Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / اشیاء کو سستا بنانے یکم جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل آوری

اشیاء کو سستا بنانے یکم جولائی سے جی ایس ٹی پر عمل آوری

حکومت کے اصلاحات کے اقدامات سے پیداوار کی شرح 7-8% ہونے کی توقع ، ارون جیٹلی کا خطاب
نئی دہلی۔ 28 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) جی ایس ٹی پر یکم جولائی سے عمل آوری کی توقع ظاہر کرتے ہوئے وزیر فینانس ارون جیٹلی نے کہا کہ اس سے دنیا کی سب سے بڑی واحد مارکٹ قائم ہوگی اور اشیاء سستے ہوجائیں گی۔ ٹیکس سے بچنے کی مشکلات بھی ختم ہوں گی۔ کامن ویلتھ آڈیٹر جنرل کی 23 ویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے کہا کہ ہندوستان زیادہ عدم ٹیکس ادائیگی کی شکایت والا معاشرہ بن گیا ہے اور حکومت نے بڑی کرنسی نوٹوں کو منسوخ کردیا ہے تاکہ عوام کو ہر معاملت کے لئے رقم کے استعمال کے رجحان کو دور کیا جاسکے گا۔ اس کی وجہ سے لوگ ٹیکس چوری کے عادی ہوگئے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے لئے امداد دی جارہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ اصلاحات اقدامات نے حکومت کے کام آسان کردیئے ہیں۔ اس سے ملک کی معاشی ترقی میں اضافہ ہوگا۔ آنے والے دنوں میں ہندوستان کی شرح پیداوار 7-8% ہوگی جو دنیا میں سب سے تیز تر بڑی معیشت بن کر ابھرے گا لیکن ٹیلی قیمتوں میں عالمی سطح پر جو چیلنجس پائے جاتے ہیں، وہ برقرار رہیں گے۔ خانگی شعبوں میں سرمایہ کاری اور سرکاری ملکیت والے بینکوں کی حالت میں بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

جی ایس ٹی سے متعلق ارون جیٹلی نے کہا کہ نئے بالواسطہ ٹیکس اقدامات کے ذریعہ گڈس اینڈ سرویس کے عمل کو کامیاب بنایا جائے گا، جبکہ ایک مضبوط انفارمیشن ٹیکنالوجی میں اس ٹیکس چوری سے بچنے کیلئے ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوگی۔ ایک سیاسی ادارہ کے باوجود ہندوستان میں اس وقت واحد معاشی ادارہ نہیں ہے بلکہ یہاں ہمہ مقصدی ادارے کام کررہے ہیں اور ان کے ٹیکس میں مختلف ہیں۔ اس وجہ سے اشیاء کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں لیکن اب جی ایس ٹی آنے کے بعد یہ اشیاء سستے ہوں گی۔ جی ایس ٹی کو نمونہ سب سے پہلے 2006ء میں رکھی گئی تھی جو کم از کم 7 ریاستوں میں نافذ ہوا۔ اس کے ساتھ مرکزی چنگی بھی شامل تھی۔ حکومت جو بڑے ٹیکس اصلاحات لائے ہیں، اس کے ذریعہ ہر یکم جولائی سے گڈس اینڈ سرویس ٹیکس پر عمل آوری کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔ مرکزی کابینہ نے اس ہفتہ میں چار ضمنی جی ایس ٹی قوانین کو منظوری دی ہے جس کو پارلیمنٹ کے جاریہ بجٹ سیشن میں پیش کیا جائے گا۔ اس قانون پر عمل آوری کے بعد بڑے پیمانے پر رشوت ستانی واقعات کم ہوں گے۔ رقمی لین دین کے ذریعہ ہونے والے جرائم پر قابو پایا جائے گا۔ دہشت گردی کو فراہم کئے جانے والے فنڈس پر بھی روک لگے گی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT