Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / اسکول ، کالجس کے قریب سے پان ڈبوں کو ہٹادینے کی خواہش

اسکول ، کالجس کے قریب سے پان ڈبوں کو ہٹادینے کی خواہش

تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کئے جائیں ، عالمی کانفرنس سے ڈاکٹرس کا مطالبہ
نئی دہلی ۔ 13 ۔ اکٹوبر : ( ایجنسیز ) : ہندوستان میں تمباکو نوشی ، گٹکھے کے استعمال سے ہر سال سر اور گردن کے کینسر کے ڈھائی تا تین لاکھ نئے کیس سامنے آرہے ہیں ۔ ایسے میں ملک کے نامور انکولوجٹس نے حکومت سے خواہش کی ہے کہ اسکولوں اور کالجوں کے قریب سے پان کے ڈبوں کو ہٹا دیا جائے ۔ ان کے مطابق سگریٹ کے پیاکٹس کے 85 فیصد حصہ پر تصویری انتباہ کے باوجود تمباکو نوشی کی لت میں گرفتار بچوں پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑرہا ہے ۔ ٹاٹا میموریل سنٹر ممبئی کے ڈائرکٹر انیل ڈی کروس نے بتایا کہ سر اور گردن کے کینسر سے جو اکثر 60 سال کے آس پاس کے معمر افراد متاثر ہوتے ہیں ۔ اب 30 سال کے نوجوان تیزی سے متاثر ہورہے ہیں جس کی بڑی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک مرتبہ پان کے ڈبوں کو اسکول یا کالجس کے قریب سے ہٹا دیا جائے تب اسکول کالجس کے نوجوان بچوں میں تمباکو نوشی کی شرح میں خود بخود کمی واقع ہوگی ۔ اسکول کے دوران بچے سگریٹ نوشی کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا ہر سال ہندوستان میں 11 تا 12 لاکھ نئے کینسر کے کیس سامنے آتے ہیں جن میں ڈھائی تا تین لاکھ کیس کی وجہ تمباکو نوشی ہے ۔ انیل ڈی کروس نے بتایا کہ حکومت قوانین بناتی ہے تاہم اس پر عمل آوری نہیں ہوتی ۔ آلوک ٹھکر پروفیسر آنکولوجی اینڈ ہیڈ نیک سرجری ایمس نے سوال کیا شراب کے لیے پابندیاں ہیں جب کہ تمباکو نوشی کے لیے کیوں نہیں ؟ انہوں نے بتایا تقریبا 90 فیصد نوجوان 20 سال کی عمر سے قبل تمباکو نوشی کا استعمال کررہے ہیں ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ہیڈ اینڈ نیک آنکولوجیس سوسائٹیز کی عالمی کانفرنس میں ڈاکٹرس نے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ اس کانفرنس میں بارہ ممالک کے ساتھ سو مندوبین نے شرکت کی ۔ آلوک ٹھکر نے بتایا سگریٹ کے پیاکٹس پر انتباہ کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ تمباکو پر بھاری ٹیکس عائد کریں جب کہ بیڑیوں اور چبانے والے تمباکو پر کوئی ٹیکس نہیں ہے جس سے ہر منٹ ہلاکتیں واقع ہورہی ہے جب کہ دیگر ممالک جیسے آسٹریلیا ، امریکہ میں ان اشیاء پر بھاری ٹیکس عائد ہیں جس کے سبب اس کے استعمال میں کمی واقع ہورہی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT