Tuesday , September 26 2017
Home / مذہبی صفحہ / اشاعت اسلام کیلئے عصری ذرائع ابلاغ کا استعمال

اشاعت اسلام کیلئے عصری ذرائع ابلاغ کا استعمال

اللہ سبحانہ وتعالی نے سیدالکائنات رحمت للعالمین سیدنا محمد رسول اللہﷺکوخاتم النبیین بناکرمبعوث فرمایا ،کتاب ہدایت قرآن مجیدآپ ﷺ پر نازل فرما ئی،اس پیغام ہدایت کو ساری انسانیت تک پہونچانے کا آپﷺ کوامین بنایا ،ارشادپاک ہے ’’اے رسول جوکچھ آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کیا گیا ہے پہونچا دیجئے اوراگرآپ نے یہ کام نہیں کیا توآپ نے اللہ کی رسالت کا پیغام پہونچانے کا حق ادانہیں کیابے شک اللہ تعالی لوگوں سے آپ کی حفاظت فرما ئے گا یقینا اللہ تعالی کافروں کو ہدایت نہیں دیتا‘‘۔(المائدہ:۶۷) اس آیت پاک کی ہدایت پر آپ ﷺ نے کامل واکمل ترین طورپر عمل فرمایا اسلئے اگرکوئی اس میں رتی برابرشبہ کرے تواسکا ایمان خطرہ میں پڑجاتاہے ،ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ اگرکوئی اس بات کا گمان کرے کہ آپ ﷺنے اس پیغام رسالت کے کچھ حصوں کو چھپا لیا ہے تووہ جھوٹا ہے۔ (بخاری:۴۸۵۵)حجۃ الوداع کے روحانی کیف سے معمورموقع پر آپ ﷺنے صحابہ سے خطاب کرکے فرمایا ’’الا ہل بلغت؟میرے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کیا میں نے پیغام رسالت بلاکم وکاست تم تک پہنچا دیا؟سارامجمع جوکم وبیش ایک لاکھ چالیس ہزارنفوس پر مشتمل تھا بیک آوازاقرارکیا :نشہدانک قد بلغت وأدیت ونصحت ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپﷺ نے پیغام حق ہم تک پہونچا دیا ،منصب رسالت کوپوری طرح اداکرنے کا حق ادافرمادیا اورنصح وخیرخواہی سے اس فرض کو پورافرما دیا، پھر آپ ﷺ نے آسمان کی طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرما یا اے اللہ میں نے تیراپیغام تیرے بندوں تک پہنچادیا اورتین مرتبہ فرما یا اے اللہ توگواہ رہ۔ (صحیح مسلم کتا ب الحج ) آپ ﷺ چونکہ خاتم النبیین ہیں ،قیامت تک کوئی نبی اوررسول نہیں آئیں گے نہ کوئی آسمانی ہدایت نازل ہوگی جیسے آپﷺ خاتم النبیین ہیں اللہ کا کلام قرآن پاک خاتم الکتب ہے اسلئے دیگرانسانوں تک پیغام اسلام کے پہونچانے کا ذمہ دارامت مسلمہ کوبنا یا گیا ہے ۔اللہ سبحانہ نے سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کی امت میں ہونے کی نسبت سے امت مسلمہ کو خیرامت کا منصب عطا فرما یا اورفرمایا ’’تم خیرامت ہوجسکولوگوں کی ہدایت کیلئے پیداکیا گیاہے ،اچھی اوربھلی باتوں کا حکم کرتے رہواوربری باتوں سے لوگوں کو منع کرتے رہواورتم اللہ تعالی پر ایمان رکھتے ہو۔(آل عمران :۱۱۰)خیرامت ہونے کے منصب کی ذمہ داری یہی ہے جواس آیت پاک میں بیان کی گئی ہے یعنی امربالمعرو ف اورنہی عن المنکر۔نبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺ کا ارشادگرامی ہے ’’بلغواولوعنی آیۃ‘‘مجھ سے ایک بات بھی کیوں نہ سنی گئی ہودوسروں تک پہونچادو،خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپﷺ ارشادفرمایا: فلیبلغ الشاہدالغائب یہاں موجودافراداس پیام کو غیرموجوداصحاب تک پہونچادیں۔ ہر دورمیں اسکے تقاضوں کے مطابق حضرات صحابہ کرام وتابعین وتبع تابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین،فقہاء ومجتہدین ، علماء وصلحاء اوراصحاب باصفا رحمہم اللہ نے اس فرض کابقدراستطاعت حق اداکیا ہے،جسکی وجہ آج اسلام ساری دنیا میں عام ہے اوراسکے ماننے والے سخت ترین مصائب وآلام میں بھی اسکواپنے سینہ سے لگا ئے ہوئے اسلامی احکامات کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں۔

موجودہ دورسخت ترین امتحان وآزمائش کاہے ،اسلام کی اشاعت اوراسکے پیغا م ہدایت کو عام کرنے کی مثبت کوششوں کے بالمقابل اسلام دشمن طاقتیں اسلام کے پاکیزہ احکامات کو توڑمروڑکرپیش کرنے کی مہم میں متحدہ طورپر جٹی ہوئی ہیں،اسلام کا چراغ گل کرنے کے ناپاک عزائم انکے سینوں کو جھلسا رہے ہیں انکی یہی دشمنی وعداوت انکواسلام پر نا روااعتراضات کرنے ،اسلام اورمسلمانوں کے خلاف یا وہ گوئی کرنے اورمسلمانوں پر حملہ کرنے انکی جان ،عزت وآبرو سے کھلواڑکرنے اورانکی معیشت کو کھوکلاکرنے کی طرف اکسارہی ہے ۔انکی دشمنانہ روش اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی جوہرانصاف پسندپر آشکارہ ہے۔دشمنان اسلام کے اعتراضات اوراسلام کے فطری وپاکیزہ احکامات کوغلط رخ سے پیش کرنے والوں کا ہردورمیں علماء وصلحاء امت نے مدلل ومبرہن جواب دیا ہے،الحمد للہ جسکی وجہ بہت سے ان افرادکی اصلاح ہوئی ہے جواسلام دشمن طاقتوں کے زیراثررہ کر ان سے متاثرہوئے تھے،اللہ سبحانہ کی شان اوراسکی حکمت کا کرشمہ کہ دشمنان اسلام کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔اسلام سے جنکوبرگشتہ کرنا چاہتے تھے یا انکواسلام کے قریب آنے سے روکنے کی سازش رچاتے تھے ان میں سے اکثرالحمدللہ اسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کررہے ہیں ۔

دشمنان اسلام کی آج متحدہ کوشش یہی ہے کہ اسلام کے عالمگیرپیغام اوراسکے فطری احکام سے متاثرہوکرباطل مذاہب پر کاربندایسے افراد جواسلام کے دامن رحمت میں پناہ حاصل کرنے کی آرزومند ہیں انکواسلام میں داخل ہونے سے روکا جائے اورجومسلمان ہیں بتد ریج اسلام سے انکا رشتہ کمزوررکیا جائے،اس کوشش میں کامیابی کیلئے انھوں نے پہلا قدم یہ اٹھایا کہ مسلمانوں کوانکی اسلامی شناخت اوراسلامی تہذیب وثقافت سے آہستہ آہستہ دورکرکے انکے اندرغیراسلامی تہذیب وشناخت اور غیراسلامی کلچرکوفروغ دیا جائے ،اس میں وہ بڑی حد تک کامیاب ہیں ، گلوبلائزیشن اورعالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں نے کچھ ایسے گل کھلائے ہیں کہ جسکی وجہ امت مسلمہ کی عملی سطح میں ترجیحات ضرورتبدیل ہوئی ہیں ۔لیکن اسلام کے بنیادی اعتقادات اوراسکے لازمی وضروری احکامات سے مسلمانوں کوبرگشتہ کرنے کی ناپاک کوششوں میں اب تک پوری طر ح کامیاب نہیں ہوسکے ہیں ،انکا ناپاک ارادہ یہی ہے کہ مسلمانوں کے قلوب سے اللہ اوراسکے رسول ﷺ کی محبت اوراسلامی اعتقادات واحکامات کی چاہت ومحبت کو کھرچ کر نکال دیا جائے ، اللہ سبحانہ کا احسان ہے کہ امت مسلمہ اللہ سبحانہ کے حفظ وامان میں ہے اپنی اسلامی تہذیب وثقافت کودشمنان اسلام کی کوششوں سے متاثرہوکرگوکہ خیرباد کہد یا ہے لیکن ایمان واسلام کواپنے سینہ سے لگائے ہوئے زندہ ہے ۔تاہم اس سے خوش رہ کر چین وسکون کی سانس لینے کا موقع نہیں ہے بلکہ مغربی کلچرسے متاثرہوکراس کی نقالی کرکے اپنی انفرادی واجتماعی زندگی میں امت مسلمہ نے کیا کچھ کھودیا ہے اس پر ٹھنڈے دل سے غوروفکرکی ضرورت ہے کیونکہ مسلمانوں کا معاشرتی واقتصادی نظام مغربی فکرسے بہت زیادہ متاثرہے،بعض روشن خیال افراد امت وہ بھی ہیں جواس غیراسلامی نظام پرعمل پیرارہنے کے ساتھ وقت وحالات کی تبدیلی کے ساتھ اس نظام اسلامی میں تبدیلی کے بھی خواہاں ہیں۔ اسلام کے بنیادی مأخذ کتاب وسنت ،اورنبی رحمت سیدنا محمدرسول اللہ ﷺکی حیات مبارکہ سے کماحقہ واقف نہ ہونے کی وجہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک مغرب کے معاشرتی واقتصادی نظام کواختیارنہ کرلیا جائے،جبکہ حقیقت اسکے برعکس ہے ،سنجیدگی سے غورکیا جائے تو موجودہ دورمیں امت مسلمہ کے زوال کا اہم ترین سبب دین اسلام کے بعض اہم احکام سے غفلت ولاپرواہی ہے،اسلام ایک مکمل ضابطہ حیا ت کا نام ہے جوانسانی زندگی کے سارے شعبوں کو محیط ہے،مسلمان پوری طرح اسلامی تعلیمات پر عمل پیرارہتے ہوئے نہ صرف ترقی کرسکتے ہیں بلکہ اپنی صلاحیتوں اورتوانائیوں کا صحیح استعمال کرکے ہر شعبہ حیات میں وہ کارہائے نمایاں انجام دے سکتے ہیں جوگمراہ انسانیت کواسلام سے قریب کرنے کا ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں،مغربی تہذیب کے وہ اثرات بدجسکی آج امت مسلمہ بری طرح شکارہوگئی ہے اس سے امت کوآگاہ کرنا ضروری ہے،مخلوط تعلیم کا نظام ،مردوں کے شانہ بہ شانہ میدان عمل میں خواتین امت کی شرکت سے جواخلاقی بگاڑپیداہواہے اس سے ہر فردواقف ہے، اسکی وجہ امت مسلمہ کا خاندانی نظام درہم برہم ہے ،نیزسودی نظام ،رہن سہن ،پہننے اوڑھنے ،وضع قطع میں انکی نقالی نے بھی اسلامی شناخت کوبڑانقصان پہنچایا ہے۔اس میں کوئی دورائے نہیں کہ تحقیق وترقی کے میدان میں مغرب سب سے آگے ہے اسلئے وہ علوم جوسائنسی تحقیقات وترقیات کے نتیجہ میں وقوع پذیرہیں ان سے استفادہ اس وقت امت مسلمہ کی مجبوری ہے،

حدیث پاک ’’الحکمۃ ضالۃ المؤمن بحیث وجدہا احق بہا‘‘علم وحکمت مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے جہاں بھی مل جائے وہ اسکا زیادہ مستحق ہے ۔پر عمل کرتے ہوئے ان سے ضروراستفادہ کیا جا سکتاہے،آئندہ ان سے بے نیازرہنے کیلئے جدید علوم سیکھے جا سکتے ہیں ،قرآن پاک کے علوم ومعارف اورکائنات میں اللہ سبحانہ کی جونشانیاں ہیں انکا گہرائی سے مطالعہ خودانسان کے پورے وجود میں جوکچھ رازہائے سربستہ ہیں جوانسانی وجودکوایک تخلیقی شاہکارقراردیتے ہیں ان اسرار وغوامض سے پر دہ اٹھا نا امت مسلمہ کا ایسا فریضہ ہے کہ اسکی ایک جماعت اس میدان میں مغرب سے بھی آگے ہونی چاہیے تاکہ امت مسلمہ کوان جدیدعلوم میں بھی کسی اورکی احتیاج نہ رہے بلکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اہل مغرب بھی ان علوم میں امت مسلمہ کواپنا مقتدابنائیں ۔اے بسا آرزوکہ خاک شدہ
ہردورمیں امت کا دردرکھنے والے فکرارجمند کے مالک علماء وصلحاء نے اسلام کا پیغام بساط بھرکوشش کرکے دوسروں تک پہونچایا ہے اوراُس دورمیں اشاعت کے جوذرائع ممکن ہوسکتے تھے انکو استعمال کیا ہے ،موجودہ دورذرائع ابلاغ میں وسعت وترقی کا ہے ،ان میں اخبارات،رسائل وجرائدکے علاوہ بجلی وبرقی سے چلنے والے آلات ابلاغ جیسے ریڈیو،ٹیلی ویــژن ،کمپیوٹر،سیٹلائٹ ،ٹیلی پرنٹر،سیل فون ، انٹرنیٹ ،ای میل ،فیس بک ، شوشل میڈیا، واٹس اپ وغیرہ جیسے ترقیاتی آلات ہیں جونشرو ابلاغ کے اہم ترین ذرائع ہیں ۔دشمنان اسلام ، اسلام کے خلاف انکا استعمال کررہے ہیں ایسے میں امت مسلمہ کے ذمہ داروں کا فرض ہے کہ وہ اسلام کے مثبت پیغام کوعام کرنے کے لئے ان سارے ذرائع ابلاغ کا استعمال کریں ۔

TOPPOPULARRECENT