Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکولی تعلیم سے تلنگانہ حکومت کی غفلت ، سپریم کورٹ کی برہمی

اسکولی تعلیم سے تلنگانہ حکومت کی غفلت ، سپریم کورٹ کی برہمی

سرکاری اسکولس کی کارکردگی پر چار ہفتے کے اندر رپورٹ طلب
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اپریل : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سپریم کورٹ نے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود تلنگانہ حکومت کی اسکولی تعلیم سے غفلت پر اپنی برہمی ظاہر کی ہے ۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ کیا یہ حکومت اور اس کی مشنری کی ڈیوٹی نہیں ہے کہ نفاذ حق تعلیم کو جس کی دستوری ضمانت دی گئی ہے پوری دیانت داری سے یقینی بنائے ۔ حکومت اور کیا اڈمنسٹریشن کی لاپرواہی کی وجہ سے سرکاری اسکولس کے طلبہ کو پریشان ہونا چاہئے ۔ سپریم کورٹ ایک کیس کے سماعت کررہا ہے جو تلنگانہ کے بعض سرکاری اسکولس میں تدریسی اسٹاف اور انفراسٹرکچر کی کمی سے متعلق درج کیا گیا ہے ۔ سرپرستوں کی کمیٹی سپریم کورٹ سے رجوع ہوئی ہے ۔ جس نے اپنی درخواست میں نشاندہی کی ہے کہ کئی سرکاری اسکولس میں ٹیچرس نہیں ہیں ۔ عدالت نے اس بات کا نوٹ لیا کہ گذشتہ سال ٹیچرس نہ ہونے کے سبب تلنگانہ میں 398 اسکولس میں نئے داخلے نہیں ہوئے ۔ ایسے اسکولس کو بے جان ادارے قرار دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے تلنگانہ میں سرکاری اسکولس کی حالت زار پر صدمہ کا اظہار کیا ۔ سپریم کورٹ نے تلنگانہ میں تمام سرکاری اسکولس کے بارے میں چار ہفتے کے اندر رپورٹ مانگی ہے ۔ عدالت کی عہدیدار مجاز تلنگانہ کا دورہ کر کے رپورٹ دے گا ۔ اس کام میں تعاون کرنے سپریم کورٹ نے درخواست گذار سرپرستوں کی کمیٹی سے تعاون کی خواہش کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT