Monday , October 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / اطاعتِ حق اطاعتِ رسولؐ ہی میں مضمر

اطاعتِ حق اطاعتِ رسولؐ ہی میں مضمر

قرآن و حدیث کی روشنی میں صوفیہ کرام نے طریقت میں جس طرح ’صحبت‘ کو لازم قرار دیا ہے ، اس طرح انھوں نے ’اطاعت‘ کو بھی لازم قرار دیا ہے ۔ اُن کے نزدیک حصول فیضان کے لئے اطاعت یعنی بات ماننا بہت ضروری ہے۔وہ واضح طورپر کہتے ہیں مرید کے لئے ضروری ہے کہ وہ پورے انشراحِ قلب کے ساتھ اپنے شیخ یا مربی کی بات مانے اور اس کے حکم کی تعمیل کرے اور اس تعمیلِ حکم میں اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کرے ۔ جو مرید پورے انشراحِ قلب کے ساتھ شیخ کی بات نہیں مانتا اس کو پورا فیض حاصل نہیں ہوتا ، اور جو بے دلی سے بات مانتا ہے اس کو کچھ حاصل نہیں ہوتا ، وہ فیض سے محروم رہتا ہے ۔
یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ پیر یااستاد یا کسی اور بڑے سے بھرپور استفادہ کے لئے ضروری ہے کہ کھلے دل سے اس کی بات مانی جائے اور اس کی اطاعت کی جائے ۔ محققین نے اطاعت اور فرمانبرداری کو تصوف کا خلاصہ قرار دیا ہے ۔ صوفیہ کرام کے نزدیک مجاہدات کی اتنی اہمیت نہیں ہے جتنی اطاعت کی ہے۔ یہ کوئی من گھڑت بات نہیں بلکہ تاریخی اعتبار سے اطاعت کی بنیاد ہمیں انبیائے کرام کی سیرتوں میں واضح طورپر نظر آتی ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی تسلیم و رضا کی مہر تصدیق اس پر ثبت ہے ۔ ہمارے آقا و مولیٰ نبی کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کے حضور بات بات پر صحابہ کرامؓ  کا  سمعنا واطعنا کہنا اس کا بین ثبوت ہے ۔
صحابہ کرامؓ رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی اطاعت ’چوں چرا‘ کے بغیر اس طرح کیوں کرتے تھے ؟ اس لئے کہ وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اﷲ تعالیٰ نے رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی اطاعت کو عین اپنی اطاعت قرار دیا ہے۔ ترجمہ : ’’جس نے رسول کی اطاعت تو اس نے درحقیقت اﷲ ہی کی اطاعت کی ‘‘ (نساء ۴:۸۰)
اس حقیقت کو لفظ’قد‘ سے مؤکد کردیا گیا ہے ، تاکہ کوئی ان دونوں اطاعتوں میں تفریق نہ کرسکے ۔

سورۃ نساء ہی میں اﷲ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی ہے ، ترجمہ : وہ چاہتے ہیں کہ اﷲ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کردیںاور کہتے ہیں کہ ہم بعض کو تو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مانتے ( اس طرح ) وہ کفر و ایمان کے درمیان ایک راہ نکالنا چاہتے ہیں ، یہی لوگ پکے کافر ہیں۔ ( نساء ۴: ۱۵۰، ۱۵۱)  الغرض خدا اور رسول کی اس اطاعت ہی کو بڑی کامیابی قرار دیا گیا ہے ، چنانچہ ارشاد ہے : جس نے اﷲ کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کی ، اس نے بڑی کامیابی حاصل کرلی ۔ (احزاب ۳۳:۷۱)
یہی وجہ ہے کہ تمام مشائخ کرام شریعت ، طریقت اور حقیقت کے تمام مدارج میں اطاعتِ حق کو اطاعتِ رسولؐ ہی میں مضمر سمجھتے ہیں اور اطاعتِ رسولؐ کی مخالفت کرکے اطاعتِ حق کے دعوے کو عین ضلالت و گمراہی قرار دیتے ہیں۔
رسول کریم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی اطاعت کو عین اطاعتِ الٰہی اس لئے قرار دیا گیا ہے کہ انبیائے کرامؑ معصوم ہوتے ہیں ، ان سے کوئی عملی غلطی ہوتی ہے اور نہ ہی اجتہادی ، وہ ہر طرح کی لغزش اور خطا سے پاک ہوتے ہیں ، اس لئے وہ جو کچھ کہتے ہیں وہ مبنی برحق ہوتا ہے ۔
(رسول اکرمؐ ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتے o یہ تو خالص وحی ہے جو ان پر کی جاتی ہے  (نجم ۵۳: ۳، ۴ ) ایک بات یہ بھی اچھی طرح یاد رکھنے کی ہے کہ انبیائے کرامؑ اور ملائکہ ہی معصوم ہوتے ہیں، ان کے علاوہ کوئی اور معصوم نہیں ہوتا ۔ اولیاء اﷲ محفوظ عن الخطا ہوتے ہیں ، معصوم عن الخطا نہیںہوتے ۔ ان دونوں اصطلاحوں میں فرق یہ ہے کہ محفوظ عن الخطا میں امکانِ خطا ہوتا ہے جب کہ معصوم عن الخطا میں امکانِ خطا بالکل نہیں ہوتا ، اس لئے معصوم عن الخطا صرف انبیائے کرام اور ملائکہ ہیں۔

بات عصمت اور معصومیت کی چل پڑی ہے تو انبیاء کرام اور ملائکہ کی عصمتوں کے فرق کو بھی سمجھ لیجئے ۔ فرشتوں میں گناہ کی صلاحیت نہیں ہوتی اسی لئے ان کا معصوم عن الخطا ہونا ان کا کوئی کمال نہیں ہوتا جب کہ انبیائے کرامؑ میں گناہ کی صلاحیت ہوتی ہے ، اس کے باوجود وہ گناہ نہیں کرتے ، اس لئے کہ ان میں خوف خدا اندیشۂ آخرت اس قدر قوی ہوتاہے کہ وہ گناہ کے مرتکب نہیں ہوتے ، لہذا ان کا معصوم عن الخطا ہونا ان کا کمال ہے اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی طرف سے ان کے کردار کی حفاظت کی جاتی ہے اور انھیں معصوم رکھا جاتا ہے ۔
پوچھا جاسکتا ہے کہ گناہ کی صلاحیت کے باوجود انبیاء کرام کو معصوم کیوں رکھا جاتا ہے تو ایک تو یہ کہ وہ اُمت کے لئے نمونہ ہوتے ہیں اگر وہ بے گناہ اور معصوم نہ ہوں تو نمونہ کس طرح بن سکتے ہیں ؟ دوسرے یہ کہ انبیائے کرام کو معصوم رکھ کر اﷲ تعالیٰ نے اُمت پر احسان عظیم فرمایا ہے ۔ فرض کیجئے کہ اگر نبی معصوم نہ ہوتا اور اس میں خطا کا امکان ہوتا تو اُمت کتنی بڑی مصیبت میں مبتلا ہوجاتی ، ہر وقت اور ہر معاملہ میں پیروی اور اتباع کے لئے اس کو پہلے یہ تحقیق کرنا پڑتا کہ نبی نے اپنے عمل میں کہیں کوئی غلطی تو نہیں کی ؟ نبی کا یہ عمل درست ہے بھی یا نہیں ؟ اس طرح اُمت ایک مستقل عذاب میںمبتلا رہتی ، اور ہر معاملہ میں تحقیق ناممکن ہوتی ۔ نبی کومعصوم رکھنے سے ہم کو بڑی سہولت اور آسانی ہوگئی ، ہم کو اب رتی برابر بھی شبہ نہیں ہوتا کہ نبی نے غلطی کی ہوگی ۔ اب ہم آنکھ بند کرکے نبی کی پیروی کرسکتے ہیں۔
ذرا سوچیں تو سہی اﷲ تعالیٰ رحمن و رحیم کا ہم عاجزوں اور ناتوانوں پر کتنا بڑا احسان ہے ۔ ہم اپنے ہر بُنِ مو سے زندگی بھر اس کا شکر کرتے رہیں تو پھر بھی ادا نہ ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT