Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / اسکولی بچے ، امریکی صدارتی امیدواروں سے زیادہ ہوشیار؟

اسکولی بچے ، امریکی صدارتی امیدواروں سے زیادہ ہوشیار؟

قواعد کے اعتبار سے برنی سینڈرس کا بہترین اور ٹرمپ  بدترین معیار
واشنگٹن ۔ /18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں صدارتی انتخابات کے موقعوں پر اکثر یہ دیکھا گیا کہ وہائیٹ ہاؤز کیلئے دوڑ میں اکثر امیدوار اپنے خطاب کے دوران کچھ ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں یا قواعد کی بعض ایسی غلطیاں کرتے ہیں جو میڈل اسکول کے بچوں کی غلطیوں سے بھی کہیں زیادہ فاش ہوتی ہیں ۔ رواں مہم میں ڈونالڈ ٹرمپ دیگر امیدواروں کے مقابلہ سب سے زیادہ اس قسم کی غلطیاں کرتے دیکھے گئے ۔ اس ضمن میں انگریزی زبان کے ماہرین اور تحقیق کاروں نے دلچسپ انکشافات کئے ہیں ۔ جن کا کہنا ہے کہ زبان و بیان کے معاملہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک صدارتی دعویدار برنی سینڈرس قدرے بہترین ہیں جو قواعد اور الفاظ کے اعتبار سے دسویں جماعت کے طالبعلم سے مماثلت رکھتے ہیں ۔ لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کا بہت برا حال ہے جن کی زبان و بیان اور قواعد کا معیار ساتویں جماعت کے طالبعلم جیسی ہے ۔ تاہم ٹرمپ اور ہیلاری کلنٹن کی تقاریر میں غیر معمولی تغیر پذیری دیکھی گئی ۔ بات کو تبدیل کرنے ان کی کوششوں سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے ریمارکس کی اصلاح کیلئے دوسروں سے زیادہ سخت محنت کرسکتے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے امریکہ صدور میں ابراہیم لنکن سب سے بہتر رہے ۔ ان کی قواعد 11 ویں جماعت کے طالبعلم جیسی رہی ۔ اس طرح انہوں نے اپنے اس انداز کے ذریعہ امریکہ کے تاحال تمام امیدواروں اور تمام حالیہ صدور کو پیچھے چھوڑدیا ۔ یہاں یہ انکشاف بھی دلچسپ ہے کہ سابق صدر جارج واکر بش جو اکثر اپنی زبان کے استعمال کے سبب مذاق کا نشانہ بنائے جاتے تھے قواعد کے اعتبار سے وہ پانچویں جماعت کے طالبلعم کی سطح پر رہے ۔

TOPPOPULARRECENT