Saturday , May 27 2017
Home / Top Stories / اصلاحات کا عمل تیز کرنے کے لیے سیاسی جذبہ کو دوگنا کرنے کی ضرورت

اصلاحات کا عمل تیز کرنے کے لیے سیاسی جذبہ کو دوگنا کرنے کی ضرورت

The Prime Minister, Shri Narendra Modi addressing at the 11th Civil Services Day function, in New Delhi on April 21, 2017.

موثر اور کامیاب کارکردگی کیلئے ٹیم ورک لازمی، عوامی بہبود کیلئے سوشیل میڈیا کا استعمال ،وزیراعظم کا خطاب
نئی دہلی۔21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) وزیراعظم نریندر مودی نے اصلاحات کے عمل کو تیز تر کرنے کے لیے سیاسی جذبہ کو دوگنا کرنے کی ضرورتپر زور دیا۔ ملک کی کارکردگی کو موثر اور کامیاب بنانے کے لیے مل جل کر ٹیم ورک کی طرح کام کرنا لازمی ہے۔ انہوں نے بیوروکریٹس پر زور دیا کہ وہ آپس میں مل جل کر موثر طریقہ سے کام کریں۔ سیول سروینٹس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے کہا کہ بیوروکریٹس کو تیزی سے فیصلے کرنے کے لیے کسی قسم کی سنگینی کا خوف اپنے اندر پیدا نہ کریں۔ کیوں کہ وہ (مودی ) اصلاحات کا عمل تیز کرنے کے اقدامات کے لیے ان کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑے ہیں۔ عوامی مفاد میں ایماندارانہ فیصلے کریں۔ مودی نے کہا کہ سیاسی جذبہ اور قوت ارادی سے ہی اصلاحات لائے جاسکتے ہیں۔ لیکن بیوروکریٹس اصلاحات اور عوامی حصہ داری سے ہی تبدیلی ممکن ہے۔ اگر ہم ان تینوں سیاسی جذبہ بیوروکریسی کی کارکردگی اور عوامی شراکت داری کو ملاکر کام کریں تو اصلاحات کے ثمرات حاصل ہونا یقینی ہے۔ اچھے نتائج برآمد کرنے کے لیے باہمی دیانتدارانہ مساعی ضروری ہے۔ اصلاحات کے لیے سیاسی مقصد و منشا ہونا لازمی ہوتا ہے اور میں اس جذبہ سے عاری نہیں ہوں بلکہ اس جذبہ کو دوگنا کرنا چاہتا ہوں۔ سیول سرونٹس کو یہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اگر ان لوگوں نے فیصلے کئے تو اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور ان کے حق میں بدنامی آئے گی۔ میں ان بیوروکریٹس کے ساتھ کھڑا ہوں جو اصلاحات کے عمل کو تیز کرنے کے لیے جلد سے جلد فیصلے کرنے کے ساتھ اس پر عمل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اگر فیصلے پوری دیانتداری نیک ارادوں سے کئے جائیں تو بلاشبہ سچائی اور ایمانداری سے پیدا ہونے والی صورتحال ہی عوامی بہبود کے کام آئے گی۔

نئی دہلی میں منعقدہ عالمی یوم سیول سرویسس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم مودی نے زور دے کر کہا کہ بعض اوقات حالات بگڑ جاتے ہیں لیکن آپ لوگ فکر نہ کریں میں آپ کے ساتھ ہوں۔ اب عوامی بہبود کے کام انجام دینے میں کامیاب ہوں تو دنیا میں کوئی بھی آپ پر انگلی نہیں اٹھائے گا۔ انہوں نے اس جانب توجہ دلائی کہ بعض بیوروکریٹس 3 سی ایس کا حوالہ دیتے ہیں جیسے سی اے جی، سی بی آئی اور سی وی سی یہ ادارے فیصلہ سازی کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ بلاشبہ پالیسی کو مفلوج بتنانے میں یہی خیال حائل رہتا ہے۔ انہوں نے سیول سرونٹس پر زور دیا کہ وہ اس حیال سے باہر نکل آئیں اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر فیصلے کریں اور اپنے فیصلوں کا موازنہ کریں۔ اس کے بعد ہی ملک میں کوئی بھی تبدیلی آئے گی ورنہ یہ ملک تبدیلی کے لیے ترستا رہ جائے گا اور ہم بھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھ سکیں گے۔ اگر ہم سی اے جی + I کے تناظر میں دیکھیں تو پھر تبدیلیاں رونما ہوں گی۔ وزیراعظم مودی نے اپنی حکومت کے فیصلوں اور اس کے نتائج کی جانب توجہ دلائی انہوں نے بیوروکریٹس پر یہ بھی زور دیا کہ وہ عوام کو روپیش مسائل کا حل نکالنے کے لیے اپنی سوچ کے دائرہ سے باہر نکلیں۔ یہ بہت ہی اچھا ہوگا کہ آپ اپنے کام کے انداز کو بدل دیں اور منفی سوچ سے باہر نکلیں کیوں کہ بیوروکریسی میں تکبر و غرور کا مسئلہ دیرینہ ہے لیکن عوام کے اندر ان کے تعلق سے کوئی خراب رائے پانی نہیں جاتی پھر بھی آخر وجہ کیا ہے کہ یہ بیوروکریٹس کے تعلق سے ان کا احساس مختلف ہوتا ہے۔ اس پر خود احتسابی ضروری ہے۔ سوشل میڈیا اس وقت سب سے زیادہ کارآمد ہوگا جب اسے حکومت کے اچھے کاموں کو عوام تک پہنچانے کے لیے استعمال کیا جائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT