Wednesday , August 16 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولس میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری پر کڑی نظر رکھنے کے اقدامات

اسکولس میں اساتذہ اور طلبہ کی حاضری پر کڑی نظر رکھنے کے اقدامات

شکایتوں کی وصولی پر سخت کارروائی ، خصوصی نمبر اور واٹس اپ کی سہولت فراہم کرنے پر غور
حیدرآباد۔25اپریل(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میںخانگی اسکولوں کی جانب سے کی جانے والی بد عنوانیوں و بے قاعدگیوں کی شکایت کیلئے مناسب میکانزم نہ ہونے کے سبب کئی معاملات میں شکایات کے باوجود کاروائی نہیں ہو پا رہی تھی جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ضلع واری سطح پر موجود عہدیداروں اور خانگی اسکول انتظامیہ کے درمیان گٹھ جوڑ ہے۔ اسی لئے حکومت کو اس بات کی تجویز پیش کی گئی ہے کہ محکمہ تعلیم کی جانب سے ایک ہیلپ لائن کے ساتھ واٹس اپ نمبر کا آغاز کیا جائے تا کہ عوام راست محکمہ کے اعلی عہدیداروںکو شکایات پہونچا سکے۔ بتایا جاتاہے کہ حکومت کو روانہ کردہ اس تجویز پر تعلیمی سال کے آغاز سے قبل محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی سے مشاورت کی جائے گی تا کہ ریاست گیر سطح پر خانگی اسکولوں کی جانب سے فیس میں بے تحاشہ اضافہ اور متعدد شکایات کو یکساں طور پر وصول کرنے میں کوئی دشواریاں نہ ہوں۔خانگی اسکولوں کے ساتھ ساتھ سرکاری اسکولس و کالجس میں ہونے والی بے قاعدگیوں و اساتذہ کی غیر حاضری وغیرہ پر خصوصی نظر رکھنے کے بھی اقدامات کئے جانے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کی جانب سے سرکاری اسکول و کالجس کیلئے علیحدہ واٹس اپ نمبر جاری کرنے کے متعلق غور کیا جا رہا ہے تاکہ سرکاری اسکولوں کی حالت کو بھی بہتر بنایا جا سکے۔محکمہ پولیس و بعض دیگر محکمہ جات کی جانب سے واٹس اپ نمبر جاری کرتے ہوئے شکایات کی وصولی کے عمل سے حاصل ہونے والے فوائد کو دیکھتے ہوئے محکمہ تعلیم کی جانب اس بات پر غور کیا جا رہا ہے تا کہ طلبہ کے والدین و سرپرست سے راست رابطہ قائم کرتے ہوئے شکایات وصول کی جا سکیں۔ اسکولوں کی جانب سے کی جانے والی بے قاعدگیوں و بدعنوانیوں پر روک لگانے کے لیئے عام طور پر منڈل یا ضلع واری سطح پر شکایت پر اکتفاء کیا جاتا ہے لیکن منڈل و ضلعی سطح پر برسہا برس سے ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہے عہدیدار اپنے علاقوں میں عوامی شکایات پر کاروائی کے بجائے خاموشی اختیار کر لیتے ہیں جس کی وجہ سے بے قاعدگیوں میں ملوث اسکول انتظامیہ کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے اور سنجیدگی کے ساتھ بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے میں مصروف اسکول انتظامیہ غیر ضروری بدنام ہونے لگے ہیں۔ حکومت کی جانب سے فوری طور پر محکمہ تعلیم میں عصری سماجی رابطہ کے طریقہ کار کو اختیار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں نہ صرف عوامی مسائل کی یکسوئی ہوگی بلکہ غیر ضروری ہراسانی کا شکار ہونے والے اسکولوں کو بھی نجات مل جائے گی۔ علاوہ ازیں منڈل و ضلعی سطح پر اسکولوں کے ذمہ داروں کو ہراساں کرنے والے بدعنوان عہدیداروں پر بھی گرفت مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

TOPPOPULARRECENT