Tuesday , August 22 2017
Home / مذہبی صفحہ / اطاعت و فرمانبرداری ہی شریعت و طریقت ہے

اطاعت و فرمانبرداری ہی شریعت و طریقت ہے

رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم کی اطاعت عین اﷲ کی اطاعت ہے ۔ کہنے کوتو یہ دو اطاعتیں ہیں لیکن یہ ایک ہی اطاعت ہے کیوں کہ ان دونوں اطاعتوں کا نتیجہ ایک ہی ہے یعنی ان کی جزا ’جنت‘ ہے اور ان سے روگردانی کی سزا ’دوزخ‘ ہے ۔ دیکھئے اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : جو اﷲ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گا اس کو اﷲ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہے گا اور یہ بڑی کامیابی ہے اور جو اﷲ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے گا اور ان کے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے گا ، اسے اﷲ دوزخ میں ڈال دے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لئے ذلیل کردینے والا عذاب ہوگا ۔
دراصل اﷲ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت ہی کا نام ’دین ‘ ہے ۔ گویا بس ان کا حکم ماننا ہی اصل دین ہے ۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ اسی اطاعت کی مختلف شکلیں ہیں جو عبادات کہلاتی ہیں ۔ جب نماز کا حکم ہے تو اس کی تعمیل کا نام عبادت ہے اور جہاں نماز چھوڑنے کا حکم ہے وہاں نمازپڑھنا عبادت نہیں ، گناہ ہے آفتاب کے طلوع و غروب اور زوال کے وقت نماز پڑھنا منع ہے ، اب اگر ان اوقات میں کوئی نماز پڑھتا ہے تو نماز عبادت نہیں، گناہ بن جائے گی ، کیوں کہ یہ حکم کی خلاف ورزی ہے لہذا معلوم ہوا کہ اصل چیز اطاعت ہے ۔ عید کے دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے ، اگر کسی نے اس حکم کی خلاف ورزی کرکے روزہ رکھ لیا تو وہ روزہ عبادت نہیں ، گناہ ہوگا ،اس پر ثواب نہیں عذاب ہوگا ۔ یہی حال اﷲ اور رسولؐ کے ہر حکم ہے ۔ اسلام کے معنی کیا ہے ؟ گردن نہادن یعنی گردن جھکادینا ، حکم کی تعمیل کرنا ، یہی اسلام ہے اور یہ اطاعت و فرمانبرداری ہی شریعت اور طریقت کی روح ہے ۔
اﷲ اور رسولؐ کی اطاعت کو سمجھ لینے کے بعد اب آپ ایک اور اطاعت کو سمجھ لیں۔ حکم صرف ان دو اطاعتوں کا ہی نہیں ہے بلکہ ایک تیسری اطاعت بھی ہے جس کا حکم دیا گیا ہے ۔ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اے ایمان والو ! اﷲ کی اطاعت کرو اور رسولؐ کی اطاعت کرو اور صاحبانِ امر کی بھی ۔(نساء ۴:۵۹)
یہاں تین اطاعت کا واضح حکم ہے ، ایک اﷲ کی ، دوسرے رسول اﷲ ﷺ کی اور تیسری صاحبان امر کی ۔ یہ ’صاحبان امر‘ کون ہے ؟
مفسرین نے وضاحت کی ہے کہ اس سے مراد : مسلمان حکمراں ، ارباب حل و عقد ، ذمہ دارانِ معاملہ ، سربراہان کار، اربابِ علم و بصیرت وغیرہ ہیں۔ ’’اولی الامر‘‘ کے الفاظ میں ان تمام مُرادات کی گنجائش ہے اور صاحبانِ امر سے یہ سب ہی مراد ہیں۔ عوام اور رعیت کے لئے مسلمان حکمراں ، اولی الامر ہیں ۔ اہلِ معاملہ کے لئے ارباب حل و عقد اولی الامر ہیں، بیویوں کے ان کے شوہر اولی الامر ہیں، مریدوں کے لئے ان کے مرشد اور پیر اولی الامر ہیں۔
یہ تیسری اطاعت ، اﷲ اور رسول ؐ کی اطاعت کے ساتھ مشروط ہے اور شرط یہ ہے کہ اولی الامر کی اطاعت ، اﷲ اور رسولؐ کی معصیت اور نافرمانی میں نہ ہو ، یعنی اگر اولی الامر کسی ایسی بات کا حکم دیں جو اﷲ کے حکم کے خلاف ہو تو پھر وہاں اولی الامر کی اطاعت ختم ہوجائے گی ۔ اس بارے میں رسول اکرم ﷺ کا ارشاد ہے : ’’خالق کی معصیت میں کسی مخلوق کی کوئی اطاعت نہیں ‘‘۔ لہذا اولی الامر کی اطاعت کسی ایسے معاملے میں ہرگز جائز نہیں جس سے اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی لازم آتی ہو ۔
رسول اکرم صلی اﷲ علیہ و آلہٖ و سلم چونکہ معصوم ہیں اس لئے آپ کی اطاعت غیرمشروط ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : رسول اﷲ ﷺ تمہیں جو ( حکم ) دیں ، وہ لے لو ( یعنی اس کی تعمیل کرو) اور جس چیز سے روکیں، اس سے رُک جاؤ ۔ (سورۃ الحشر ۵۹:۷)
حقیقت تو یہ ہے کہ رسول بھیجے جاتے ہی اس لئے ہیں کہ ان کی اطاعت کی جائے ، ان کے احکام کی تعمیل کی جائے ، ان کی بات مانی جاے ، جیسا کہ ارشاد ہے : اور ہم نے کوئی رسول اس کے سوا کسی اور مقصد کے لئے نہیں بھیجا کہ اﷲ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے ۔ (نساء ۴:۶۴)
اس کے برخلاف اولی الامر چونکہ معصوم نہیں ہوتے ، ان سے غلطی اور خطا کا امکان رہتا ہے۔ اس لئے ان کی اطاعت مشروط رکھی گئی ہے ۔ خدا اور رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ ۔ اس بات کاو اضح اشارہ خود آیت کریمہ میں موجود ہے ۔ أَطِیْعُواْ کا لفظ اﷲ کے ساتھ بھی ہے اور رسول کے ساتھ بھی ہے، لیکن اولی الامر کے ساتھ  أَطِیْعُواْ  کا لفظ نہیں ہے بلکہ صرف حرف عطف واو کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اولی الامر کی اطاعت مستقل بالذات اور ، مطلقاً نہیں ہے بلکہ اﷲ اور رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ وابستہ ہے ، چنانچہ قرآن و حدیث اور عقل کی روشنی میں فقہاء کا متفق علیہ فتویٰ ہے کہ خلاف شرع کاموں میں اولی الامر ( صاحبانِ امر) کی اطاعت جائز نہیں۔
صوفیہ کرام نے شیخ ، مربی یا پیر کی اطاعت کو جو لازم قرار دیا ہے وہ مندرجۂ بالا تصریحات کی روشنی ہی میں واحب ہے اور اس حد تک واجب ہے کہ وہ فرماتے ہیں : شیخ کے سامنے اپنی رائے کو بالکل فنا کرکے ٹھیک اسی طرح عمل کیا جائے جس طرح ایک بیمار اپنے آپ کو کسی معالج حکیم یا ڈاکٹر کے حوالے کرکے اس کی تشخیص اور تجویز پر عمل کرتا ہے ۔ چنانچہ امام غزالیؒ نے بھی لکھا ہے اصلاح کا بہترین طریقہ شیخ کی اطاعت ہے ۔ اﷲ ہم سب کو اطاعت اور اس کے فلسفے کو سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

TOPPOPULARRECENT