تلنگانہ میں ایک خاتون زچگی کیلئے شریک ہوئی۔ اسپتال والوں نے بستر فراہم نہیں کیا ۔ خاتون نے بنچ پر ہی بچے کو جنم دیا اور بچہ نے بنچ سے نیچے گرتے ہی دم توڑ دیا۔ حیرت ناک موت ہے۔ کوئی ماں اپنے بچے کو اسکول اس لئے نہیں بھجواتی کہ اس کے نور نظر کو کوئی قتل کردے، کوئی ماں اپنے بچے کو خواہ وہ ڈینگو سے متا ثر ہو یا دماعی بخار میں مبتلا ہو ، اس لئے شریک دواخانہ نہیں کرتی کہ اس کا لخت جگر اسپتال میں آخری ہچکی لے اور ماں کی گود ہمیشہ کیلئے اجڑ جائے ۔ آخر کتنی اور ماوؤں کو ملک کے اسپتالوں ، یہاں کے اسکولوں میں اپنی اولاد کی قربانی دینی پڑ ے گی۔ یہ وہی دواخانے ہیں جہاں لاکھوں روپئے لیکر علاج کیا جاتا ہے ۔ یہ کیسا نیا بھارت ہوگا جہاں غریب طبقات تو چھوڑیئے متوسط درجہ کے لوگ بھی علاج معالجہ کے گراں بار اخراجات کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔ عجیب بات ہے ہمارے ملک میں ز ندگی کی دو اہم خدمات تھیں، علاج اور تعلیم غریب اور متوسط طبقہ کے بس کی بات نہیں رہی ۔ دونوں مقدس شعبوں کو ان سے وابستہ افراد نے تجارتی ادارہ بنادیا ہے ۔ ایسی کئی نوٹ بکس زبردستی خریدنی پڑتی ہیںجنہیںاسکول کے تعلیمی سال کے دوران استعمال ہی نہیں کیا جاتا ۔ دواخانوں کا حال بھی بے حد ابتر ہے ۔ پیشہ طب اور پیشہ تدریس سربازار رسوا ہورہے ہیں۔ ہر دو سورتوں میں عام آدمی کا ، غریب ماں باپ کا ، معصوم بچوں کا بے بس انسانوں کا بدترین استحصال ہورہا ہے ۔ کوئی نہیں جو اس استحصال کے خلاف آواز اٹھائے۔ نہ مرکزی حکومت نے دونوں شعبوں تعلیم اور صحت میں ہونے والی ان دھاندلیوں کو جڑ سے ختم کرنے کیلئے کچھ کیا کیونکہ دونوں کے تار دور دور تک جڑے ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں ان بنیادی مسائل پر غور کرنے اوران کی یکسوئی کرنے والا کوئی سیاست داں نہیں رہا۔ ایک نفسا نفسی کا عالم ہے کہ ہر فرد اپنے مفاد کیلئے کام کرنے لگا ہے ۔ اسپتالوں میں ہو کہ اسکولوں میں ہو جہاں کہیں بچوں کی دردناک موت کے واقعات ہوتے ہیں۔ قومی ٹیلی ویژن ، چیانلس پر اینکرس گلا پھاڑ پھاڑ کر واقعات کی تفصیل بیان کرتے رہتے ہیں۔ ایک دن ایک ہفتہ یا زیادہ سے زیادہ پندرہ دن تک کسی بھی سانحہ پر افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے ، پھر سب کچھ معمول پر آجاتا ہے اور واقعہ کو ایسا فراموش کردیاجاتا ہے جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آخر مزید کتنے بچے دواخانوں اور اسکولوں میں اسی طرح ہماری بے حسی کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھائے جائیں گے ۔ حکومتوں سے دور ریاستی ہوں یا مرکزی اب عوام نے بھی امید ختم کردی ہے۔

TOPPOPULARRECENT