Thursday , August 24 2017
Home / سیاسیات / اصل جنتادل یو ہونے شرد یادو گروپ کا ادعا

اصل جنتادل یو ہونے شرد یادو گروپ کا ادعا

۔14 ریاستی یونٹوں کی تائید کے حصول کی کوشش۔ پارٹی کو خیرباد کہنے سے انکار

نئی دہلی 13 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) سینئر جنتادل یو لیڈر شرد یادو اپنے گروپ کو اصل اور حقیقی پارٹی قرار دینے کی تیاری کر رہے ہیں اور ان کا ادعا ہے کہ پارٹی کی کئی ریاستی یونٹیں ان کے ساتھ ہیں جبکہ پارٹی صدر نتیش کمار کی تائید کرنے والے صرف بہار تک محدود ہیں۔ شرد یادو کی قیادت والے گروپ میں دو ارکان راجیہ سبھا اور کچھ قومی سطح کے عہدیداران شامل ہیں۔ اس گروپ نے ملک کی 14 ریاستی یونٹوں کے صدور سے تائیدی مکتوب حاصل کرنے کی تیاری کرلی ہے ۔ شرد یادو کے قریبی رفیق ارون شریواستو نے یہ بات بتائی ۔ نتیش کمار نے حال ہی میں شرد یادو کو پارٹی کے جنرل سکریٹری کے عہدہ سے بیدخل کردیا ہے ۔ نتیش کمار نے یہ ادعا کیا تھا کہ جنتادل یو صرف بہار میں مسلمہ ہے ۔ ان کے اس ریمارک کا مقصد دوسری ریاستی یونٹوں کی تائید حاصل کرنے شرد یادو کی کوششوں کو ناکام بنانا تھا ۔ شریواستو نے ادعا کیا کہ پارٹی کا ہمیشہ ہی قومی اثر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شرد یادو ہی اس پارٹی کے صدر تھے جب نتیش کمار نے اپنی سمتا پارٹی کو اس میں ضم کردیا تھا ۔ انہوں نے پی ٹی آئی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم پارٹی نہیں چھوڑیں گے ۔ نتیش کمار نے خود کہا ہے کہ یہ پارٹی بہار کے باہر موجود نہیں ہے اس لئے انہیں چاہے کہ و ہ بہار کیلئے دوسری جماعت قائم کریں۔ انہیں جنتادل یو پر قبضہ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے جو ہمیشہ قومی سطح پر موجود رہی ہے ۔ سوشلسٹ نظریات کی جماعتوں پر مشتمل جنتا پریوار میں پارٹیوں کے انضمام اور پھوٹ کی روایت رہی ہے ۔ شرد یادو کو پارٹی ارکان اسمبلی و پارلیمنٹ کی بہت کم تائید حاصل رہی ہے جن کی اکثریت بہار سے تلعق رکھتی ہے تاہم یاد کا ماننا ہے کہ وہ پارٹی پر اپنے ادعا کے تعلق سے جدوجہد کرسکتے ہیں اور پارٹی میں ایک پھوٹ پیدا کرسکتے ہیں۔ ماضی میں اصل جنتادل میں بھی اس طرح کی پھوٹ کئی مرتبہ ہوئی ہے ۔ راجیہ سبھا کے دو ارکان علی انور اور ایم پی وریندر کمار ‘ نتیش کمار کے خلاف جدوجہد میں شرد یادو کے ساتھ ہیں۔ جنتادل یو نے شرد یادو کو راجیہ سبھا میں پارٹی لیڈر کی ذمہ داریوں سے سبکدوش کردیا ہے ۔ اصل جنتادل یو ہونے شرد یادو کے دعوی کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے نتیش گروپ نے کہا تھا کہ جب وہ دہلی سے آئے تو ان کا خیر مقدم کرنے والے آر جے ڈی کے کارکن اور حامی تھے جے ڈی یو کے نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT