Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / اصطلاح دین میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ’’اسراء‘‘ اور بارگاہِ قدس تک ’’معراج سے موسوم‘‘

اصطلاح دین میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک ’’اسراء‘‘ اور بارگاہِ قدس تک ’’معراج سے موسوم‘‘

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔14؍مئی( پریس نوٹ) طائف سے واپسی کے بعد حق تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک اور وہاں سے اپنی بارگاہ رفیع الشان تک بحالت بیداری بدن و روح پاک کے ساتھ ایک ہی شب میں سیر کرائی جسے’’اسراء و معراج‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔معراج النبیؐ کی تاریخ اور سنہ کے متعلق راجح قول ۲۶ اور۲۷؍ رجب المرجب ۱۰ نبوی کی درمیانی شب ہے۔ واقعہ معراج معجزہ ہے اور معجزہ براہ راست اللہ کا فعل ہوتا ہے اس کا مقصود رسالت کی تائید اور مومنین کی حمایت ہے۔اصطلاح دین میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک سیر کو ’’اسراء‘‘ اور وہاں سے عروج و کمال، سیر سماوات، مراحل سدرہ اور بارگاہ قدس تک رسائی کو ’’معراج‘‘ سے موسوم کیا جاتا ہے۔ سورہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں اسراء اور سورہ نجم کی ابتدائی آیات میں معراج سے متعلق حقائق و معارف ارشاد ہوئے ہیں۔کتب احادیث میں صحابہ کرام کی ایک بڑی تعداد سے واقعہ معراج کی تفصیلات منقول ہیں۔ معراج کے موقع پر بارگاہ الٰہی سے تین عطیے مرحمت ہوئے نماز پنجگانہ، سورہ بقرہ کی آخری آیات اور تمام ایمان والوں کے لئے نوید مغفرت۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ ’1251‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے دونوں سیشنس میں واقعات قبل ہجرت مقدسہ کے معظم و مکرم موضوع پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سیرت حلبیہ کے حوالے سے بتایا کہ جب حضورؐ کا نامہ مبارک قیصر روم کے پاس پہنچا تب ابو سفیان جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، وہاں موجود تھے۔ انھوں نے حضورؐ کے متعلق قیصر روم سے کہا کہ ’’اجازت ہو تو میں آپ کو ان ہستی (رسول اللہؐ) کے متعلق ایسی بات بتلائوں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ناقابل فہم باتیں بھی بولتے ہیں‘‘۔ بادشاہ نے اجازت دی تو ابو سفیان نے کہا کہ ’’وہ کہتے ہیں کہ وہ ہماری سرزمین حرم سے نکل کر تمہاری مسجد یعنی بیت المقدس پہنچے اور پھر ایک ہی رات میں (سیر افلاک کر کے) وہاں سے واپس بھی آگئے‘‘۔ اس پر ایک مذہبی عالم نے کہا کہ ’’میں اس رات کو جانتا ہوں‘‘۔ اس عالم نے اپنا واقعہ بیان کیا کہ’’میں مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کئے بغیر رات کو کبھی نہیں سوتا تھا۔ ایک رات (شب معراج) میں نے تمام دروازے بند کئے مگر ایک دروازہ کوشش کے باوجود مجھ سے بند نہ ہو سکا۔ میں نے خادموں کی مدد لی لیکن ناکام رہا۔ چنانچہ وہ دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا۔ صبح کو میں پھر اس دروازے پر پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دروازے کے سامنے جو پتھر تھا وہ ہٹا ہوا ہے۔ پھر میں نے دیکھا کہ اس میں ایسے نشانات ہیں جیسے وہاں کوئی جانور (براق) باندھا گیا ہو۔ اور میں نے دیکھا کہ دروازہ کے بند ہونے میں اب کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ اس سے میں سمجھ گیا کہ دروازہ بند نہ ہونے کی وجہ وہ تھی جو میں قدیم مذہبی کتابوں میں پڑھ چکا ہوں کہ ایک نبی بیت المقدس سے آسمانوں کی طرف معراج کریں گے‘‘۔ مسجد (اقصیٰ) کے ایک دروازے کا بند نہ ہوسکنا بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی تھی ورنہ ظاہر ہے کہ اگر دروازہ بند ہو جاتا تب بھی رسول اللہؐ کے لئے بند دروازے میں داخل ہونا کوئی بڑی بات نہیں تھی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT