Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولوں کی بے تحاشہ فیس پر ہائی کورٹ کا اظہار برہمی

اسکولوں کی بے تحاشہ فیس پر ہائی کورٹ کا اظہار برہمی

فیس کو باقاعدہ بنانے کی ضرورت ، مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت
حیدرآباد۔19جولائی (سیاست نیوز)  اسکولوں کی جانب سے بے تحاشہ فیس کی وصولی پر ریاستی ہائی کورٹ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فیس باقاعدہ بنانے کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت کا اظہار کرتے ہوئے کہا اگر آپ چاہتے ہیں کہ ترقی کریں تو اسکول قائم کریں کالج نہیں۔ کارگذار چیف جسٹس حیدرآباد ہائی کورٹ جسٹس دلیپ بی بھوسلے اور اے وی سیشا سائی نے حیدرآباد اسکولس پیرنٹ اسوسیشن کی جانب سے داخل کردہ درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران حیرت کا اظہار کیا کہ اسکولس میں اتنی فیس وصول کی جا رہی ہے۔ پیرنٹس اسوسیشن کی جانب سے داخل کردہ درخواست میں بتایا گیا کہ بعض اسکولس میں 7لاکھ روپئے تک یکمشت فیس کے نام پر وصول کی جارہی ہے۔ علاوہ ازیں بعض اسکولس کی جانب عمارت کی تعمیر کے نام پر من مانی فیس وصول کی جا رہی ہے۔ اسی طرح160 اسکولس کی جانب سے 50ہزار سے 3لاکھ روپئے تک وصول کئے جا رہے ہیں۔ عدالت نے اسکولوں کے اس طرز عمل پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر چکی ہے۔ جسٹس بھوسلے نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ متوسط طبقہ سے تعلق رکھنے والے اولیائے طلبہ و سرپرست کس طرح یہ فیس ادا کر پائیں گے؟ اولیائے طلبہ و سرپرستوں کی جانب سے داخل کردہ اس درخواست مفاد عامہ کی اگلی سماعت آئندہ دوشنبہ کو مقرر کرتے ہوئے عدالت نے فریقین سے تجاویز طلب کی ہیں کہ اس صورتحال سے کس طرح نمٹا جائے؟ عدالت میں داخل کی گئی درخواست میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اسکولوں میں بنیادی سہولتوں کی عدم موجودگی اور تعلیمی معیار بہتر نہ ہونے کی وجہ سے اب تک 4000سرکاری اسکولس بند کئے جا چکے ہیں۔ درخواست گذار کیوکیل نے عدالت کو اس بات سے بھی واقف کروایا کہ فیس ریگولیٹری اتھاریٹی کی جانب سے پیش کردہ سفارشات کے مطابق 12000سے زائد سالانہ فیس وصول کرنے کی اجازت نہیں ہے اس کے باوجود کئی اسکولوں کی جانب سے سالانہ فیس 40000 تک وصول کی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل ریاست تلنگانہ نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے کے جی تا پی جی تعلیمی پالیسی تیار کی جا رہی ہے اوراس پالیسی کے روشناس کروائے جانے کے بعد یہ تمام مسائل ختم ہونے کی توقع ہے۔ مسٹر رامچندر راؤ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ سابق متحدہ ریاست آندھرا پردیش میں شراب کا کاروبار کرنے والے تعلیمی ادارے قائم کر رہے تھے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ  مرکزی مقامات پر تعلیمی اداروں کے قیام کیلئے اراضیات کی تخصیص عمل میں لائی جائے تاکہ  بہتر انتظامیہ اس خصوص میں دلچسپی کا اظہار کریں ۔ جسٹس بھوسلے نے اس طرح کی تجاویز کا خیر مقدم کرنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT