Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولوں میں یکساں تعلیمی نظام پر حکومت سے احکامات جاری کرنے کی ضرورت

اسکولوں میں یکساں تعلیمی نظام پر حکومت سے احکامات جاری کرنے کی ضرورت

حکومت کے فیصلہ پر خانگی اسکول تنظیموں کی مخالفت ، حکومت کو بات چیت کا مشورہ
حیدرآباد 10 فروری (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ کے تمام اسکولوں میں یکساں تعلیمی نظام کے قیام کے متعلق حکومت کی جانب سے کئے جانے والے مجوزہ فیصلوں کو نئے تعلیمی سال کے آغاز سے قبل نافذ کرنے کے احکامات جاری کئے جانے چاہئے۔ چونکہ جاریہ تعلیمی سال کے اوائل میں تعلیمی نصاب بالخصوص خانگی و سرکاری نصاب کے مسئلہ پر اسکول انتظامیہ اور اولیائے طلبہ میں کئی ماہ تک اُلجھن برقرار رہی۔ حکومت کی جانب سے کی جارہی منصوبہ بندی کے مطابق تمام خانگی و سرکاری اسکولوں میں صرف سرکاری نصاب رائج کیا جائے گا لیکن اِس فیصلہ کی مختلف گوشوں بالخصوص خانگی تعلیمی اداروں کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے کیوں کہ خانگی تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ اُن کے اداروں میں تعلیم حاصل کررہے طلبہ کا معیار وہ بہتر بنارہے ہیں اور اس کے لئے مختلف ناشرین کی جانب سے شائع کردہ کتب کا استعمال کیا جارہا ہے۔ لیکن حکومت کا یہ کہنا ہے کہ جب تک تمام طلبہ کو مساوی تعلیم فراہم نہیں کی جاتی اُس وقت تک یکساں ترقی کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا۔ اولیائے طلبہ اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ اگر حکومت کو اس سلسلہ میں کوئی قطعی تعلیمی پالیسی مدون کرنی ہے تو سالانہ امتحانات سے قبل اس کا اعلان کردیا جانا چاہئے تاکہ تعلیمی سال کے آغاز سے قبل اچانک فیصلوں کے نفاذ سے ہونے والی دشواریوں سے اولیائے طلبہ اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو بچایا جاسکے۔ حکومت تلنگانہ نے سرکاری و خانگی اسکولوں کے طلبہ کے لئے معیاری تعلیمی نصاب کی اشاعت اور تمام کو یکساں تعلیمی نصاب فراہم کرتے ہوئے ایس ایس سی میں متبدلہ طریقہ امتحانات کے لئے مسابقتی طور پر تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جاریہ تعلیمی سال کے ابتداء میں ہی یہ فیصلہ کیا گیا تھا لیکن تعلیمی سال کا آغاز ہوجانے اور طلبہ و اولیائے طلبہ کی جانب سے نصابی کتب خرید لئے جانے کے سبب اسے قابل عمل نہیں بنایا جاسکا۔ آئندہ تعلیمی سال یعنی ماہ جون سے قبل اگر اِس فیصلہ کو نافذالعمل  بنانا ہو تو اس کے لئے فوری طور پر احکامات جاری کئے جانے کی ضرورت ہے۔ خانگی اسکولوں سے متعلق مختلف تنظیموں کی جانب سے حکومت کے اِس فیصلہ کی مخالفت کی جارہی ہے لیکن اگر حکومت اور اسکول کے ذمہ داران کے درمیان مذاکرات ہوتے ہیں تو مسئلہ کو بہ آسانی حل کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT