Monday , June 26 2017
Home / شہر کی خبریں / اصلی 2000 کے نوٹ سے قبل نقلی نوٹ مارکٹ میں

اصلی 2000 کے نوٹ سے قبل نقلی نوٹ مارکٹ میں

حیدرآباد۔23نومبر(سیاست نیوز) حکومت نے کرنسی تنسیخ کے ذریعہ ملک میں چلائی جانے والی نقلی نوٹوں کے خاتمہ کو یقینی بنانے کا اعلان کیا تھا لیکن کیا اس مقصد میں کامیابی حاصل ہوئی؟ 2000کے نئے نوٹ بڑی مقدار میں پکڑے جانے کے بعد حکومت کا یہ دعوی بھی کھوکھلا ثابت ہونے لگا ہے۔ کالے دھن کو نکالنے کے علاوہ ملک سے جعلی نوٹوں کے خاتمہ کے اعلان سے کچھ لوگوں کو حکومت کا یہ اقدام درست لگ رہا تھا لیکن اڑیسہ میں 4لاکھ مالیت کے نئے 2000کے جعلی کرنسی نوٹ ضبط کئے جانے اور کشمیر میں جنگجوؤں کے ساتھ مد بھیڑ کے دوران جنگجو کے پاس سے 2000کے نئے نوٹ برآمد ہونے کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ حکومت کو جعلی کرنسی کی روک اور ملک میں دہشت پھیلانے والوں تک ان نوٹوں کی رسائی پر روک لگانے میں کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہوپائی ہے۔ 10نومبر کو 2000کے نئے کرنسی نوٹ کی اجرائی کے اندرون دو یوم حیدرآباد کے نواحی علاقہ میں 2000کی نئی کرنسی پکڑی گئی اور چند یوم قبل گجرات کے علاقہ احمدآباد میں جعلی نوٹ کے ذریعہ خریدی کا واقعہ سامنے آیا اور اب گذشتہ یوم 4لاکھ مالیت کے 2000کے کرنسی نوٹوں کے اڑیسہ میں پکڑے جانے کے بعد تاجرین میں اس نئی نوٹ کے متعلق خوف پیدا ہو چکا ہے۔ 2000کے نوٹوں کے چلر کی عدم دستیابی مسئلہ بنی ہوئی تھی اب یہ مسئلہ تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے 2000کے نوٹ کے حقیقی ہونے کے متعلق سوالات کھڑے کرنے لگا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے 1000اور500کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے بعد یہ سمجھا جانے لگا تھا کہ ملک میں چلائی جانے والی جعلی کرنسی ختم ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہو پایا بلکہ اندرون دو ہفتہ بھاری تعداد میں جعلی کرنسی کے پکڑے جانے کے بعد کئی سوالات پیدا ہونے لگے ہیں۔آر بی آئی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ملک میں جو نئے 2000کے نوٹ جاری کئے گئے ہیں ان کی جعلی نوٹ تیار کرنا آسان نہیں ہے لیکن جو نوٹ ابھی پکڑے جا رہے ہیں وہ کلر زیراکس یا اسکیان کرتے ہوئے تیار کردہ نوٹ ہیں جو 2000کے نوٹوں کا چلن عام نہ ہونے کے سبب بازار میں چلانے میں بعض لوگ کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔ نوٹ کی طباعت اور اس کی سیکیوریٹی کے متعلق آر بی آئی حکام پوری طرح مطمئن ہیں لیکن ان کا یہ اطمینان تیزی سے ختم ہوتا جا رہا ہے کیونکہ 2000کی نوٹ کے تیزی سے چلن کو عام کرنے میں ہونے والی دشواریاں ہی دیہی علاقوں اور ناخواندہ افراد کے درمیان جعلی 2000کی کرنسی پھیلانے کا موجب بن رہی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک بھر میں ایسے مقامات پر جہاں 2000کی کرنسی کی مانگ زیادہ ہے اور مانگ کے مطابق سربراہی نہیں ہو رہی ہے ان علاقوں میں جعلی نوٹوں کا بازار گرم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو کہ ملک کی معیشت کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ اب تک جو جعلی کرنسی پکڑی گئی ہے وہ سب کلر زیراکس یا اسکیان کردہ کلر پرنٹ ہی ہیں لیکن اگر ان معاملات کو نظر انداز کیا جاتا رہے تو عین ممکن ہے کہ بہت جلد جعلی طبع شدہ 2000کے کرنسی نوٹ بھی بازار میں عام ہوجائیں کیونکہ عوام ابھی ان نوٹوں کی اصلیت کی پہچان کرنے سے قاصر ہیں اور نئی کرنسی نوٹ کا کاغذ بھی عام کاغذ کی طرح نظر آنے کے سبب عوام جلد اس نئی کرنسی کے متعلق دھوکہ کھا رہے ہیں۔ بینک عہدیداروں کا کہنا ہے کہ جعلی کرنسی کی پہچان کرنے کیلئے 2000کی نئی نوٹ میں کئی چیزیں موجود ہیں لیکن تاحال ان کی تشہیر نہیں ہو پائی ہے سیکیوریٹی کے اعتبار سے نئی کرنسی کافی مستحکم ہے لیکن جب تک اس کے سیکیوریٹی امور کے متعلق عوام کو واقف نہیں کروایا جاتا اور نوٹوں کا چلن عام نہیں ہو جاتا اس وقت تک نوٹ کی نقل کو روکا جانا انتہائی مشکل ہوگا کیونکہ یہ جعلی نوٹ بینک تک پہنچنے پر ہی انہیں تلف کیا جا سکتا ہے جبکہ دیہی علاقوں میں ان نوٹوں کا چلن بہ آسانی ممکن ہوتا نظر آرہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT