Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / اشعار پڑھ لینے سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے: جمیعتہ العلماء

اشعار پڑھ لینے سے مسلمانوں کے مسائل حل نہیں ہوتے: جمیعتہ العلماء

12 فیصد تحفظات کیلئے اضلاع میں اتحاد کا زبردست مظاہرہ، کوہیر گرام سبھا میں قرارداد کی منظوری، نمائندگیوں کا سلسلہ جاری

کاماریڈی۔10 ۔ نومبر (سیاست نیوز) جمعیت العلماء کاماریڈی (ارشد مدنی گروپ) نے آرڈی او کاماریڈی سے نمائندگی کرتے ہوئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے فوری بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ صدر جمعیۃ العلماء کاماریڈی حافظ فہیم الدین منیری کی قیادت میں سکریٹری سید عظمت علی، نائب صدور مولانا شیخ احمد ، حافظ محمد حلیمی، حافظ محمد مشتاق حلیمی آرگنائزنگ سکریٹری، محمد ماجد خازن ، محمد فیروز سکریٹری، حافظ شرف الدین ناظم مدرسہ منیر الھدیٰ ،حافظ عبدالواجد حلیمی نائب ناظم مدرسہ مصباح الھدیٰ، محمد حمزہ ، حافظ تقی الدین خطیب و امام مسجد عائشہ، محمد عثمان کے علاوہ دیگر نے آج صبح آرڈی او کاماریڈی مسٹر ناگیش کو تفصیلی یادداشت پیش کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی کیلئے فوری بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی حکومت انتخابات کے موقع پر جاری کردہ انتخابی منشور میں مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس پر عمل آوری کیلئے ابھی تک کسی قسم کے اقدامات نہیں کئے گئے ۔ جبکہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ سدھیر کمیٹی کو تحفظات کی فراہمی کا کوئی اختیار حاصل نہیں ہے۔ مسلمانوں کی معاشی اور سماجی پسماندگی پر تحقیقات کرنے کیلئے سدھیر کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا لیکن سدھیر کمیٹی حال ہی میں ضلع کا دورہ کیا تھا اور اس کمیٹی کے دورہ کی اطلاع ضلع کے منڈلو ں سے تعلق رکھنے والے کسی بھی افراد کو نہیں دی گئی۔ مسلمان انتہائی غربت اور معاشی پسماندگی میں مبتلا ہے۔

مسلمانوں کی معاشی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کیلئے تحفظات کی فراہمی ناگزیر ہے۔ چیف منسٹر مسٹر چندر شیکھر رائو مسلمانوں کے مسائل سے اچھی طرح واقف ہے اور ہمیشہ اپنی تقاریر میں مسلمانوں کے مسائل کے ذکر اور اُردو کے اشعار پڑھ لینے سے مسلمانوں کی معاشی، سیاسی اور سماجی حالت تبدیل نہیں ہوتی اس کیلئے عملی طور پر اقدامات ضروری ہے اور تحفظات کی فراہمی کا بھی مسلمانوں کی جانب سے کوئی مطالبہ نہیں کیا گیا تھا۔ انتخابات کے موقع پر ٹی آرایس کے منشور میں اسے شامل کرتے ہوئے مسلمانوں میں ایک امید کو پیدا کیا تھا ۔ 16ماہ کا وقفہ گذرنے کے باوجود بھی اس خصوص میں اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے مسلمانوں میں شعور بیدار ہوا ہے اور اس کیلئے تحریک شروع ہوچکی ہے۔ اسمبلی میں تحفظات کے سلسلہ میں قرار داد اور فراہمی ناممکن قرار دیتے ہوئے بی سی کمیشن کے قیام ذریعہ تحفظات کی فراہمی کرتے ہوئے ملازمتوں کی بھرتی کو عمل میں لانے کا مطالبہ کیا۔ اس خصوص میں جنگی خطوط پر اقدامات نہ کئے گئے تو مسلمانوں کو مجبوراً تحریک میں شدت پیدا کرنے پر مجبور ہونا پڑیگا۔ صدر جمعیت العلماء حافظ فہیم الدین منیری نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے اس خصوص میں سلسلہ وار تحریک چلانے کا ارادہ ظاہر کیا۔ (سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT