Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / اشاعت دین کیلئے گرمائی تعطیلات سے استفادہ

اشاعت دین کیلئے گرمائی تعطیلات سے استفادہ

اس ملک کو آزاد ہوئے نصف صدی سے کچھ زیادہ کا عرصہ ہوتاہے، آزادی سے قبل دکن کا علاقہ مسلم حکمرانوں کے زیرنگیں رہا ہے،جس میں مسلم وغیرمسلم کی تخصیص کے بغیرسب کے حقوق کا تحفظ تھا ،اوران کی عملی صورت گری سے انصاف کے تقاضے پورے ہورہے تھے ۔ سارے شہری آپس میں شیروشکربن کر بھائی چارہ واخوت کے ساتھ زندگی گزاررہے تھے، جس کی وجہ امن و امان ،چین وسکون کی فضاء بنی ہوئی تھی،نصاب تعلیم میں دین و مذہب کی تعلیم کو نمایا ں جگہ دی گئی تھی اور اخلاقیات کو بھی نصاب کا حصہ بنایا گیا تھا،نصاب تعلیم مدون کرنے والوں کی دوررس نگاہیں نونہالان امت کے مستقبل کو دیکھ رہی تھیں ،اوروطن عزیزمیں رہنے والے غیرمسلم بھائیوں کی بھلائی وخیر خواہی بھی ان کے مدنظرتھی ،اس نصاب تعلیم اوردردمند اساتذہ کی طرزتدریس وتفہیم کی کچھ برکت ایسی تھی کہ ملت اسلامیہ کے ساتھ غیرمسلم اقوام بھی زیورعلم سے آراستہ ہونے کے ساتھ علم واخلاق کے زیورسے مزین ہورہے تھے ،معاشرہ کا بکثرت حصہ حسن اخلاق کا پیکر ،دین ودیانت کے تقاضوں کی تکمیل کا مظہربناہواتھا،بلا لحاظ مذہب وملت سارے انسان خوش وخرم زندگی بسر کر رہے تھے،ہرایک کو ان کا حق مل رہا تھا،ہر کوئی اپنے مذہب پر عمل پیرارہتے ہوئے اخوت وانسانیت ،پیار محبت توقیر واحترام ،رواداری ودلجوئی کی فضاء میں سانس لے رہا تھا۔غیرمسلم برادران وطن کے مذہبی تشخصات کی حفاظت اوران کی نگہداشت وسرپرستی کے ساتھ مسلم حکمرانوں نے اپنے دورحکومت میں ملت اسلامیہ کو دین ومذہب سے وابستہ رکھنے کیلئے جگہ جگہ مدارس دینیہ وجامعات کا قیام عمل میں لایا تھا۔یہی وجہ تھی کہ یہ امت اپنے دین ومذہب سے جڑی رہی تھی ،اوریہ کہا جائے توبے جا نہ ہوگا ’’کہ ان مسلم بادشاہوں کی کوششوں کے دیر پا اثرات کے نتیجہ میں اب تک بھی بڑی حد تک جڑی ہوئی ہے ‘‘۔اوریہ مسلم حکومتیں مسلمانوں کے ساتھ دیگرمذاہب کے ماننے والوں کیلئے پیکر رحمت بنی رہیں،بالخصوص سلطنت آصفیہ اور اس کے آخری دو حکمرانوں آصف شاہ سادس وآصف جاہ سابع رحمہما اللہ کے علمی ،اصلاحی،تعمیری اور خدمت خلق کے زرین کارناموں کے جیتے جاگتے ثبوت آج بھی دکن کے علاقوں کی رونق بنے ہوئے ہیں ،آزادی کے بعد حالات نے نئی کروٹ لی کہنے کو تو ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوگیا ،لیکن جاتے جاتے انہوں نے اپنے تہذیب کے جو نقوش چھوڑے تھے افسوس !صد افسوس! برادران وطن کے ساتھ امت مسلمہ کا اکثرطبقہ اس کا اسیر ہوگیا۔

ہر گزرتے دن کے ساتھ اس اسیری وغلامی میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ، ہر سال ہماراملک آزادی کا جشن منا رہا ہے ،لیکن صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان کے اکثر باسی انگریزوں کی تہذیبی غلامی کا قلادہ اپنے گلے میں ڈالے ہوئے ہیں،امت مسلمہ کیلئے ایک دوسرا سانحہ یہ رہا کہ برادران وطن کی تہذیب وثقافت نے بھی دھیر ے دھیرے مسلم ثقافت وتمدن پر اپنا رنگ چڑھایا ۔جس کی وجہ مسلمانوں کاا پنے مذہب اپنی تہذیب اور اپنے تمدن سے رشتہ کمزورہوتاچلاگیا ،عصری علوم سے بھی یہ امت آہستہ آہستہ دور ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ مسلمان اعلی مناسب پر بعد کے دور میں قال قال ہی فائز رہے ، علم سے بچھڑے پن نے روزگار کے مسائل بھی پیدا کئے ۔

اس صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے درد مند علماء ومفکرین اسلام نے اعلی اسلامی درسگاہیں قائم کیں ،اوراسلامی جامعات میں مختلف اسلامی علوم وفنون میں تخصصات کے شعبے قائم کئے، اورقائدین ودانشوران ملت نے عصری علوم کی درسگاہوں اوراعلی تعلیم کیلئے جامعات کا قیام عمل میں لایا ،جس میں اسلامی دینی واخلاقی ضروری نصاب کو بھی شامل رکھا، تاکہ عصری مدارس وجامعات سے فراغت پانے والے روٹی روزگار سے لگے رہیں اور دین سے بھی اپنا رشتہ جوڑے رہیں ، دینی جامعات کے قیام سے مقصود یہ تھا کہ ان جامعات سے فارغ ہونے والے ماہرین اسلامیات اسلام کے پیغام کی اشاعت اوردین متین کی حفاظت کا فرض انجام دیتے رہیں، نیزعلوم اسلامیہ میں مہارت تامہ حاصل کرکے تحقیق وتدقیق کے ساتھ درپیش مسائل میں اجتہاد استنباط کے ذریعہ امت مسلمہ ودیگر انسانیت کی رہبری کریں ،عامہ مسلمانوں کی اسلام سے وابستگی برقرار رکھنے کیلئے چھوٹے چھوٹے دینی مدارس ومکاتب اوراکثرمساجد میں صباحی ومسائی مدارس کا نظام جاری کیا،تاکہ امت مسلمہ بنیادی، اسلامی ومذہبی تعلیمات سے واقف ہوسکے ۔اوراپنی تہذیب وثقافت کی حفاظت کرتی رہے،ملت اسلامیہ کی عدم توجہ وغفلت کی وجہ ادھرچند سالوں سے یہ نظام آہستہ آہستہ اپنی اہمیت وقدرکھوتا رہا ہے ،اوراس وقت یہ بڑی حد تک معطل ہے ۔لیکن ضرورت شدید اس بات کی ہے کہ اس میں پھرسے دوبارہ نئی روح وجان ڈالی جائے اوراس نظام کو ازسرنو اعلی پیمانہ پر زندہ کیا جائے ۔
مساجد یا بستیوں میں صباحی ومسائی نظام کے احیاء کے ساتھ بنیادی دینی تعلیم کی اشاعت کیلئے گرمائی تعطیلات سے استفاد ہ کیا جائے،مختلف محلہ جات میں جزوقتی ایسے مکاتب قائم کئے جائیں جہاں کم وقت میں دین کی زیادہ معلومات فراہم کی جائیں،قرآن پاک اللہ کی کتاب ہے جوساری انسانیت کیلئے سرچشمہ ہدایت ہے،اسکا پہلا حق صحت سے تلاوت کرنا ہے امت مسلمہ کی ایک بڑی تعداداس پہلے حق سے غافل ہے،اسکی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت ہے تاکہ امت مسلمہ اس حق کو اداکرسکے، جبکہ اسکے معانی ومفاہیم کا سمجھنا دوسراحق ہے ،پھراپنی عملی زندگی کو کتاب وسنت کی تعلیمات کے رنگ میں رنگنا ہے۔اسلام کے بنیادی اعتقادات اوربنیادی ضروری احکامات پر مبنی ایک ایسانصاب تعلیم تیارہونا چاہئے جو اس ضرورت کو پوراکرسکے۔ادھرچند سالوں سے گرمائی تعطیلات میں مختلف تنظیموں کی جانب سے یہ نظم جاری ہے، مزید اس میں نکھارلانے کی ضرورت ہے یہ بھی کہ اس کام میں مزید وسعت دی جا نی چاہئے تاکہ ملت اسلامیہ کی اکثریت اس سے استفادہ کرسکے۔چندسالوں سے جامعہ نظامیہ اورادارئہ سیاست کے تعاون سے شہرکے مختلف محلہ جات میں اس مقصد کیلئے مراکزقائم کئے جارہے ہیں،اورایک عمدہ نصاب بھی اسکے لئے مرتب کیا جا چکا ہے،اس سے استفادہ بھی اچھے نتائج وثمرات کا حامل ہوگا،ادارئہ سیاست کی جانب سے جوملی خدمات انجام پارہی ہے ان میں ایک گرمائی دینی تعلیمی نظام ہے،جوقابل قدراورلائق تحسین ہے۔

فکرودردکے ساتھ جامعہ نظامیہ اور ادائہ سیاست کے تعاون سے یہ نظام تو ضروراپنا کام کررہا ہے لیکن اس سے جس طرح ملت اسلامیہ استفادہ کرنا چاہئے اورجیسی کچھ اسکی قدرافزائی ہونی چاہئے اسکی بڑی کمی محسوس کی گئی ہے ۔پانی ،ہوا،غذاجیسے انسانی زندگی کیلئے لازم ہیں اس سے کہیں زیادہ روحانی حیات وزندگی کیلئے اسلام کے احکامات سے واقفیت اوراس پر عمل ضروری ہے۔آج کل شعوربیداری مہم مختلف امورسے متعلق آئے دن اخبارات دیکھی جاتی ہے دین وایمان کے تحفظ اوراپنی نسلوں کی دین پربرقراری ،ایمان پر جینے اورایمان پر مرنے کے احساس کو تازہ کرنے کیلئے بھی شعوربیداری مہم چلائی جانی چاہئے۔اللہ سبحانہ کا ارشادپاک ہے’’اے ایمان والواللہ تعالی سے ڈروجیساکہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اوراسلام ہی کی حالت میں تمہاری وفات ہو‘‘۔(آل عمران ۱۰۲)اس بزم ہستی میں جہاں کامیابی وناکامی ،فائدہ ونقصان،تعمیروتخریب کادیکھنے والی ہر نگاہ مشاہدہ کرتی رہتی ہے وہیں اس بزم ہستی میں امت مسلمہ کے عزت ووقار،سربلدی وسرفرازی اورآخرت کی کامیابی دین وایمان سے جڑے رہنے میں ہے۔اسلامی احکام کے مطابق زندگی گزارنے اورساری زندگی اعمال صالحہ پر کاربندرہنے سے انشاء اللہ موت بھی اسلام ہی کی حالت میں ہوگی۔حدیث پاک میں ارشادہے ’’جس حالت میں زندگی گزاری جائیگی اسی حالت میں موت بھی آئے گی اورجس حالت میں موت آئیگی اسی حالت میں ہمارحشر بھی ہوگا‘‘۔

TOPPOPULARRECENT