Tuesday , October 24 2017
Home / جرائم و حادثات / اسیماآنند کا بیان قلمبند کرنے والے مجسٹریٹ کی نامپلی عدالت میں گواہی

اسیماآنند کا بیان قلمبند کرنے والے مجسٹریٹ کی نامپلی عدالت میں گواہی

مکہ مسجد ، درگاہ اجمیر شریف، سمجھوتہ اکسپریس دھماکوں میں ملوث ملزم کے خلاف اب تک  165 گواہوں کے بیان قلمبند

ایس ایم بلال
حیدرآباد ۔ 8مارچ۔ ہندو توا دہشت گردی نٹ ورک کے اہم رکن سوامی اسیمانند کو جئے پور کی ایک خصوصی عدالت نے درگاہ اجمیر شریف دھماکہ میں بری کردیا ہے لیکن آج دہلی کے تیس ہزاری کورٹ کے ایک میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے نیشنل انوسٹیگشن ایجنسی ( این آئی اے ) کی خصوصی عدالت واقع نامپلی کریمنل کورٹ میں سال 2007ء مکہ مسجد بم دھماکہ کیس میں  اپنا بیان قلمبند کروایا ۔ اس مجسٹریٹ نے مکہ مسجد بم دھماکہ کیس اور دیگر ہندو دہشت گرد حملوں کے ملزم سوامی اسیمانند کا تیس ہزار کورٹ میں اقبالی بیان قلمبند کیا تھا ۔  تیس ہزاری کورٹ کے ایڈیشنل چیف میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ دیپک دباس  نے چوتھے ایڈیشنل میٹرو پولیٹن سیشن جج کے اجلاس پر اپنا کرواتے ہوئے بتایا کہ سنٹرل بیورو انوسٹیگیشن ( سی بی آئی ) کی ایک ٹیم نے نباکمار سرکار عرف سوامی اسیمانند نامی ملزم کو ان کے اجلاس پر سال 2010 میں پیش کیا اور بتایا کہ یہ ملزم مکہ مسجد ‘ درگاہ اجمیر شریف ‘ سمجھوتہ ٹرین دھماکہ اور دیگر وارداتوں سے متعلق اپنا اقبالی بیان کریمنل پروسیزر کورٹ ( سی آر پی سی ) کے دفعہ 164 کے تحت رضاکارانہ طور پر اپنا اقبالی بیان قلمبند کروانے تیار ہیں ۔ مجسٹریٹ مسٹر دیپک دباس نے این آئی اے کی خصوصی عدالت کو بتایا کہ انہوں نے اجلاس پر پیش کئے گئے ملزم سوامی اسیمانند کو اقبالی بیان قلمبند کروانے کے ارادہ پر دوبارہ غور کرنے کیلئے وقت دیتے ہوئے دو دن کی مہلت دی لیکن سوامی آسیمانند 16ڈسمبر 2010ء کو ان کے اجلاس پر دوبارہ پیش ہوا اور اس نے اقبالی بیان دوبارہ قلمبند کروانے کی خواہش کی جس کے نتیجہ میں دو دن 18ڈسمبر کو بھی اس کا بیان قلمبند کیا گیا  ۔42صفحات پر مشتمل سوامی آسیمانند کے بیان کو ہندی زبان میں قلمبند کیا گیا تھا جس میں اُس نے کئی حقائق کا انکشاف کیا ۔ میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ نے یہاں کی ایک عدالت کو مزید بتایا کہ سوامی آسیمانند نے اپنی مرضی اور بغیر کوئی دباؤ کے اقبالی بیان قلمبند کروانے کا ارادہ ظاہر کیا تھا ۔ ملزم نے تیس ہزاری کورٹ میں مجسٹریٹ کو یہ بھی بتایا تھا کہ اُسے اس بات کا علم ہے کہ اس کے اقبالی بیان سے اسے سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ۔ دو گھنٹہ طویل بیان کے بعد سوامی آسیمانند کے وکیل ایڈوکیٹ بی راج وردھن ریڈی نے مجسٹریٹ دیپک دباس پر مختصر جرح کیا ۔ مکہ مسجد بم دھماکہ کیس کے ملزم نمبر 6 سوامی آسیمانند کو سال 2010ء میں ہریدوار میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس کیس میں جملہ 304گواہ ہیں جس میں اب تک 165 گواہوں کے بیان قلمبند کئے جاچکے ہیں ۔ واضح رہے کہ سوامی آسیمانند نے اپنے اقبالی بیان میںیہ بتایا تھا کہ ہندو دہشت گردوں نے حیدرآباد کو اس لئے نشانہ بنایا تھا کہ یہاں کے  حکمراں حضور نظام نے حیدرآباد کو تقسیم ہند کے بعد  پاکستان میں ضم کرنے کا ارادہ رکھا تھا ۔ سوامی آسیمانند نے ایک اہم انکشاف کیا تھا کہ مبینہ مسلم دہشت گردوں کے بم دھماکوں کا جواب بم سے دینا چاہیئے یعنی ’’ بم سے جواب بم سے ‘‘  ۔ سال 2014ء میں حکومت تبدیل ہونے کے بعد ہندو دہشت گرد کے تمام مقدمات کو این آئی اے کے حوالے کردیا گیا تھا اور آسیمانند نے اپنے اقبالیہ بیان سے انحراف کرتے ہوئے سیکیورٹی ایجنسیوں پراس پر دباؤ ڈالنے کا  الزام عائد کیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT