Wednesday , June 28 2017
Home / مذہبی صفحہ / اصلی خیر خواہی

اصلی خیر خواہی

دیانتدار، بے لوث اور خوف خدا سے لبریز ہم نشینوں کا میسر آجانا ایک فرمانروا کی خوش بختی کی دلیل ہے، کیونکہ ایسے لوگ اس کے حقیقی خیر خواہ ہوتے ہیں اور وہ اُسے صدق و صواب کی راہ پر گامزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لحاظ سے عباسی حکمراں ہارون رشید واقعی خوش قسمت تھا کہ اُسے اس قسم کے ارباب کار اور ہم نشین ملے تھے، جن میں حضرت امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سب سے ممتاز تھے۔ انھوں نے اصول حکمرانی اور مالی نظام کی اصلاح پر ہارون رشید کی فرمائش کے پیش نظر ’’کتاب الخراج‘‘ جیسی نایاب اور زندہ جاوید کتاب مرتب کی۔ اس کتاب میں وہ ہارون رشید کو لکھتے ہیں:’’آپ نے رعایا سے ظلم و ستم کو دُور کرنے اور ان کی فلاح و بہبود اور مالیات کی اصلاح کے لئے مجھے ایک جامع کتاب لکھنے کا حکم دیا ہے، اللہ تعالیٰ آپ کو ان امور کی ادائیگی کی توفق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد کردی ہے، جس کا ثواب بھی بہت بڑا ہے، جب کہ کوتاہی کی صورت میں عذاب بھی نہایت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس امت کا ذمہ دار بنایا ہے اور اس کے ذریعہ آپ کی آزمائش کی ہے۔ ہر وہ عمارت جس کی بنیاد خوف خدا پر نہ ہو، قائم نہیں رہ سکتی، اللہ تعالی ایسی عمارت کو اس کے بنانے والے پر ہی گرادیتا ہے، اس لئے اس امت اور آپ کی رعیت کی جو ذمہ داری آپ (ہارون رشید) کے سپرد کی گئی ہے، اسے ضائع نہ کریں اور آج کا کام کل پر نہ ٹالیں۔ نیک عمل میں اللہ تعالی زور پیدا فرمادیتا ہے۔ اگر آج کا کام آپ نے کل پر ٹال دیا تو اسے ضائع کردیا۔ موت انسان کی آرزوؤں سے بھی زیادہ قریب ہے، عمل میں جلدی کریں، کیونکہ موت کے بعد عمل کا موقع نہیں ملے گا۔ اللہ تعالی نے اپنی مخلوق آپ کے سپرد کی ہے، لہذا ان کے درمیان عدل و انصاف قائم کریں۔ خدا کا خوف ہر وقت پیش نظر رہے، مالی معاملات کی جانچ پڑتال اور خراج کی وصولی کے لئے سمجھدار، صاحب علم اور دیانتدار افراد کو مقرر کریں، جو صالح اور پاکدامن ہوں۔ سرکاری عملہ اور وصولی کا کام انجام دینے والے ظالم اور لوگوں کی تحقیر و تذلیل کرنے والے نہ ہوں، کیونکہ ایسے لوگوں کی ہر زیادتی آپ کی طرف سے زیادتی تصور ہوگی اور ماتحتوں کے لئے ظلم و ستم اور بے ایمانی کا دروازہ کھولے گی‘‘۔واضح رہے کہ حضرت امام ابویوسف رحمۃ اللہ علیہ عباسی سلطنت کے پہلے دَور کے مشہور قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) تھے۔ آپ کو اپنے منصف (جج) ہونے کی ذمہ داریوں کا احساس اتنا زیادہ تھا کہاپنی زندگی کے آخری لمحوں میں آپ نے یہ دعا مانگی تھی:’’اے خدا! تو جانتا ہے کہ میں نے کسی مقدمہ میں کبھی کسی کی امارت، وجاہت اور سفارش کو ترجیح نہیں دی، کسی سے ذاتی انتقام نہیں لیا اور عدل و انصاف کے قیام میں کوئی کوتاہی نہیں کی۔ اے میرے مالک! اگر اس پر بھی مجھ سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہو تو تیری بخشش و رحمت کا امیدوار ہوں‘‘۔       (تاریخ اسلام سے اقتباس)

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT